geogical-survey

جیولوجیکل سروے ,نئی کرپشن منظر عام

ڈائریکٹر جنرل جیولوجیکل سروے آف پاکستان کی نئی کرپشن منظر عام پر آئی ہے جس میں گورنمنٹ آف پاکستان کو لاکھوں روپے کاٹیکہ لگایا گیا ہے۔ موجودہ ڈی جی ڈاکٹر عمران خان نے خودہ ساختہ کمیٹی اور اپنے اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے جی ایس پی سٹاف کالونی میں ایک لگڑری اپارٹمنٹ اپنے نام الاٹ کیا ہوا ہے جس کا وہ ایک معمولی سا نذرانہ 50 روپے پر ڈے گورنمنٹ آف پاکستان کو ادا کر رہے ہیں۔ جس پر دل خون کے آنسو رو سکتا ہے اور کچھ نہیں دیکھا جائے تو پاکستان میں کسی بھی لاری اڈے اور سرائے پر ایک غریب آدمی کو ایک چارپائی 50روپے میں نہیں ملتی۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل گذشتہ 9سال سے جس لگژری اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں اس میں اے سی، گیزر ، ایل ای ڈی ، ایک نائب قاصد ، کک اور 2سیکورٹی گارڈ شامل ہیں۔ موصوف کرپٹ ڈی جی نے خود ساختہ کمیٹی کے ذریعے صرف 50پر ڈے اپنی آسانی کے لئے بنائی۔اور اسے گیسٹ ہاؤس قرار دے دیا گیا۔ اگر گیسٹ ہاؤس تھا تو اس دوران کبھی کسی بھی دوسرے آفیسر کو یہ اپارٹمنٹ الاٹ نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے ٹورز پر یہاں رہائش پذیر ہو سکتا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گذشتہ 9سالوں کے دوران فیڈرل آڈٹ نے آج تک اس کرپشن پر کوئی پیرا نہیں لگایا۔ موجودہ ڈی جی اس سے پہلے اسلام آباد میں ٹی اے ڈی اے بھی وصول کر رہے تھے اور ساتھ ہی اپنے اسلام آباد گھر کی ہائرنگ بھی جس پر آڈٹ نے ان کی ہائرنگ کینسل کر دی اور کہاکہ ان کا گھر اسلام آباد میں اس لئے وہ صرف ڈے اے لے سکتے ہیں لیکن ہائرنگ نہیں۔ اس اپارٹمنٹ کا کرایہ فیڈرل لاج کے مطابق کم از کم 1500 سے2000ہزار روپے ہے جس کے مطابق ڈائریکٹرجنرل نے گورنمنٹ آف پاکستان کو 9سالوں میں 65لاکھ روپے کی کرپشن کی ہے۔ اگر فیڈرل لاج کے رول کے مطابق نہ دیکھا جائے تو ڈی جی کا کنوینس الاؤنس اور ہاؤس رینٹ کی کٹوتی کی جاتی ہے جس کے مطابق 6000 ہاؤس رینٹ 6 لاکھ کم از بنتا ہے۔ کالونی میں رہائش پذیر تمام ملازمین اپنے تنخواہ سے ہاؤس رینٹ کٹوا رہے ہیں لیکن ڈی جی کرپٹ ذہنیت رکھتے ہوئے اپنا ہاؤس رینٹ نہیں کٹوا رہے بلکہ 50روپے پر ڈے کٹوتی کر رہے ہیں اور وہ بھی ان دنوں کے لئے جب کوئٹہ ٹور پر آتے ہیں۔ اس سے پہلے ڈی جی موصوف لاہور آفس میں بھی رہائش پذیر رہے جس میں آڈٹ نے ان پر تقریباً 11 لاکھ روپے کا آڈٹ پیرا لگایا لیکن لین دین کے ذریعہ اس پیرا کو ڈراپ کر دیا گیا اور موصوف وہاں سے بچ کر نکل گئے اور اس کے بعد اب کوئٹہ میں ڈی جی بن کر بھی انہوں نے 50 روپے ہی پر ڈے ادا کیا۔ موجودہ ڈی جی کی کرپشن کو دیکھا جائے تو بلوچستان میں معدنیات کی تلاش کیلئے رکھے گئے کروڑوں روپے ٹی اے ڈی اے کھا چکے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چیف آکاؤنٹس آفیسر نے بھی اس پر کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی آڈٹ نے اپنے گذشتہ آڈٹ میں اس پر کوئی کارروائی کی۔وفاقی وزیر پٹرولیم ، سیکرٹری پٹرولیم ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان ، نیب ، ایف آئی اے حکام اس کرپشن کا فوری نوٹس لے اور متعلقہ ڈی جی کو فوری طور پر معطل کرکے اس کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کی کیونکہ ہمارے ملک میں ایک غریب آدمی کے خلاف تو فوری طور پر کمیٹی بنا دی جاتی لیکن کسی بڑے اور کرپٹ آفیسر کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *