pia19947-nh-pluto-norgay-hillary-mountains-2050714

پلوٹو کی سطح پرسیکڑوں میٹر بلند برفیلے مینار دریافت

ناسا کی جانب سے پلوٹو کی جانب ایک جدید ترین خلائی جہاز بھیجا گیا تھا جس کی تصاویر پر اب بھی تحقیق ہورہی ہے اور اب انکشاف ہوا ہے کہ پلوٹو پرسیکڑوں میٹربلند برفیلے مینار پائے جاتے ہیں۔

سائنس سے متعلق بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے نیچرمیں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہمارے نظام شمسی کے سب سے دوردرازسیارے پلوٹوسے متعلق معلومات کے حصول کے لیے نیوہورائزن نامی خلائی جہاز روانہ کیا تھا، جسے پلوٹو کے مدار تک پہنچنے میں کم و بیش دس سال کا عرصہ لگا تھا اور اس نے 2015 میں پلوٹو کا ڈیٹا اور تفصیلی تصاویر زمین کی جانب روانہ کی تھیں۔ ان تصاویر اور معلومات کا اب تک تجزیہ کیا جارہا ہے اور اب انکشاف ہوا ہے کہ پہلی مرتبہ زمین کے علاوہ نظامِ شمسی میں کسی اور جگہ بھی برف کے مینار پائے جاتے ہیں ۔ زمین پر قدرتی طور پر برف کے ڈھیر سے بنا مینار کبھی بھی اتنا بلند نہیں دیکھا گیا ہے۔

پلوٹو کے علاقے ٹارٹارس ڈورسا میں یہ مینار پائے جاتے ہیں جنہیں ناسا نے برف کے ٹاور کہا ہے۔ یہ سخت برف یا ٹھوس گالوں سے بنے ہیں اور سورج کے رخ پر قدرے جھکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ناسا کے سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ جب تصاویر میں ان میناروں کے خدوخال دیکھے تو انہیں زگ زیگ شکل کی نیلی اور بھوری دھاریوں کا نام دیا جن کے درمیان کوئی سرخ رنگ کی شے تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *