gty_swarm_of_bats_be9805-001_jt_131124_16x9_992

چمگادڑیں نام لے کرایک دوسرے کوپکارتی ہیں، ماہرین کی دریافت

ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ چمگادڑیں آپس میں رابطے کے لیے ایسی خاص آوازیں خارج کرتی ہیں جن میں مخاطب کے علاوہ خود ان کی اپنی شناختی علامات بھی ہوتی ہیں جنہیں چمگادڑوں کے ’’ذاتی ناموں‘‘ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔

یہ دریافت چھوٹی جسامت اور پھلوں کے رس پر گزارا کرنے والی ’’مصری چمگادڑوں‘‘ کے تفصیلی مطالعے کے بعد ہوئی ہے جس میں حیوانیات دانوں کی ایک ٹیم نے اس قسم کی 22 چمگادڑوں کی 15 ہزار  سے زیادہ آوازیں ریکارڈ کیں جو انہوں نے 75 دنوں میں وقفے وقفے سے خارج کی تھی۔ اس پورے مطالعے کے دوران ہر آواز کے ساتھ ساتھ اسے پیدا کرنے والی چمگادڑ کی نشاندہی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی تاکہ اگلے مرحلے پر تجزیئے میں ابہام پیدا نہ ہو۔

اس کے بعد ایک کمپیوٹر پروگرام کے ذریعے ان تمام آوازوں کا انتہائی باریکی سے آپس میں موازنہ کیا گیا جس سے پتا چلا کہ ہر چمگادڑ سے خارج ہونے والی آواز کی لہروں میں ایک مخصوص نمونہ (پیٹرن) موجود ہے جس کے کچھ حصے میں لہروں کی بناوٹ کم و بیش مستقل نوعیت کی ہے۔ اسی طرح دو چمگادڑوں کے درمیان آواز کے ذریعے ہونے والے رابطے میں مختلف صوتی نمونے (وائس پیٹرنز) مقابل چمگادڑ سے مخصوص پیٹرن کی مانند تھے۔