بنیادی صفحہ -> علاقائی کی خبریں -> حکومت دوسروں کو کیا این آر او دے گی، جبکہ خود ان کے لوگ نیب زدہ ہیں
این آر او

حکومت دوسروں کو کیا این آر او دے گی، جبکہ خود ان کے لوگ نیب زدہ ہیں

لاہور (تجزیہ نگار) آجکل ملک بھر میں این آر او کے حوالے سے بہت شور ہے جب سے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دےنگے اس پر تمام سےاسی جماعتیں مطالبہ کررہی ہیں کہ بتایا جائے کس نے این آر او مانگا جبکہ حکومت کوئی جواب نہیں دے رہی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ پوچھئے کون این آر او نہیں مانگ رہا۔ اس سلسلے میں طلال چودھری نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت خود ایسے بہت سے لوگوں کو این آر او دے چکی ہے جو اس وقت وفاقی اور صوبائی کابینہ میں موجود ہیں جن میں پرویز خٹک، بابر اعوان، زلفی بخاری، عبدالعلیم خان قابل ذکر ہیں۔ آےئے دیکھتے ہیں کہ این آر او کیا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، قومی مفاہمتی آرڈیننس یا این آر او (National Reconciliation Ordinance) ایک صدارتی آرڈیننس ہے جسے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007 میں جاری کیا۔ اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صدر مملکت نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 1986 سے لے کر 12 اکتوبر 1999 کے درمیان سیاسی بنیادوں پر درج کیے گئے تھے۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد افراد کے خلاف بدعنوانی اور دیگر سنگین جرائم جن میں قتل، اقدام قتل اور بلوے کے ملزم بھی شامل تھے، بیک جنبش قلم ختم کر دیے گئے۔ تاہم دو برس بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس آرڈیننس کو مفاد عامہ اور آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے۔ بنیادی طور پر یہ قانون اس وقت پیلز پارٹی کی جلا وطن سربراہ بینظیر بھٹو کی پاکستان اور پاکستانی سیاست میں واپسی کو ممکن بنانے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور ان کی جماعت کے دیگر سینکڑوں رہنماو¿ں اور کارکنوںجن میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی شامل تھے کے خلاف 1986 اور 1999 کے درمیان ڈھیروں مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان مقدمات کی موجودگی میں بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھی وطن واپس نہیں آ سکتے تھے جبکہ جنرل پرویز مشرف انہیں ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے تاکہ ملک اور اپنے آپ کو بڑے سیاسی بحران اور بین الاقوامی دباو¿ سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں اور کارکنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات خارج کر دیے گئے۔ اس قانون سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ بنتی ہے جن میں اس وقت کی متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماو¿ں اور کارکنوں کے خلاف بھی بڑی تعداد میں مقدمات ختم ہو گئے تھے۔ اس جماعت کے سینکڑوں کارکن اور رہنما قتل، بھتہ خوری اور بلوے کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ جن دیگر اہم افراد کے خلاف اس این آر او کے تحت مقدمات ختم کیے گئے ان میں بینظیر بھٹو کے سسر حاکم علی زرداری، ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین، سابق گورنر عشرت العباد، فارق ستار، مولانا فضل الرحمٰن، رحمٰن ملک، حسین حقانی، سلمان فاروقی وغیرہ شامل تھے۔ سپریم کورٹ سے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے لیکن اس وقت بینظیر بھٹو اس دنیا میں نہیں تھیں اور آصف زرداری صدر مملکت ہونے کی وجہ سے ان مقدمات سے استثناٰ حاصل ہو چکا تھا۔ بعض دیگر افراد جن میں اس وقت کے بعض وزرا بھی شامل تھے مقدمات کھلنے کی وجہ سے کچھ پریشان تو ہوئے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔ ایسا ممکن نہیں ہے۔ عدالت سے مسترد ہونے کے بعد این آر او کا قصہ تو نو سال پہلے ختم ہو چکا ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں این آر او ایک سیاسی اصطلاح کے طور پر ہی استعمال ہو سکتا ہے۔ عدالت میں چونکہ اس طرح کے آرڈیننس کو امتیازی قرار دیا جا چکا ہے جو ایک نظیر کی صورت میں پاکستان کی قانون کی کتابوں میں موجود ہے تو اس طرح کے قانون یا آرڈیننس کو دوبارہ جاری کرنا بھی بےمعنی ہو گا کیونکہ عدالت گزشتہ فیصلے کی روشنی میں این آر او یا اس طرح کے کسی بھی قانون کو فوراً مسترد کر دے گی۔ لہٰذا جب عمران خان یا کوئی اور سیاسی رہنما این آر او کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات یا تحقیقات کو ختم کرنا۔ اس کے لیے صدارتی آرڈیننس یا این آر او ہی واحد طریقہ نہیں ہے۔ حکومت اگر چاہے تو من پسند افراد کو مقدمات سے نکلنے میں مختلف طریقوں سے مدد دے سکتی ہے۔ مثلاً ریاست ان سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی پیروی نہ کرے، ان کی ضمانتوں کی درخواستوں کی مخالفت نہ کرے وغیرہ وغیرہ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*