l_162342_113758_updates

دنیا میں شپ بریکنگ کا دوسرا بڑا مرکز پاکستان ہے

بندرگاہوں و جہاز رانی کے وفاقی وزیر سینیٹر میرحاصل بزنجو نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں شپ بریکنگ پر کوئی قانون موجود ہی نہیں حالانکہ دنیا میں شپ بریکنگ کا دوسرا بڑا مرکز پاکستان ہے شپ بریکنگ پر فیکٹری لاز لاگو ہیں۔ گڈانی کا وفاق سے کوئی تعلق نہیں‘ یہ بلوچستان حکومت کی ملکیت ہے‘ وزارت اس معاملے کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکتی۔ منگل کو ایوان بالا میں سینیٹر کلثوم پروین اور سینیٹر نثار محمد خان کے عوامی اہمیت کے معاملے پر اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر بندرگاہیں و جہاز رانی نے کہا کہ گڈانی میں حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزارت کو ہدایت کی گئی ہے کہ فوری موقع پر کاروائی میں حصہ لیں ۔ ہمارے لوگ سب سے پہلے ہماری وزارت کے لوگ وہاں پہنچے۔ سب سے پہلا آفیشل جو پہنچا وہ بھی میں ہی تھا۔ گڈانی صوبائی حکومت کی پراپرٹی ہے۔ یہ اربوں کھربوں کا کاروبار ہے۔ اور گریڈ سولہ سترہ کے تین افسر وہاں بیٹھے ہیں۔ اتنے کم آفیسرز سے اربوں کھربوں کا کام کنٹرول کرنا کیسے ممکن ہے باقاعدہ قانون سازی جب تک نہیں ہوگی اس کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت اور مرکزی حکومت اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتی البتہ ہم قانون سازی میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ قبل ازیں کلثوم پروین نے کہا کہ گڈانی میں جہاز میں آتشزدگی کے واقعہ کے حوالے سے ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔ سینیٹر نثار محمد خان نے کہا کہ گڈانی میں جو واقعہ پیش آیا ہے اس طرح کے مزید واقعات بھی پیش آنے کا خدشہ ہے کیونکہ کوئی واضح پالیسی اور میکنزم نہیں ہے۔ سینیٹر احمد حسن نے کہا کہ ان حادثات میں سوات اور دیر کے لوگ جاں بحق ہوئے۔ ایسے واقعات میں متاثرین کو امداد فراہم کرنی چاہیے۔گزشتہ روز ایوان میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے ایوان بالا میں مختلف عوامی اہمیت کے معاملات پر بات کی۔ منگل کو ایوان بالا کے اجلاس میں عوامی اہمیت کے معاملے پر بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ ملک میں عام آدمی کو صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وزارت صحت اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے اقدامات کریں تاکہ عام آدمی کو صحت کی سہولیات میسر ہو سکیں۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے ملک میں گیس کے استعمال کی اشیاء انتہائی ناقص ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف گیس ضائع ہوتی ہے بلکہ کئی قیمتی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت خطرناک کام ہے اس حوالے سے متعلقہ محکمے صورتحال کا جائزہ لے کر اقدامات کریں تاکہ ناقص کوالٹی کے سلنڈرز کا خاتمہ ہو سکے۔ سینیٹر میر عتیق شیخ نے ایوان کی توجہ اسلام آباد کے دیہات کی طرف دلائی جہاں عام آدمی کو بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین اور عوامی نمائندے بے اختیار ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کا دوبارہ جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے علاوہ پورے ملک میں عوامی نمائندوں کو اختیارات حاصل نہیں ہیں انہیں اختیارات دیئے جائیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہو سکیں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ گڈانی میں جہاز میں آگ لگنے کے معاملے کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے‘ اس سانحہ کے متاثرین کو ورکرز ویلفیئر فنڈ سے رقم دی جائے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ حکومت آف شور کمپنیوں کے حوالے سے ایمنسٹی سکیم بالکل نہ لائے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کوئٹہ اور بلوچستان میں گیس کے کم پریشر کی طرف ایوان کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ شدید سردی کے باعث گیس میسر نہیں ہے اور لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ نے تجویز کیا کہ اس حوالے سے سینیٹر اشوک کمار کا ایک توجہ دلاؤ نوٹس بدھ کے روز آرہا ہے‘ آپ بھی اس میں شامل ہو جائیں تاکہ اس حوالے سے متعلقہ وزیر سے جواب حاصل کیا جاسکے۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ کراچی سے حکومت کو ٹیکسز کی مد میں 70 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی گنجائش 80 لاکھ افراد کی ہے لیکن اس وقت وہاں اڑھائی کروڑ افراد رہ رہے ہیں جس کے باعث کراچی کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کے لئے خصوصی فنڈز فراہم کرے۔