160112-obama-1101p_1d16238ca868f5d9b1eb70c950d8f03f-nbcnews-fp-1200-800

 مسلمانوں کے خلاف تعصب کی پالیسی کو مسترد کرتا ہوں۔اوباما

امریکی شہر شکاگو میں اپنا الوداعی خطاب کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ اپنے دور حکومت میں امریکا کی بہتری کے لئے بہت سے اقدامات کئے، تمام چیلنجوں کا ڈٹ کر سامنا کیا اور بہت سے مسائل کا حل نکالا لیکن اب بھی کئی مسائل حل طلب ہیں، اپنے دورمیں کیوبا کے ساتھ تعلقات بہتربنائے، نائن الیون کے ماسٹرمائنڈ کوہلاک کیا اورایران کے جوہری  پروگرام کا معاملہ بغیر گولی چلےحل کیا، امریکا کو پہلے سے زیادہ محفوظ ملک بنایا جس کی بہترین مثال یہ ہے کہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران کوئی دہشت گرد تنظیم امریکا میں کارروائی نہیں کرسکی۔ آج امریکا کی معیشت مضبوط ہے، عوام کو نوکریاں اور صحت کی سہولیات دستیاب ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ امریکی مسلمانوں کے خلاف تنقید اور تعصب کی پالیسی کو مسترد کرتا ہوں، میرے نزدیک سب برابر ہیں اور دوسرے ممالک سے لوگ آئیں گے تو امریکا مضبوط اور ترقی یافتہ ہو گا، تارکین وطن کے بچوں کے لیے بھی سرمایہ کاری کرنا ہو گی، تارکین وطن کے بچوں پر توجہ نہ دی گئی تو یہ امریکی بچوں سے بھی زیادتی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نسل پرستی نے ماضی میں امریکا کو تباہ کیا اور یہ مسئلہ آج بھی موجود ہے، تبدیلی تب آتی ہے جب عام آدمی اس کے لیے جدوجہد میں شامل ہو، سب کا مقصد ایک ہی ہو تو ملک آگے بڑھتا ہے اور جمہوریت کے ذریعے ہی ہم اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ مسائل کا حل طویل اور دیرپا پالیسیوں میں ہے اور جمہوریت کی بہتری کے لیے سماجی رویوں کو بدلنا ہو گا، تبدیلی اسی وقت آتی ہے جب سب لوگ جمہوریت میں اپنا حصہ ملائیں، امیروں کو زیادہ ٹیکس دینا چاہیئے جبکہ کارپوریشنز پر ٹیکس بڑھانے سے فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ روس اورچین دنیا بھر میں کسی بھی معاملے پر ہمارامقابلہ نہیں کرسکتے۔ امریکی صدر اپنی اہلیہ براک اوباما کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایک اچھے دوست کی طرح میرا ساتھ دیا۔