Pakistan's Prime Minister Nawaz Sharif speaks during a news conference with Thailand counterpart Yingluck Shinawatra (not pictured) at the Prime Minister's residence in Islamabad August 20, 2013. REUTERS/Mian Khursheed  (PAKISTAN - Tags: CIVIL UNREST POLITICS)
Pakistan's Prime Minister Nawaz Sharif speaks during a news conference with Thailand counterpart Yingluck Shinawatra (not pictured) at the Prime Minister's residence in Islamabad August 20, 2013. REUTERS/Mian Khursheed (PAKISTAN - Tags: CIVIL UNREST POLITICS)

پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے، نواز شریف

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ اقلتیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا اور انھیں معاشرے میں جائز مقام دلانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کیں جائیں گی‘ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اقلیت دوست ملک کے طور پر جانا جائے گا ‘ قوم کو اندھیروں میں جھونکنے والوں اور ترقی کا راستہ روکنے والوں کو جواب دینا پڑے گا، ہم رکنے والے نہیں ہیں‘ ہم مخلوق کی بہتری‘ خوشحالی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کام کرتے جائیں گے، پورے ملک کی موٹر ویز ہمارے ہاتھوں سے بننی ہیں‘ 1999 اور 2013 کے درمیان کی مدت میں کوئی موٹر وے نہیں بنی‘ 2013 سے قبل روز بم دھماکے ہوتے تھے‘ مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا تھا‘ اللہ نے ہماری مدد کی اور دہشت گردی بھی قابو میں آرہی ہے‘ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے جسکا اعتراف دنیا کے معروف ادارے کر رہے ہیں، معاشی اشاریے پہلے سے کئی گنا بہتر ہوگئے‘ شرح نموجو گذشتہ سال4.7 فیصد تھی وہ اس سال 5.5 فیصد ہوجائے گی اور آئندہ دو سال میں 7 فیصد سے بڑھ جائے گی، بابا گرونانک اور گندھارا یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کریں گے۔ وہ بدھ کو کٹاس راج کے دورہ کے موقع پرواٹر فلٹریشن پلانٹ کے افتتاح کے بعد اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف ‘چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق ‘ ایم این اے ڈاکٹر درشن ‘اسفن یار بھنڈرا اور اقلیتی برادریوں کے نمائندے بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ تمام پاکستانیوں کے وزیراعظم ہیں اور یہ انکا مذہبی فریضہ ہے کہ وہ ملک کے ہر شہری کا بلا تفریق خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ کے حوالے سے کٹا س راج کو بڑی اہمیت حاصل ہے جو 4 تہذیبوں کا سنگم ہے‘ آج کا اجتماع پوری دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اقلیتیں پاکستان کے دفاع‘ امن‘ ترقی اور خوشحالی کے لئے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کام کررہی ہیں‘ ہم سب پاکستان کی تعمیر میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب سب کا اپنا اپنا لیکن انسانیت ہماری مشترکہ اساس ہے‘ میں ذاتی طور پر اقلیتوں کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہوں‘ بطور پاکستانی ہماری خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ وہ بابا گرونانک اور گندھارا یونیورسٹی کے قیام کے سلسلے میں ہر ممکن مدد اور تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر اقلیت دوست ملک کے طور پر جانا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے اقلیتوں کے تحفظ کے کی ضمانت دی تھی‘ ہر مذہب احترام‘ اتحاد اور اتفاق کا درس دیتا ہے‘ غلط سبق کسی کو پڑھانا چاہیے نہ سیکھنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے مقدس مقامات موجود ہیں، اس حوالے سے انہوں نے صدیق الفاروق کو واضح تاکید کی کہ غیر ملکی یاتریوں کی میزبانی اور ان کے مذہبی مقامات کے تحفظ‘ تزئین و آرائش اور توسیع کے سلسلے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے‘ اقلیتوں کی خدمت سے پاکستان مضبوط ہوگا اور اس نیک کام سے اللہ تعالی بھی خوش ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے باقی مدت میں بہت کچھ کرنا ہے کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا ‘وہ پاکستان کو اندھیروں میں جھونک گئے ‘ 16‘ 16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی تھی‘ قوم کو اندھیروں میں جھونکنے والوں کو جواب دینا ہوگا اور آج جو ترقی کا راستہ روک رہے ہیں انھیں بھی جواب دینا پڑے گا ‘ ہم انھیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم رکنے والے نہیں ہیں‘ ہم مخلوق کی بہتری‘ خوشحالی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لئے کام کرتے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے ملک کے اندر بے روزگاری‘ غربت اور پسماندگی کم ہورہی ہے‘ تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے‘ نیا پاکستان بنانے والے کچھ نہیں بنا رہے ‘ یہ سب ہم بنا رہے ہیں‘ اگر وہ کہیں گے تو ہم ان کے نام کی تختیاں لگوا دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے‘ انشاء اللہ پورے ملک کی موٹر ویز ہمارے ہاتھوں سے بننی ہیں‘ 1999 اور 2013 کے درمیان کی مدت میں کوئی موٹر وے نہیں بنی‘ ہماری حکومت کے موجودہ ساڑھے تین سالوں میں موٹر ویز بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 سے قبل روز بم دھماکے ہوتے تھے‘ مسلمان مسلمان کا گلا کاٹ رہا تھا‘ اللہ نے ہماری مدد کی اور دہشت گردی بھی قابو میں آرہی ہے‘ پاکستان نے معاشی استحکام حاصل کر لیا ہے جسکا اعتراف دنیا کے معروف ادارے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی اشاریے پہلے سے کئی گنا بہتر ہوگئے‘ شرح نموجو گذشتہ سال4.7 فیصد تھی وہ اس سال 5.5 فیصد ہوجائے گی اور آئندہ دو سال میں 7 فیصد سے بڑھ جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی محفوظ ہوچکا ہے اوراسکی رونقیں بحال ہوتی جارہیں ہیں۔ ملک میں 50 جدید ترین ہسپتال قائم کیے جارہے ہیں۔ تعلیم کے معیار کو بہتراورطالبعلموں کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کا عیب تلاش نہیں کرنا چا ہیے کیونکہ غیبت کے لئے قرآن پاک میں واضح لکھا ہے کہ غیبت کرنا ایسے ہی ہے جیسے مر ے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا اور تہمت لگانے سے بھی ہمارے دین نے منع کیا ہے۔ اسلام نے کسی کے مذہب اور عبادت کو برا کہنے کی ممانعت کی ہے، اس سے بڑی انسانیت کیا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ رات کو ٹی وی چینلز پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اور لوگوں کی مٹی پلید کی جاتی ہے‘ سیاست میں بھی ایسے لوگ آگئے ہیں جو روز نیا جھوٹ بولتے ہیں اور ہر روز نیا الزام لگاتے ہیں‘ ایسی باتوں سے انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا‘ہمیں خود کو بھی ٹٹولنا چاہیے اور ایسی بات نہیں کرنی چاہیے۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ آج پورے ملک میں مذہبی یگانگت اور رواداری کی فضاء قائم ہے‘ تمام اقلتیوں کو مکمل آزادی حاصل ہے اور وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں ملک میں اقلتیوں کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے وزارت مذہبی امور کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپس کے اتحاد کو مضبوط بنا کر ملک کے استحکام میں اضافہ کرنا ہوگا۔ چیئرمین متروکہ املاک بورڈ صدیق الفاروق نے کہا کہ مجھے وزیراعظم نے یہ ذمہ داری سونپی تھی اور وہ انکی ہدایات کے مطابق اقلیتی برادری کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلتیوں کے مذہبی مقامات کے تحفظ اور تزئین و آرائش کے لئے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایم این اے ڈاکٹر درشن نے کہا کہ آج کا دن تاریخی ہے‘ وزیراعظم کا دورہ کٹاس راج ان کی اقلتیوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے اقلیتوں کو تحفظ کا احساس دلایا ہے جس سے ان کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جنوبی ایشیا کی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے امن کے لئے ہمیشہ آگے بڑھ کر کردار ادا کیا۔ اس موقع پر ایم این اے اسفن یار بھنڈرا اور بشب الیگزینڈر جان ملک نے بھی خطاب کیا ۔قبل ازیں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کٹاس راج میں ہندوؤں کے تاریخی مندر کے مختلف حصے دیکھے اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کٹاس راج میں پودا بھی لگایا ۔