Wednesday , February 22 2017
what-side-is-you-appendix-on_1

ایک عرصے تک بے کار سمجھا جانے والا ’اپینڈکس‘ بہت کارآمد نکلا

ایریزونا: 

ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے ایک عرصے تک بے مصرف قرار دییے جانے والا اپینڈکس بہت کارآمد ہے اور اس میں جسم کے لیے مفید بیکٹیریا کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔

اپینڈکس  انسان کی بڑی اور چھوٹی آنت کے سنگم پر موجود ہوتا ہے اور اوسطاً اس کی لمبائی 9 سینٹی میٹر ہوتی ہے لیکن یہ 2 سے 20 سینٹی میٹر تک بھی ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا میں پتے کے بعد آپریشن کے ذریعے سب سے ذیادہ آپریشن کے ذریعے نکالے جانے والا عضو غریب اپینڈکس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سوزش پیدا ہوجاتی ہے اور اپینڈیکس پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

لیکن اب ماہرین کہتے ہیں کہ اپینڈکس جسم کے لیے مفید بیکٹیریا کا ایک گڑھ ہوتا ہے جو پورے انسان پر مفید اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اپینڈکس ایک چھوٹی سی تھیلی کی مانند ہوتا ہے جو لمفی ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں کے علاوہ بھی دودھ پلانے والے 500 ممالیوں میں اپینڈکس ہوتا ہے جن میں خرگوش اور بن مانس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اب تک ماہرین اس کی معقول وجہ بتانے سے قاصر رہے ہیں۔

ایرویزنا کالج آف آسٹیوپیتھک سے وابستہ ڈاکٹر ہیدر اسمتھ نے اپینڈکس کے حامل 533 ممالیوں کا مطالعہ کیا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپینڈکس میں تبدیلی نوٹ کی ہے لیکن کسی بھی جاندار میں یہ غائب نہیں ہوا۔ ڈاکٹر اسمتھ نے کہا کہ اس میں لمف ٹشو ہوتے ہیں جو جسمانی امنیاتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس طرح اپینڈکس اہم ترین بیکٹیریا کو گودام ہوتا ہے اور انسان کو تندرست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔