asif-ali-zerdari

زرداری کی واپسی ، بلاول کے چار نکات اور بے نظیر کی برسی

میر افسر امان
کنوینر کالمسٹ کونسل آف پاکستان
سابق صدر مملکت ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدرآصف علی زرداری صاحب ۲۳؍دسمبر کو ۱۸؍ ماہ بعدوطن واپس آئے ۔ ایئر پورٹ پر ان کا اسقبال کیا گیا۔جیالوں کے نعرے کا پُر جوش جواب دیا۔ سارے سندھ سے کارکنوں کو بلایا گیا تھا۔ بم پروف ٹرک سے خطاب میں انہوں نے مخالفوں پرہولی ہاتھ رکھا۔ فوج کے خلاف تقریر کر کے باہر تشریف لے گئے تھے اس پر اب کوئی بات نہیں کی۔ ہاں یہ ضرور کہا بھاگا نہیں آگیاہوں۔ سیاسی اداکاروں کو بتانا چاہتا ہوں ہماری لاشیں بھی گڑھی خدا بخش میں دفن ہوں گی۔کون اقتدار میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جمہوریت کو آگے بڑھائیں گے۔یہی بڑا انتقام ہے۔ماضی میں کئی طاقتوں نے ہمیں آگے چلنے نہیں دیا۔ نواز شریف خاندان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سرمایادار خاندان لوگوں پر ظلم کر رہا ہے۔عوام کو ٹھیکیداروں کے رحم کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔ مایوسی نہیں امید کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ پیپلز پارٹی دوبارہ ایوانوں میں آئے گی۔ مرکز میں ہمارئی حکومت ہو گی۔ میں ۲۷؍ دسمبر کو بے نظیر کی برسی پر مفصل خطاب کروں گے اور خوشخبریاں دوں گا۔استقبال کے لیے آنے والے کارکن ان کا انتظار کرتے رہے کہ وہ ان کو جلوس کی شکل میں بلاول ہاؤس لے کر جائیں مگر وہ سیکورٹی رسک یا گرفتاری کے خطرے سے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر بلاول ہاؤس پہنچ گئے جس سے کارکنوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران ان کے تجارتی شریک انور مجید کے دفتر پر رینجرز نے چھاپا مارا اور بھاری اسلحہ بر آمند کیا۔ انور مجید کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے گئے۔ ۲؍ محافظ زیر حراست،خواجہ سلمان کو دبئی جانے سے روک دیا گیا۔ جس پر زرداری نے محتاط رویہ اپنایا اور صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے صرف اتنا کہا کہ وزیر داخلہ سے معلوم کیا جائے کہ میرے آنے کے موقعہ پر ہی چھاپا مارنا تھا۔ انہوں نے انور مجید کو اپنا تجارتی شریک بھی مانا۔میڈیا سے مخاطب ہو کرکہا کہ میڈیا مثبت تنقید کرے خبر سے خبر نہ نکالے۔مزار قائد پر حاضری دی ۔اسپتال جا کر اپنے پرانے دوست ڈاکٹر عاصم، جن پر کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں کی عیادت بھی کی۔انہوں نے مسلم لیگ( ق) کے صدر چوہدری شجاعت صاحب سے ملاقات کی سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ زرداری نے شجاعت کی تجویز پر اسلام آباد میں ڈیرے ڈالنے کا فیصلہ بھی کیا۔دونوں نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کا بھی اتفاق کیا۔اپوزیشن کا گرینڈ الائنس بنانے کی بھی باتیں کی۔ ۲۷؍ دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں بے نظیر کی برسی کے موقعہ پر سابق صدر زرداری نے خطاب میں کارکنوں کو یہ خوش خبری سنائی کہ وہ اور بلاو ل لاڑکانہ اور نواب شاہ سے زمنی انتخابات لڑ کر پارلیمنٹ میں آئیں گے۔نواز شریف کو وہ دن یاد رہنا چاہیے کہ جب میں نے پاکستان کا صدر ہوتے ہوئے اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کر دیے تو مجھے مبارک باد کا فون کیا تھا اور کہا تھا کہ جمہوریت کی حفاظت کریں گے۔ اب وہ جمہوریت کو چھوڑ کر مغل شہزادہ سلیم بن گئے ہیں۔ہم مغل شہنشاہ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے۔ نواز شریف نے جمہوریت کا خانہ خراب کر دیا۔ ذرائع یہ معلوم کر رہے ہیں کہ جب باپ بیٹا پارلیمنٹ میں جائیں گے تو حزب اختلاف کاکردار کون ادا کرے گا۔ پیپلز پارٹی کے لوگ زرداری کو پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا اس سے پیپلز پارٹی میں اندرونی کش مکش شروع نہیں ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین تو بلاول ہوں اور پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن زرداری ہوں! پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے توپہلے ہی پنجاب کے زمنی انتخابات میں زرداری کی تصویر نہیں لگائی تھیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں زدراری کی مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے پنجاب سے پیپلز پارٹی کا صفایا ہوا تھا آخر میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی پیپلز پارٹی کا صفایا ہو گیا۔ اب وا پس آکر زرداری بچی کچی پیپلز پارٹی جس کی نمایندگی اب صرف سندھ کے دہی علاقوں تک محدود ہو گئی ہے۔ اس کوبھی اپنی پالیسیوں کی وجہ سے ختم کر کے دم لیں گے۔ شاہ محمود قریشی صاحب کے مطابق پیپلز پارٹی کے اندر اب بھی دو دھڑے بنے ہوئے ہیں۔ ایک دھڑا جس کی قیادت زرداری اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی وغیرہ کے پاس ہے نواز حکومت سے ڈیل کر کے ایان علی اور ڈاکٹر عاصم وغیرہ کے مقدمات ختم کرانا چاہتے ہیں۔ مگر موجودہ حالات میں جب کہ رینجرز نے زرداری کے تجارتی شریک کو بھی گرفتار لر لیا گیا ہے یہ ممکن نہیں۔ جبکہ دوسرا دھڑا جس کی قیادت بلاول اور اعتزازحسن وغیرہ کر رہے ہیں۔وہ نواز شریف کے خلاف سخت مؤقف کے حامی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اس وقت نواز شریف پاناما لیکس کے مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کو پر یشئرجاری رکھنا چاہیے۔ بلاول نے چار مطالبات بھی اس کے لیے رکھے ہوئے تھے۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ ۲۷؍ تک چار مطالبات منظور نہ کیے گئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا۔ لانگ مارچ کی جائے گی۔ مگر نظر آرہا ہے کہ پیپلز پارٹی پر پھر زرداری کی مفاہمتی سوچ غالب آ گئی ہے ۔ اس کا مظاہرہ بلاول کی ۲۷؍ دسمبر کے تقریر سے بھی عیاں ہو رہا ہے ۔ اب بلاول کہہ رہے ہیں کہ میں شہر شہر
جاؤں گا اور نواز حکومت کے خلاف لوگوں کو تیار کروں گا۔ اب گو نواز گو ہو گا۔ کہاں گیا دما دم مست قلندر اور کہاں گئی لانگ مارچ کی دھمکی؟ اس کے بدلے بلاول نے سیاسی لانگ مارچ کی بات کی اور کارکنوں کو تیاری کا حکم جاری کر دیا گیا۔ سینٹرل کمیٹی نے بھی نواز شریف کے خلاف گو نواز گو کی مہم کی منظوری دی۔ گو نواز گو کا مفہوم بھی پیپلز پارٹی کی سپوک پرسن فرحت اللہ بابر نے یہ کہہ کر واضع کر دیا کہ اس کا مقصد نواز شریف کی پالیسیوں کو گو کہنا ہے نہ کہ نواز شریف کی ذات کو۔ کیایہ زرداری کی مفاہمتی کا شاخسانہ نہیں لگتا۔ نواز شریف کے لوگ کہہ رہے ہیں بے نظیر کے قاتلوں کو اپنے آٹھ سا لہ دورِر اقتدار میں نہیں پکڑ سکے تو اب کہاں سے پکڑیں گے۔ پیپلز پارٹی کو بس شہیدوں کی پارٹی بننے کا شوق ہے۔صاحبو! نواز شریف کو پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت الیکشن اصلاحات کواپوزیشن کو ساتھ ملاکر منظور کرے تاکہ آیندہ آنے والے الیکشن پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ نواز حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دے۔سیاسی جماعتیں ۲۰۱۸ء کے الیکشن کی تیاری کریں ۔ اس دوران سپریم کورٹ پاناما لیکس کیس کا جو بھی فیصلہ کرے اس پر عمل درآمند ہونا چاہیے۔ اسی میں ملک کی بھلائی ہے۔ پاکستان زندہ باد۔