agriculture

فصلوں کی بہترین پیداوار اور واٹر مینجمنٹ

تحریر۔۔۔ حافظ شاہد پرویز
زراعت کی ترقی پنجاب اور پاکستان کی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے ‘ زراعت کے شعبے میں محکمہ زراعت اور خاص طور پر محکمہ واٹر مینجمنٹ کی جانب سے خصوصی طور پر کئے جانیوالے اقدامات پنجاب کے کسانوں کیلئے قابل قدر ہیں گزشتہ روز ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر زین شاہ سے ملاقات میں محکمہ واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے کسانوں کو فراہم کی جانیوالی جدید ٹیکنالوجی کے زریعے پانی کو بہتر بنانے کیلئے کئے جانیوالے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ ملی ‘ بریفنگ کے دوران پنجاب بھر میں محکمہ واٹر مینجمنٹ کی جانب سے باغات کی خوبصورتی اور فصلوں کو جدید نظام آبپاشی کیلئے سپرنکلر اور ڈرپ نظام آبپاشی کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئیں ‘ سپرنکلر اور ڈرپ نظام آبپاشی کا پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے حکومت پنجاب کے محکمہ واٹر مینجمنٹ کو سونپا گیا جس کے ذریعے حکومت کی جانب سے کسانوں کو 60فیصد تک سبسڈی فراہم کر کے مصنوعی بارش کے ذریعے فصلوں کو پانی لگانے سے پنجاب کی زراعت کو جدید تر زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے قابل بناتے ہوئے کم خرچ میں زیادہ منافع کمانے کیلئے متعارف کروایا گیا ہے ‘ یہ پروجیکٹ دنیا بھر میں پہلے سے موجود ہے سید زین العابدین کی میڈیا بریفنگ کے مطابق سپرنکلر نظام آبپاشی کے ذریعے کسان اپنی زمینوں کا وہ 20فیصد حصہ کہ جو کھالوں ‘ بنوں کے ذریعے ضائع ہو جاتا ہے اور اس حصے پر کسان اپنی فصل کاشت نہیں کرپاتا کو کاشت کے قابل بنا کر زرعی زمین کے اندر سے ایک خاص نظام کے تحت زمین دوز وائرنگ کے ذریعے زمین کے مختلف مقامات پر بارش برسانے کے آلات نصب کئے جاتے ہیں جو کہ ایسی زمینوں پر بھی نصب کئے جاتے ہیں کہ جن زمینوں کا لیول درست نہ ہو یا وہ زمینیں شور زدہ ہوں بلکہ پہاڑ کی شکل پر موجود زمینوں کو بھی اس جدید نظام آبپاشی کے ذریعے قابل کاشت بنا دیا گیا اور پنجاب بھر میں یہ پروجیکٹ عرصہ 4سال سے بڑی کامیابی سے رواں دواں ہے ‘ بریفنگ کے مطابق سپرنکلر نظام آبپاشی کے ذریعے کسانوں کو20فیصد اضافی زمین حاصل کر کے اسے قابل کاشت بنا کر منافع اور پیداوار کے حصول کیساتھ ساتھ یوریا کھاد کی انتہائی کم مقدار استعمال کرنے کے بعد کسانوں کو یوریا کی مد میں بھی بچت فراہم کی جا رہی ہے ‘ مثال کے طور پر عام اوقات میں کسان اپنی زمینوں کیلئے فی ایکڑ کم از کم ایک بوری یوریا کا استعمال کرتے ہیں جو کہ فلڈ ایریگیشن سسٹم کے تحت 50فیصد یوریا زمینوں کی زیادہ گہرائی تک غیر ضروری طور پر پہنچ جاتی ہے جس کے اثرات فصلوں کو نہیں ملتے اور کچھ کھاد ہوا میں اڑ کر ضائع ہو جاتی ہے اسی کھاد کو جب سپرنکلر نظام آبپاشی کے ذریعے فصلوں کے اوپر بارش کی صورت میں پانی کو برسایا جاتا ہے تو 50فیصد یوریا کی ضرورت بارش کے ذریعے برسائے جانیوالے پانی کیساتھ ہوا سے نائٹروجن اکٹھی کر کے فصلوں پر پھینکنے سے پوری ہو جاتی ہے ‘ مثلاً 20کلو گرام یوریا کی ضرورت مفت میں ہوا کے اندر سے حاصل کر کے اس نظام کے تحت کسانوں کو اس کی رقم بچانے کے قابل بنایا جاتا ہے جبکہ 15کلو یوریا جو کہ غیر ضروری طور پر زمینوں کے اندر فلڈ ایریگیشن سسٹم کے تحت پہنچ جاتی ہے جس سے فصلوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اسے بچا کر سپرنکلر ایریگیشن سسٹم کے تحت پانی کی اتنی مقدار میں لگائے جانے کے بعد کہ جو صرف اور صرف فصل کی جڑوں کو بھگو دے اور ایک یا دو انچ کے حصے تک پانی کے اثرات پہنچیں تو غیر ضروری پانی سے بچت کیساتھ 15کلو فی ایکڑ یوریا کی بچت کو ممکن بنایا جا رہا ہے جو کہ مجموعی طور پر کسان کی فی ایکڑ ضرورت 50کلو سے کم ہو کر صرف 10کلو رہ جاتی ہے اسی طرح سپرنکلر نظام آبپاشی کے ذریعے پانی کی مقدار ضرورت کے مطابق اور روزانہ کی بنیادوں پر لگائے جانے سے فصلیں تازہ دم کورے اور گرمی سے محفوظ رہتی ہیں جس کی وجہ سے انکی بڑھوتری بہتر ہونے کے بعد فصلوں کی پیداوار میں 50فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے تو اس طرح مجموعی طور پر کسان 75فیصد اضافی پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تاہم اس کے علاوہ ایسی زمینیں کہ جہاں پر شور ہونے کے باعث فلڈ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے زیادہ پانی لگ جاتا ہو تو وہاں پر پانی لگانے کے کچھ روز بعد بارش آ جائے تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں لیکن جدید نظام آبپاشی کے تحت انتہائی ضرورت کے مطابق پانی لگانے کے بعد اگر بارش بھی آ جائے تو فصلوں کا نقصان نہیں ہوتا یا انتہائی کم ہو جاتا ہے اسی طرح ڈرپ ایری گیشن سسٹم کے تحت باغات کو قطرہ قطرہ کر کے پانی فراہم کیا جاتا ہے جو کہ اس کی ضرورت کے بالکل عین مطابق ہوتا ہے یوں ایسے باغات جو کہ پنجاب کے گرم یا انتہائی سرد علاقوں میں لگانے کے قابل نہیں تھے ان کو بھی کامیابی سے کاشت کر کے پیداوار کو ممکن بنایا گیا اور اس کی حد سالانہ لمٹس کو 50فیصد کم کر دیا گیا مثلاًجو باغ 6سال میں تیار ہونا چاہئے تھا اسے 3سال میں فصل کے قابل بنا دیا گیا ‘ اور جو زمینیں پہاڑوں کی صورت میں یا ٹیلوں کی صورت میں کاشت کے قابل نہیں تھیں انکو قابل کاشت بنا کر پنجاب میں اور خاص طور پر پاکستان بھر میں فصلوں ‘ سبزیوں کی پیداوار کو بڑھا کر ضرورت کے مطابق پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *