بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> چوتھی سالانہ سّیدہِ کائنات کانفرنس
سفرِ ناتمام اورکُتب خانہ

چوتھی سالانہ سّیدہِ کائنات کانفرنس

چوتھی سالانہ سّیدہِ کائنات کانفرنس
شہزاد حسین بھٹی
آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ” فاطمہ سلام اللہ علیہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے”. سیدہ کائنات حضر ت فاطمتہ الزھراء سلام اللہ علیہا وہ عظیم ہستی ہیں جنکی تعلیمات آج کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں۔ خاتون جنت کے مقام و مرتبہ کا یہ عالم ہے کہ آپ جنت میں عورتوں کی سردار ٹھہریں۔ پوری کائنات میں آپ کا کوئی ثانی ہے نا ہو گا۔حضرت فاطمہ(س) کا اخلاق و کردار اپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ (س) کی اعلیٰ صفات کا واضح نمونہ تھیں جود و سخا، اعلیٰ فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوھر حضرت علی(ع) کے لئے ایک دلسوز،مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں۔ آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر کی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے آپ کوسوں دور تھیں۔ آپ نے شا دی سے پہلے کی ۹ سال کی زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اور ۴ سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوھر بزرگوار علی مرتضیٰ(ع) کے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گزارے۔
ایوان مہر علی شاہ حضرواٹک کے زیر اہتمام عظیم الشان چوتھی سالانہ سّیدہِ کائنات کانفرنس کاانعقادگذشتہ ہفتے اٹک کے ایک مقامی ہال میں کیا گیا۔ جسکی صدارت حضرت صاحبزادہ سید محمدعبداللہ شاہ گیلانی درگاہِ عالیہ گولڑہ شریف نے کی۔جبکہ نظامت کے فرائض محمد عرفان الحق آف چنیوٹ نے سر انجام دیئے۔تقریب کا آغاز قاری اجمل قادری کلرسیداں نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے کیا۔ملک کے نامور نعت خواں قاری وقار یونس سیالوی آف چینوٹ،فرحان علی، محمد طاہر اقبال،محمد صالح گولڑوی اور دیگرنعت خوانوں نے اپنی پُرسوز آواز میں ہدیہ عقیدت کے پھول سرکار دوعالم کے حضورنچھاور کیے۔تقریب میں ہزاروں کی تعداد میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ، مریدین گولڑہ شریف، ایوان مہر علی شاہ حضرو اٹک کے عہدے داران و ممبران نے سرپرست اعلیٰ صالح محمد چشتی کی قیادت میں شرکت کی اور میزبانی کے فرائض ادا کیے۔جنید خان گولڑوی حویلیاں،حافظ ممتاز گولڑوی، ڈاکٹر عبدالشکور کلرسیداں اور سیدلال شاہ مانسر شریف ، سینئر صحافی اقبال زرقاش، ڈاکٹر یونس خٹک ، کالم نگار شہزاد حسین بھٹی ، ملک محمد ممریز،ایس ڈی او پی ٹی سی ایل فیاض احمد اور سردار ایازخالد مٹھیالوی نے خصوصی طور پرشرکت کی۔
آپ(س) کا وقت بچوں کی تربیت گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گزرتا تھا۔ فاطمہ(س) اس خاتون کا نام ھے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا۔ فاطمہ زھرا(س) نے اپنے ماں باپ کیآغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الہی کو، سر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ انہوں نے جو کچہ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوہرکے گھر میں عملی جامہ پہنایا۔ وہ ایک ایسی مسن وسمجھدار خاتون کی طرح جس نے زندگی کے تمام مراحل طے کر لئے ہوں اپنے گھر کے امور اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے اور اپنے شوہر کے حق کا دفاع کرتی تھیں۔حضرت فاطمہ (س) کا نظام عمل حضرت فاطمہ زہرا (س )نے شادی کے بعد جس نظام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا۔ یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہ (س) لیکن نہ تو کبھی تیوریوں پر بل پڑے اور نہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی علیہ السّلام سے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا قاری غلام محمد گولڑوی خطیب اعظم راولپنڈی نے کہا کہ سیدہ کائنات کانفرنس کا مقصدآج کی نسل نو کو حضرت فاطمہ الزھرہ کی سیرت و کردار سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ موجودہ پرفتن دور میںآپ کی سیرت و کردار پر عمل کرتے ہوئے دین اور دنیا دونوں میں حقیقی کامیابی حاصل کر سکیں۔آپ نے کہا کہ سیدہ کائنات کا رتبہ اور مرتبہ اتنا بلند اور اعلیٰ ہے کہ جسے بیان کرنا شاید انسان کے بس میں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا ﷺسے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسول نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا( س )کے نام سے مشہور ہے 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمد اللہ اور 33 مرتبہ سبحان اللہ۔ حضرت فاطمہ اس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئیں کہ کنیز کی خواہش ترک کردی۔ بعد میں رسول ﷺنے بلا طلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیّدہ (س) اپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسا برتاؤ نہیں کرتی تھیں بلکہ اس سے ایک برابر کے دوست جیسا سلوک کرتی تھیں. وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کراتیں۔ حضرت فاطمہ الزھرا س نے بی بی فضہ کی ایسی تربیت کی کہ بی بی فضہ نے زندگی بھر عام گفتگو بھی قرآن سے ہٹ کر نہیں کی۔ اللہ اکبر۔اسلام کی تعلیم یقیناً یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں . بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل ہے . اس تقسیم کار کو علی علیہ السّلام اور فاطمہ( س) نے مکمل طریقہ پر دْنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنی قوت بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے خرچ کا سامان مہیا کرنا علی علیہ السّلام کے ذمہ تھا اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہرا (س) انجام دیتی تھیں۔
تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مولانا قاری احمد حسن گولڑوی خطیب اعظم سرگودھا نے کہا کہ اہل بیت کی محبت ہمارے ایمان کا جزو ہے۔اور سیدہ کائنات حضرت فاطمہ الزھرہ سلام اللہ علیہا وہ ہستی ہیں جنکی تعلیمات پر عمل پیرا ہو نے کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ آپ ﷺ کی سیدہ کائنات سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ جب کبھی کہیں سفرکے لیے تشریف لے جاتے یا آتے توآپ سلام اللہ علیہا کے گھر ملاقات کے لیے خصوصی طور پر تشریف فرما ہوتے۔جس سے آپ ﷺ کی سیدہ کائنات سے والہانہ محبت کا خصوصی عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہل بیت کی محبت کے بغیرانسان کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوسکتا۔ ہمارا پیغام ہی یہی ہے کہ نبیﷺ کی آل کا دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھو تاکہ تم دین اور دنیا دونوں میں سرخرو ہو سکو۔ انہوں نے کہاکہ اہل بیت کا وہ لجپال گھرانہ ہے جن کے درسے کبھی کوئی سائل خالی نہیں لوٹا۔دنیا اور آخرت کی کامیابی ہمیں تبی حاصل ہو گی جب ہم سیدہ کائنات کے فرمودات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونگے ۔ایسی پُروقار اور پرنور محفلوں کا انعقادایوان مہر علی شاہ کے پلیٹ فارم سے قابل تحسین کام ہے اسے اسی طرح جاری و ساری رہنا چاہیے تاکہ اہل بیت سے حقیقی محبت کا درس نوجوان نسل کے دلوں میں اجاگر کیا جاسکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*