judge named in sexual harassment_0_0_0_0_0_0_0_0

سعودی عرب میں بچی پر تشدد میں ملوث والد گرفتار

سعودی عرب میں پولیس نے اپنی شیرخوار بچی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے میں ملوث شخص کو حراست میں لے کراس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حال ہی میں ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ یوٹیوب پر ایک فوٹیج سامنے آئی تھی جس میں ایک شخص کو کم سن بچی کو ایذا پہنچاتے دکھایا گیا تھا۔بچی کی والدہ بھی سامنے آئی ہیں،والدہ جو شامی شہریت رکھتی ہیں کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی شہری سے چار سال قبل شادی کی تھی مگر اس کا شوہر اور اس کے خاندان کے دیگر افراد اس شادی سے کلی طور پر راضی نہیں تھے۔ گھر میں شوہر اور دوسرے افراد کی طرف سے بھی لڑائی جھگڑے اور مار پیٹ روز کا معمول تھی جس پر اس نے تنگ آ کر گھرکے بجائے ہوٹلوں میں رہنا شروع کردیا تھا۔خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر کے دوسری عورتوں کے ساتھ بھی تعلقات تھے جس کے نتیجے میں ان دونوں (میاں بیوی)میں لڑائی رہتی تھی۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے شوہر نے شیر خوار بچی کا اس وقت گلہ گھونٹ کر قتل کرنے کی کوشش کی تھی جب بچی صرف تین ماہ کی تھی۔تشدد کا نشانہ بننے والی بچی کی والدہ ناریمان نے بتایا کہ ایک سال قبل اس نے اپنے شوہر سے الگ اپنی رہائش گاہ کا انتظام کرنے کا مطالبہ کیا کیونکہ گھر کے دیگر افراد ان پر طلاق کے لیے مسلسل دبا ڈال رہے تھے۔ ایک سال تک ہم ہوٹلوں میں خوار ہوتے رہے۔ آخر کار وہ فرار ہوکر مکہ مکرمہ میں اپنے والدین کے گھر آگئی۔ اب شوہر نے اسے مزید تنگ کرنا شروع کردیا۔ شوہر بچی کو مجھ سے لینے کے لیے بار بار مطالبہ کرنے لگا۔ میں نے طلاق کی شرط پر بچی اس کے حوالے کرنے پرآمادگی ظاہر کی تو اس نے ایک کاغذ پر طلاق لکھ دی۔ مگر گھر سے نکلنے کے بعد اس نے میرے والد سے رابطہ کیا اور کہا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اسے (شوہر)سے زبردستی طلاق لی گئی ہے۔ناریمان نے بتایا کہ بچی کی والد نے رجوع کامطالبہ کیا تو میں نے نکاح نامہ پیش کرنے کی شرط پر رضا مندی ظاہر کی تواس نے مجھے فوٹیج دکھائی جس میں بچی پر تشدد کیا جا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ یا تو تم رجوع کرو گی یا بچی کو قتل کردیا جائے گا۔ادھر سعودی وزارت برائے سماجی بہبود کے ترجمان خالد ابا الخلیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے تشدد کا شکار بچی کی والدہ سے ملاقات کے ساتھ ساتھ اس کے شوہر کو حراست میں لے لیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بچی پر تشدد کے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *