download-6

یونیورسٹی معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار اد ا کر رہی ہے صدر ممنون حسین

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے بھر پور استفادے کے لیے نئی نسل کا کردار اہم ہے اور پاکستان میں پیدا ہونے والے نئے امکانات سے مستفید ہونے کے لیے طلبہ خود کو تیار کریں۔ صدر مملکت نے یہ بات ایوان صدر میں سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کراچی کے طلبا کے وفدسے ملاقات کے دوران کہی جس میں وزیر مملکت برائے تعلیم اور پروفشنل ٹریننگ انجنیئر بلیغ الرحمٰن اور وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کے علاوہ اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کو قائداعظم سے نسبت کی وجہ سے دوسرے اداروں سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار اد ا کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبا خود کو جدید تعلیم سے آراستہ کر کے معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔ صدر مملکت نے ادارے کی جانب سے شروع کیے گئے نیشنل لیڈرشپ پروگرام پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اس پروگرام سے نوجوان طبقے کو بہت فائدہ حاصل ہو گا اور نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع ملیگا۔ صدر مملکت نے زور دیا کہ جامعات بہترین فیکلٹی کے انتخاب سے اپنے معیار میں مزید اضافہ کریں گے۔ صدرمملکت نینوجوانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لییوہ اپنا کردار ادا کریں۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کے چند ادوار میں کرپشن اوربد انتظامی اور نااہلی کی وجہ سے ملک معاشی مسائل سے دوچار رہا ہے لیکن اب ہم صحیح راستے پر چل پڑے ہیں اور کامیابی کی منزل نظر آرہی ہے لیکن ضروری ہے کہ سب ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کے لیے سوچیں اور اس کی ترقی کے لیے بھرپور محنت کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ طلبا جدیدتعلیم حاصل کر کے اپنا فریضہ سر انجام دیں تاکہ مستقبل میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ صدر مملکت نے کہا کہ سی پیک منصوبہ خطے میں گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے پوری قوم خاص طور پر نوجوان خود کو تیار رکھیں۔صدر مملکت نے مزید کہا کہ نوجوان قومی یکجہتی میں کلیدی کردار ادا کریں اور ملک کے خلاف عناصر کی سرکوبی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ صدر مملکت نے طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیم ضرور حاصل کریں اور اس کے حصول کے لیے اگر بیرون ملک بھی جانا پڑے تو ضرور جائیں لیکن اپنی تہذیت کو نہ بھولیں کیونکہ وہی قومیں کامیاب رہتی ہیں جو اپنی تہذیب کو قائم رکھتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *