couple

شادیوں میں برکت کیسے۔۔۔؟

تحریر: افضال احمد
جس برق رفتاری سے ہمارے ملک میں طلاقیں ہو رہی ہیں لگتا ہے اگلے چند برسوں میں چند ایک جوڑے ہی شادی شدہ رہ جائے گے جنہیں لوگ رشک کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور گھر گھر میں ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کی کہانیاں سننے کو ملیں گی مثلاً لوگ کہیں گے دیکھو اس جوڑے کی شادی آج کے زمانے میں بھی کامیاب چل رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ملک میں لگتا ہے ایک شادی تجربے کی خاطر کی جاتی اور دوسری شادی پچھلی شادی کے تجربوں سے برباد ہوتی ہے اور تیسری شادی قریب المرگ مرد یا خاتون سے ایک طلاق یافتہ نوجوان لڑکی یا لڑکے کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے دو دفعہ طلاق کے مراحل سے گزرا ہوا انسان کنواری لڑکی یا کنوارے لڑکے کے حق دار تو ہوتے نہیں۔ پاکستان میں طلاق یافتہ خواتین و حضرات میں دن بدن ایسے اضافہ ہو رہا ہے جیسے مہنگائی اور لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شادیوں میں ہم بے دریغ پیسہ گناہ کے کاموں میں ضائع کرتے ہیں۔ شادیاں برکت سے محروم ہو رہی ہیں جس کے نتائج ’’طلاق و خلع‘‘ کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں۔
لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ جو بندہ جتنا غریب ہے وہ اُتنا ہی زیادہ پیسہ ان گناہ کی رسموں پر خرچ کرتا ہے خواہ اُدھار ہی کیوں نہ لینا پڑے ‘ پوچھو تو یہ لوگ کہتے ہیں ہماری برادری میں ایسا کرنا رواج ہے‘ خاندان میں ناک کٹ جائے گی‘ لوگ کہیں گے فلاں کی شادی پر ناچ گانا‘ فحش عورتوں کا ڈانس‘ آتش بازی‘ فائرنگ نہیں ہوئی شادی میں جانے کا مزہ نہیں آیا۔ یاد رکھو! جن لوگوں کو دکھانے کیلئے آپ یہ سب بے جا رسمیں ادا کرتے ہیں اُن کو آپ کے بیٹے‘ بیٹی کی طلاق سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ اُن لوگوں کو کوئی پروا نہیں کہ آپ نے پیسہ اُدھار لیا ہے یا دن دیہاڑے ڈاکہ مارا ہے‘ یہی لوگ آپ کی اُولاد کے طلاق کے موقع پر کہتے ہیں اتنی فحاشی تو پھیلائی تھی ان لوگوں نے شادی کے موقع پر تو انجام تو برا ہی ہونا تھا۔ بھئی! دنیا نہیں جینے دیتی دنیا کو نہیں دیکھو اپنی جیب کو دیکھو اسلام کی حدود کو دیکھو‘ اسلام نے تو شادی کو انتہائی آسان بنایا ہے۔ ان مٹی کے پتلوں (انسانوں) کو ناجائز خوش کرنے کیلئے گنہگار مت بنو‘ اللہ تعالیٰ کو خوش کرو گے تو آپ اور آپ کی شادی کامیاب ہو گی۔
بہت سے لوگ شادیوں کے موقع پر گھروں‘ پلاٹوں‘ سڑکوں پر ٹینٹ لگا لیتے ہیں اور عورتوں کا ناچ دیکھتے ہیں ان عورتوں سے فحش حرکات کرنے سے جی نہیں بھرتا تو شراب بھی پیتے ہیں‘ سگریٹ کی تو بات نہ کیجئے‘ سگریٹ تو آج کل دودھ پیتا بچہ بھی پیتا ہے‘ نکاح کا ان ناچنے والی عورتوں سے کیا تعلق ہے؟ بہت سی شادیوں میں میں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے گھروں کے بزرگ بھی ان فحش محفلوں میں شامل ہوتے ہیں اور ان فحش عورتوں سے فحش حرکات سرعام کرتے ہیں‘ اور بہت سی جگہوں پر میں نے معصوم بچے بھی دیکھے جن کی عمریں ہی اجازت نہیں دیتیں ایسے فحش نظارے دیکھنے کی۔ بہت سی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ’’دلہا میاں‘‘ خود ان فحش عورتوں کے ساتھ رقص کے ساتھ ساتھ فحش حرکات کرنا بھی ضروری سمجھتا ہے۔ آپ خود فیصلہ کرو یہ شادی کے موقع پر آپ اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو کہ نہیں؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آ سکتی ہے؟
فحش عورت کے ناچ میں جو گناہ اور خرابیاں ہیں ان کو سب جانتے ہیں کہ فحش عورت کو سب مرد حوس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں‘ یہ آنکھ کا زنا ہے۔ اس کے بولنے اور گانے کی آواز سنتے ہیں‘ یہ کان کا زنا ہے۔ اس سے فحش باتیں کرتے ہیں‘ یہ زبان کا زنا ہے۔ اس کی طرف دل کی رغبت ہوتی ہے‘ یہ دل کا زنا ہے۔ جو زیادہ بے حیا افراد ہیں وہ ان فحش عورتوں کو ہاتھ بھی لگاتے ہیں‘ یہ ہاتھ کا زنا ہے۔ اس کی طرف چل کر جاتے ہیں‘ یہ پاؤں کا زنا ہے۔ جس نے اس پورے پروگرام کیلئے انتظامات کئے‘ پیسہ لگایااُس کے سر پر اپنا تو اپنا ان سب کا بھی گناہ شامل ہوتا ہے۔ بھئی یہ شادی کیسے چل سکتی ہے؟ جس کا آغاز ہی شیطانی کاموں سے ہو؟ ایسی فحش حرکات کرنے کے بعد اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس جاؤگے تو برکت کیسے آئے گی؟
شادی میں انار‘ پٹاخے اور آتش بازی چھڑانے میں کئی گناہ ہیں‘ اول تو یہ کہ پیسہ فضول برباد جاتا ہے۔ دوسرے ہاتھ پاؤں کے جلنے کا اندیشہ یا مکان میں آگ لگ جانے کا خوف ہوتا ہے اور اپنی جان یا مال کو ایسی ہلاکت اور خطرے میں ڈالنا بری بات ہے۔ آئے روز اخبارات میں خبریں شائع ہوتی ہیں کہ فلاں جگہ پر آتش بازی‘ فائرنگ کی وجہ سے دلہا ہی جان سے چلا گیا‘ فلاں جگہ پر فائرنگ‘ آتش بازی کی وجہ سے چند لوگ موت کے منہ میں چلے گئے‘ فلاں بس باراتیوں سے بھری حادثے کا شکار ہو گئی‘ دلہے ‘ دلہن سمیت بہت سے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور کامل ایمان پر موت دے۔ ہم دنیا جہان کے سارے گناہ شادی کے موقع پر کرتے ہیں اور نکاح کے بعد دعا مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شادی میں برکت ڈال دے‘ نئے دلہا ‘ دلہن کے دلوں میں پیار بھر دے‘ دونوں خاندانوں کا آپس میں پیار محبت قائم کر دے‘ نئے شادی شدہ جوڑے کو نیک اُولاد دینا‘ بیوی کو شوہر کا فرمانبردار بنانا‘ شوہر کے دل میں بیوی کے لئے محبت پیدا فرما وغیرہ وغیرہ۔ یہاں میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بھئی! اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں لیکن پھر بھی نکاح کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اُٹھانے سے پہلے پچھلی رات کو تو یاد کرو جب یہی ہاتھ شراب‘ سگریٹ‘ چرس اور تو اور ناچنے والی عورتوں کو لگائے تھے ‘ گانے‘ باجے اس قدر اُونچی آواز میں چلائے کہ پورے شہر کے مریضوں کا جنازہ ہی نکل جائے۔ ایسے میں شادی میں برکت کیسے آسکتی ہے؟
مووی میکر‘ فوٹو گرافر ایسے بن ٹھن کر شادی کے پروگرام میں آتے ہیں جیسے شادی ہی ان کی ہو‘ نا جانے آپ کی عزت کو کیسے گوارہ کر جاتی ہے یہ بات کہ ایک غیر مرد آپ کی نئی نویلی دلہن کو آپ سے پہلے دیکھے اور مختلف سٹائلوں اس کا فوٹو سیشن کرے ؟ اور آپ منہ پر رومال رکھے اپنی نئی نویلی دلہن کا انتظار کرتے رہیں جسے آپ سے پہلے ’’لش پش‘‘ ہو کر آنے والا مووی میکر‘ فوٹو گرافر دیکھ چکا ہوتا ہے۔ افسوس! اب تو ایسے رنج و غم کا وقت ہے کہ کس کس چیز کو رویا جائے؟ دلہا میاں خود مووی میکر‘ فوٹو گرافر کو گائیڈ لائن دے رہا ہوتا ہے یہ میری بہن ہے‘ میری کزن‘ میری خالہ اور یہ دلہن کی بہن‘ اماں‘ خالہ وغیرہ وغیرہ ہیں اور ساتھ ہی اسے سختی سے کہتا ہے کہ سب لیڈیز کی تصویر ٹھیک سے بنانا۔ بھئی! گنجا کیا مانگے ‘ سر پر بال؟ ان مووی میکرز‘ فوٹو گرافرز کے دل میں تو ایسے ایسے لڈو پھوٹتے ہیں کہ اتنے تو دلہا‘ دلہن کے دل میں لڈو نہیں پھوٹتے ہوں گے۔
اب ڈھولک کی بات کرو تو عورتیں ڈھولک ساری ساری رات ایسے بجاتی ہیں جیسے پتہ نہیں یہ ڈھولک نہیں ان کے ’’بے رحم شوہر کا سر‘‘ ہے ڈھولک کی خوب دھلائی کرکے اپنا سارا غصہ ڈھولک پر نکال دیتی ہیں۔ ڈھولک کی آواز سے آس پاس کے لوگوں کی نیند میں خلل آتا ہے کہ نہیں؟ ڈھولک سے دل کو راحت نہیں ملتی تو بڑے بڑے سپیکر لیکر اُس پر ساری ساری رات اور سارا سارا دن گانے لگائے جاتے ہیں کہ پورے شہر کو پتہ چل جائے یہاں شادی کی تقریب ہو رہی ہے‘ جب سارا شہر آپ کی ان حرکتوں سے تنگ ہو گا تو کیا آپ کو یہ لوگ دعا دیں گے کہ اے اللہ ان کی شادی میں برکت ڈال دے؟ بہت سے بیمار ایسے بھی ہیں جو بیچارے اپنی ہی کھانسی کی آواز برداشت نہیں کر سکتے‘ تو کیا وہ آپ کے گھر لگے ’’دیواروں جتنے سپیکروں‘‘ سے نکلتی ہوئی گانوں کی آوازیں برداشت کر پائیں گے؟ تو خود اندازہ کرو کہ وہ بیمار انسان آپ کو کتنی بددعائیں دے گا؟ ایسی شادی میں برکت کیسے آئے گی؟
نوجوان موبائل فون پر دلہا‘ دلہن کی ایسے مووی‘ فوٹو بنا رہے ہوتے ہیں جیسے یہ دلہا‘ دلہن نہیں بلکہ کوئی خلائی مخلوق ہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں ایسے موقعوں پر ایک دوسرے سے موبائل کے ذریعے دوستیاں بھی کر لیتے ہیں‘ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی غریب لوگوں کے پاس یہ ’’ٹچ مچ موبائل‘‘ آ کیسے جاتے ہیں؟ لوگوں کی اصلاح کیلئے میں اپنی ویڈیو تقریروں کا آغاز کرنا چاہتا ہوں لیکن اچھے موبائل کیلئے میں پیسے نہیں جمع کر پا رہا۔ تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ شادی کو آسان بناؤ اور طلاق و خلع کے رواج کو اپنے سماج سے ختم کرو۔ فضول رسم و رواج کے جھنجٹ کی وجہ سے بہت سے غریب گھروں میں میری طرح اور نوجوان لڑکے‘ لڑکیاں بھی غیر شادی شدہ بیٹھے ہیں۔ بزرگوں سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے ان فضول رسم و رواج کو اپنی زندگی ہی میں ختم کر جائیں‘ نہیں تو قبروں میں عذاب کا باعث بنے گا ۔ کسی کا دل دکھا ہو تو معذرت چاہتا ہوں ‘ اہل علم میری اصلاح کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *