بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> وزیراعظم عمران خان نے عوامی امنگوں کی عکاسی کرنے والا بڑا بیان دے دیا.

وزیراعظم عمران خان نے عوامی امنگوں کی عکاسی کرنے والا بڑا بیان دے دیا.

اسلام آباد(اے پی پی)حکومت نے کم لاگت والے گھروں کی فنانسنگ کے لئے مراعات دینے کا اعلان کردیا۔وزیراعظم عمران خان نے 50لاکھ گھروں کی تعمیر کے پروگرام کو حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی سوچ گزشتہ حکومتوں سے الگ ہے‘ کم لاگت گھروں کی تعمیرکا مقصد غربت کا خاتمہ ہے ‘ اس منصوبے سے تقریباً 40 متعلقہ تعمیراتی صنعتیں فعال ہوں گی، روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، معیشت ترقی کرے گی‘ ہم نے شہروں کو پھیلنے نہیں دینا، ہم ان کو کثیر المنزلہ عمارات کے ذریعے اوپر لے کر جائیں گے‘ اسلام آبادکو ماڈل سٹی بنائیں گے‘کچی آبادیوں میں مالکانہ حقوق دیں گے اور ان کے لئے فلیٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تجارتی مراکز بنائیں گے‘ہم فلاحی ریاست کے تصورکی جانب واپس آرہے ہیں اور یہ ابتدا ء ہے جبکہ گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ 30لاکھ روپے کا گھر سستا مکان شمار ہوگا‘دیہی علاقوں میں کورڈ ایریا کی کوئی قید

نہیں ہوگی۔ شہری علاقوں میں 850 مربع فٹ کی پابندی رکھی گئی ہے‘ اس میں قرض کا حجم 27 لاکھ روپے رکھا گیا ہے‘صرف 10 فیصد اپ فرنٹ دینے کی گنجائش دی گئی ہے اور 90 فیصد تک قرض ملے گا‘ساڑھے بارہ سال تک اس قرضہ کی میعاد ہوگی ‘اسٹیٹ بینک کی ری فنانس کی شرح ایک فیصد جبکہ کسٹمر ریٹ (شرح سود)پانچ فیصد ہو گا‘ہاؤسنگ فنانس کریڈٹ چارگنا بڑھائیں گے‘سستے مکان کی خریدوفروخت اور کرایہ پر دینے پر پابندی ہوگی ۔ وہ پیر کو اسٹیٹ بینک کی کم لاگت کے گھروں کی تعمیر کے لئے فنانس پالیسی کے اجراءکی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پروزیراعظم نے لاہور ہائی کورٹ میں زیر التواءفور کلوژر کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے یہ بہت اہم ہے کہ اس کیس کا فیصلہ جلد ہو کیونکہ جب تک ”فور کلوژر“ قوانین نہیں بنتے، ہمارے لئے مشکل ہے کہ ان لوگوں کو گھر دلوائیں جن کے پاس نقد رقم نہیں ہے‘ اگر لوگوں نے قرضے لینے ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ جس طرح اسٹیٹ بینک نے فنانس کی سہولت دی ہے اسی طرح ساتھ ساتھ قانون بھی اجازت دے‘جب تک ہمارے پاس عام لوگوں جن کے پاس نقد رقم موجود نہیں ہے، کے لئے رقوم دستیاب نہیں ہوں گی، ہم اس وقت تک اپنے ہدف کو حاصل نہیں کر سکتے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا کہ ایک چھوٹا سا طبقہ اچھے اور خوبصورت گھروں میں رہے گا اور عام لوگوں کے لئے مشکلات ہی ہوں گی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ کچی آبادیوں کے بارے میں آج تک کسی نے نہیں سوچا‘ہم کچی آبادیوں کے اندر ایک پروگرام لا رہے ہیں کہ وہاں پر ہم کمرشل سیٹ اپ کے لئے ڈویلپرز کو راغب کریں گے اور اسی رقم سے وہاں لوگوں کیلئے فلیٹس تعمیر کئے جائیں گے ‘ ہم اس پروگرام کو اسلام آباد میں شروع کر رہے ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے شہروں کو پھیلنے نہیں دینا، ہم ان کو کثیر المنزلہ عمارات کے ذریعے اوپر لے کر جائیں گے ‘ شہر جس طریقے سے پھیلتے جا رہے ہیں ہمارا سارا گرین ایریا خراب ہو رہا ہے، اس سےہماری فوڈ سیکورٹی اورماحول پر بھی بہت برا اثر ہوگا ‘ہم نے اسلام آباد کو ماڈل سٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*