senate

بچوں پر تشدد کے بل 2016 ”کی متفقہ طور پر منظوری

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے بچوں پر تشدد کے روک تھام کے بل ” بچوں پر تشدد کے بل 2016 ”کی متفقہ طور پر منظوری دیدی، بل کو سکولوں کے قوائدو ضوابط میں شامل کیا جائے اور سکولوں کے نوٹس بورڈ پر بھی آویزاں کیا جانا چاہیے ، بچوں پر تشدد سے ہڈی وغیرہ ٹوٹنے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ اور ایک سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔بدھ کو کمیٹی کا اجلاس کنوینر کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی ارکان سینیٹرزسید شبلی فراز ، ڈاکٹر جہانیز ب جمال دینی بل کے محرک سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور وزارت قانون و انصاف کے افسران نے شرکت کی۔ کنونیئر کمیٹی کرنل (ر) سید طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ بہت اچھا بل ہے۔ معصوم بچوں کی تربیت اور حفاظت لازمی ہے۔ بہت اچھے اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی ظلم اور تشدد سے بچوں کی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔ جدید طریقوں کے ذریعے بچوں کو علم کی دولت سے نوازا جانا چاہیے۔ اور کہا کہ بل کی منظوری مثال بنا کر صوبائی اسمبلیوں سے اس طرح کے بل کی منظوری ہونی چاہیے۔ سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا کہ بعض اساتذہ کی دہشت کی وجہ سے بچوں کی شخصیت متاثر ہوتی ہے۔ قانون سازی کرنا ہی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ قانون پر عمل درآمد بھی لازم ہونا چاہیے۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانیز ب جمال دینی نے کہا کہ بدقسمتی سے نفسیات پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں بچوں کی شخصیت کو اْجاگر کرنے کیلئے خواتین اساتذہ پر زیادہ توجہ ہے۔ ہمیں بھی تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ زیادہ سے زیادہ لانی چاہیے۔ محرک سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ بچوں پر تشدد کے واقعات بہت زیادہ ہوتے ہیں پیار محبت کے ذریعے بچوں کو بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔ کمیٹی سے منظور شدہ بل کو سکولوں کے قوائدو ضوابط میں بھی شامل کیا جائے۔ اور سکولوں کے نوٹس بورڈ پر بھی آویزاں کیا جانا چاہیے۔ محرک سینیٹر نے کہا کہ بچوں پر تشدد سے ہڈی وغیرہ ٹوٹنے پر 50 ہزار روپے تک جرمانہ اور ایک سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔