تیسری جنگ عظیم کے محرکات اور پاکستان!

تیسری جنگ عظیم کے محرکات اور پاکستان!

تیسری جنگ عظیم کے محرکات اور پاکستان!
تحریر:۔ ملک شفقت اللہ
آزادی کے بعد سے ہی پاکستان امریکہ کا اتحادی چلا آ رہا ہے، جو روس، افغان جنگ کے وقت مزید مضبوط ہوگیا تھا۔اس اتحاد میں اتار چڑھاؤ بھی رہے ہیں جن کے پیچھے امریکہ کی بدمعاشی اور ہٹ دھرمی رہی ہے۔ پاکستان میں اب تک کی حکومتوں کی پالیسیاں اس قدر دور اندیش نہیں رہیں جس طرح ایک قابل اور فہم و دانش رکھنے والے حکمرانوں کی ہونی چاہئے۔ ہم نے پینسٹھ اور اکہتر سے بھی سبق نہیں سیکھا جب امریکہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپتا رہا۔ چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی اس سے بھی پرانی ہے۔ اسکی اہم وجہ چین کی اقتصادی بقاء کیلئے پاکستان پر پوری طرح نہ سہی لیکن ساٹھ فیصد سے زیادہ انحصار کرنا ہے۔ پاکستان کاساتھ اور چینی مزدوروں کی بدولت ہی چین آج سپر پاور بننے کے قابل ہوا ہے۔لیکن دونوں ممالک کو اس دوستی کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔پاکستان کو اول دن سے ہی اندرونی و بیرونی سازشوں نے اپنے جبڑے کے درمیان دبائے رکھا۔ اوائل دنوں میں پاکستا ن کے ساتھ مخلص اور جانباز سیاستدانوں کو ایک ایک کر کے قتل کروا دیا گیا، اور اس کے بعد پاکستان میں اقوام متحدہ کے نظام حکومت کو لاگو کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے۔ پاکستان میں نظام شریعت کے نفاذ پر عمل درآمد کروانے والوں میں سب سے پہلے لیاقت علی خان تھے جنہیں شہید کروا دیا گیا! اور ان کے قاتل آج تک گرفت میں نہیں آسکے۔ایسے بہت سے پاکستانی لیڈر جنہوں نے استعماری قوتوں کا انکار کیا یا جن کی وجہ سے یہ قوتیں بے نقاب ہونے لگیں انہیں قتل کروا دیا گیا! گو کہ پاکستانی آئین پوری طرح سے اسلامی ہے لیکن اس کا متحرک اطلاق آج تک نہیں ہو پایا ہے۔ پاکستان میں بارہا منتخب حکومتوں کو مارشل لاء کی نظر کیا گیا! لیکن مارشل لاء کی یہ حکومتیں چاہے غیر آئینی تھیں لیکن عوامی حلقوں میں ایسی حکومتوں کی پذیرائی آج بھی کی جاتی ہے، لیکن سیاسی حکومتوں نے کبھی عوام کو سہولیات اور آسانیاں فراہم نہیں کی ہیں۔ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار عوامی و محب الوطن ثابت ہوئے، خواہ کئی اقدامات ایسے تھے جو دور اندیش ثابت نہ ہوئے، یا ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر پاکستان کے حق میں غلط بنا دیا گیا۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومتیں صرف و صرف استعماری قوتوں کی دولت اور ان کے ساتھ کی وجہ سے ہی منتخب ہوتی آئیں ہیں۔یہی وجہ رہی کہ ایسی جمہوری حکومتوں نے استعماری قوتوں کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہو کر ملک کونہ صرف معاشی و اقتصادی سطح پر بلکہ ملکی نظریاتی و زمینی سرحدوں پر بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ مسئلہ مقبوضہ کشمیر، ریکوڈیک منصوبہ، کالاباغ ڈیم، آبادی میں اضافے کی وجہ سے صوبوں اور شہروں کی تقسیم اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں پر عملدرآمد میں کاہلی اس کا واضح ثبوت ہے کہ یہ جمہوریت کے دعویدار سیاہ سی لوگ کبھی بھی پاکستان اور پاکستانی عوام کیلئے منتخب ہونے کے بعد کام نہیں کرتے بلکہ صرف و صرف اپنے ناخداؤں کی خوشی کیلئے کسی بھی حد تک گرسکتے ہیں۔1998 میں جب پاکستان ایٹمی پاور بنا تو استعماری قوتیں ننگی ہو گئیں اور پاکستان کو دبوچنے کی کوشش میں دن رات بدمست ہاتھی کی طرح دوڑنے لگے۔ حالانکہ اس سے پہلے پڑوسی ملک بھارت نے جب ایٹمی دھماکے کئے تھے تو اس کے ساتھ ان استعماری قوتوں کا رویہ اس سے بالکل برعکس تھا۔تب سے ایک عالمی سازش بنی گئی جس کے تحت دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں فساد بپا کیا گیا۔ ان استعماری قوتوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ ایک اسلامی ریاست ایٹمی پاور بن چکی ہے، اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک قدرتی نعمتوں اور دولت سے مالامال ہیں تو یقینا یہ لوگ ایک اتحاد قائم کر کے ڈالر کی کرنسی کی جگہ اپنی کرنسی متعارف کروائیں گے۔ اس طرح یہ امر بھی یقینی ہو گیا تھا کہ عالمی چوہدراہٹ ایک بار پھر سے تقسیم ہو جاتی۔چنانچہ پہلے خمینی انقلاب کو پاکستان میں پھیلا کر اور پھر اس کے جواب میں متعصب لوگوں کو کھڑا کر کے پاکستان کے تیس سال آگ میں جھونگ دئیے گئے اور پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے قرضوں سے پاکستان کی اقتصادی، معاشی، تعلیمی، خارجی و داخلی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر پاکستان میں اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ ھے گئے۔ اس اثناء میں پاکستان میں سب سے پہلے تو جمہوریت کی دائمیت کیلئے ایک مضبوط تحریک کو جنم دیا گیا، اور آمریت کا خاتمہ کیا گیا، اس کے بعد یہاں پر مسلط جمہوریوں نے اپنے ناخداؤں کو خوش کرنے کیلئے ہر وہ اقدام اٹھائے جو پاکستان کی سالمیت کیلئے موزوں نہیں تھے۔یاد رکھیں کہ ایسے سیاست دان جس امر میں اکٹھے ہو جائیں، جان لیجئے کہ اس میں خیر نہیں شر ہی حاصل ہو گا۔ ان بزدل اور نااندیش سیاستدانوں کی وجہ سے پاکستان کا نہ صرف دو قومی نظریہ بلکہ سرحدی تقسیم بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ان کی نکمی اور بیکار خارجہ پالیسی کی وجہ سے دشمن پاکستان کے سرحدی علاقوں اور بین الصوبائی سطح پر صوبوں کی علیحدگی جیسے مطالبات والی تنظیمیں متحرک کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ان تنظیموں میں سر فہرست لوائے زینیبیون، فاطمیون،لوائے عباس، پشتون موومنٹ، ایم کیو ایم لندن، سندھی وطن پرست، بی ایل اے، بی ایل ایف وغیرہ شامل ہیں۔اس دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اب تک پاکستان تین سو بلین سے زائد کی رقم خرچ چکا ہے، اور کھربوں ڈالر کی برآمدات اور درآمدات کا نقصان الگ ہوا ہے۔یعنی پاکستانی معیشت کو ایک بڑا دھچکا پہلے اپنے پلانٹڈ سیاستدانوں اور پھر پاکستانی سرحدوں کے ساتھ موجود اپنے ہم مقصد ساتھیوں کی مدد سے لگایا گیا۔ہم جانتے ہیں کہ مذکورہ بالا تنظیموں میں سے پہلی تین ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی تنظیمیں ہیں، اور ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ ظاہر ہے یہاں سوال تو اٹھے گا کہ وہ ایسا کیوں کرے گا! تو بتاتا چلوں کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا ریکوڈک منصوبہ جس پر پاکستانی سیاسی حکومتوں نے سیاسی انتقام کی خاطر کام بند کر دیا ہوا ہے کی وجہ سے ایران کو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے، اس کے بعد سے اب تک ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدہ چل رہے ہیں۔ جبکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کی اصلیت بھی ہماری آنکھوں کے سامنے عیاں ہو چکی ہے کہ ان کے پشت پر کون تھے اور ان کے حق میں سامنے آ کر ملکی سالمیت پر آواز اٹھانے والے کون ہیں!۔پاکستان میں موجودہ منتخب جمہوری حکومت بننے کے پیچھے بہت سے راز دفن ہیں۔ جب سے روس، چین اور پاکستان کا اتحاد ہوا اس کے بعد سے پاکستانی سیاست میں بہت اہم تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئیں، جو امریکی لابی کے اتحادی تھے ان پر کڑا وقت دیکھنے میں آیا۔ قومی خودمختاری اور ملکی سالمیت حکمرانوں کو اپنی جان، مال اور اولاد سے بڑھ کر عزیز ہونے چاہئیں!لیکن بزدلی کہیں یا لالچ، دنیا بھر میں جو پاکستان کا تمسخر بنایا گیا پوری قوم کیلئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔وہ اسی لئے کہ یہ لوگ ہمارے منتخب سیاسی نمائندے تھے جو جمہوریت کے دعویدار تھے۔ اگرمشرف جیسا آمر ان کے سامنے گھٹنے نا ٹیکتا تو شاید پاکستان کا حال بھی مصر، لیبیا، تیونش وغیرہ جیسا ہوتا۔ حالانکہ خودجمہوریت کے دعویدار ملکوں میں صدارتی نظام نافذ ہے۔ایسے لوگوں سے چھٹکارہ پانے کیلئے ملک میں احتسابی عمل کا لاگو ہونا وقت کی اہم ضرورت تھی، جس پر نہ صرف موجودہ حکومت کو منتخب ہونے سے پہلے استعمال کیا گیا، بلکہ احتساب کیلئے پہلے عوام کو ذہنی و شعوری طور پر تیار بھی کیا گیا۔ لیکن دوسری جانب کے لوگوں نے بھی اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے اتحادی مضبوط کئے اور اداروں میں کرپٹ مافیا کی مدد سے اس طرح جڑیں مضبوطی کے ساتھ پھیلائیں کہ منتخب ہونے اور اسٹیبلشمنٹ کا بھرپور ساتھ ہونے کے باوجود حکومت کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں۔ اور سازشیں ہیں کہ رکنے کا نام نہیں لے رہیں۔ ان سازشوں کو جواب دینا ملکی سالمیت اور خود مختاری کیلئے ضروری ہے، اور جواب دینے کیلئے ملک میں صدارتی نظام کا نفاذ بے حد ناگزیر ہو چکا ہے۔ایک بھرپور سازش کے تحت ملک میں اب مذہبی کارڈ کھیلنے کی تیاری کی جا چکی ہے، جس میں انسانیت دشمن عناصر ملوث ہوں گے۔ آنے والے محرم الحرام کے دنوں میں ایک طرف فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوشش کی جائے گی، دوسری طرف سندھ میں علیحدگی پسند تنظیمیں زور پکڑیں گی، تیسری طرف بلوچستان میں قوم پرست بلوچ جو پہلے سے ہی علیحدگی کیلئے سرگرم عمل ہیں کی کاروائیاں تیز ہوں گی، چہارم طرف ملک میں موجود منی اسرائیل یعنی قادیانی اپنا فتنہ پھیلانے کی مذموم کوشش کریں گے۔ ادھر سے مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے کسی بھی طرح کی جارحیت کی توقع کی جا سکتی ہے۔یہ تمام مراحل اس سال کے اختتام تک عمل میں لائے جانے کا امکان ہے۔اہم شخصیات کی گرفتاریاں عمل میں آئیں تو عوام کو احتسابی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ ہونا ہوگا! ہمیں سب سے بڑھ کر پاکستان ہونا چاہئے۔