swimming-pool

سوئٹزرلینڈ,مردوں سے الگ سوئمنگ پول دینے کی درخواست مسترد

سوئٹزرلینڈ نے یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ای ایچ سی آر) میں دائر ایک مقدمہ جیت لیا جس کے بعد اسکولوں اور کالجوں میں مسلمان لڑکیوں کوعلیحدہ سوئمنگ پول میں نہانے کی اجازت نہیں ہوگی اور انہیں اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ ہی تیراکی کی لازمی تربیت لینا ہوگی۔مسلمان والدین نے پہلے اس رویئے کے خلاف ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کے لیے مخصوص سوئمنگ پول میں تربیت کا مطالبہ کیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے رہائشی ترک نڑاد سوئس والدین نے اپنی بیٹیوں کو تیراکی کی لازمی کلاسوں میں بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی احکامات کے تحت ان کے بچے اس میں شامل ہونے سے قاصر ہیں۔ اس کے بعد تعلیمی افسران نے مسلمان والدین کو خبردار کیا کہ اگر بچیوں کو سوئمنگ پول نہ بھیجا گیا تو پاکستانی ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے، اس کے باوجود ان کی بچیوں نے سوئمنگ کی لازمی کلاس سے اعتراض کیا اور ان پر پاکستانی ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کا جرمانہ کیا گیا۔والدین نے لڑکوں کے ساتھ مسلمان لڑکیوں کی لازمی سوئمنگ کلاسوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جس پر سوئٹزر لینڈ کی مقامی عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی اور اس کے بعد والدین نے 2012 میں سوئزرلینڈ کی وفاقی عدالت سے رجوع کیا۔ اس طرح یہ معاملہ یورپی کورٹ آف ہیومن رائٹس میں پہنچا جہاں مسلمان والدین نے مؤقف اختیار کیا کہ اسکول کی جانب سے ان کی مسلمان بیٹیوں کو لڑکوں کے ساتھ سوئمنگ کی لازمی کلاسوں پر زور دینا اور جرمانہ عائد کرنا انسانی حقوق کے یورپی کنوینشن کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے۔ مسلم والدین کی درخواست کے باوجود ’’ای ایچ سی آر‘‘ نے بھی یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مذہبی آزادی کی کوئی خلاف ورزی ظاہر نہیں ہوتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *