farhat-ullah-babar

فوجی عدالتوں میں توسیع کا معمولی جواز بھی نہیں رہ جاتا

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس کے دوران واضح کیا آپریشن ضرب عضب کامیاب ہوا ہے تو فوجی عدالتوں میں توسیع کا معمولی جواز بھی نہیں رہ جاتا۔انھوں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی کوششوں کو حکومتی تضاد قراردیدیا۔ رضا ربانی نے واضح کیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پر کیا ان عدالتوں کا کیا کوئی جواز رہ گیا ہے اس امر کا اظہار انھوں نے بدھ کو سینیٹ اجلاس کی کاروائی کے دوران کیا۔ ایوان میں فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع کے حکومتی فیصلہ کی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی ہے سنیٹر فرحت اللہ بابر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ حکومت نے یقیناً فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے پر کیسز انسداد دہشتگردی اور دیگر عدالتوں میں بھجوا دیے گئے ہوں گے اور وہی عدالتیں ان پر کام کر رہی ہوں گی اجلاس میں چیئرمین سینیٹ نے بھی واضح کیا کہ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی یقیناً فوجیعدالتو ں سے کیسز متعلقہ عدالتوں کو جا چکے ہوں گے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد ،،جیٹ بلیک (انتہائی خطرناک )دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بتایا گیا تھا ان عدالتوں نے 167افراد کو پھانسی کی سزائیں سنائیں تاہم 2011کے مقابلے میں لاپتہ افراد کا معاملہ بڑھ گیا ہے 2011میں سوات، مالاکنڈسے عسکریت پسندوں کو حراستی مراکز میں منتقل کیا گیا تھا بتایا جائے کہ جن لوگوں کو پھانسی دی گئی وہ کون تھے کیونکہ مالاکنڈ سوات کے حراستی مراکز سے 35افراد برآمد نہ ہو سکے تو سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا اور سپریم کورٹ کے نوٹس کے باوجود بھی صرف 7لوگ برآمد ہو سکے حکومت ان لاپتہ افراد کے تمام پہلو?ں کو سامنے لائے ملٹری کورٹس میں توسیع نہ دے کیونکہ اسکا طریقہ تفتیش درست نہیں ہے اور دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک جہاں چاہے کتنا بڑا ہی خطرہ کیوں نہ ہو فوجی عدالتوں کو قیام بلاجواز تصور ہوتا ہے یہاں ٹویٹ کے ذریعے پھانسی کی سزا سننے کا اعلان کیا گیا اور جرائم کے حوالے سے کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا حکومتی بیانات متضاد ہیں ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ ضرب عضب آپریشن کامیاب ثابت ہوا ہے جو یقیناً درست ہے تاہم دوسری طرف ان فوجی عدالتوں میں توسیع کا بھی کہہ رہی ہے اگر ضرب عضب آپریشن کامیاب ہوا ہے تو فوجی عدالتوں میں توسیع کا معمولی جواز بھی نہیں رہ جاتا۔