بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> عطائیت معاشرتی ناسور!

عطائیت معاشرتی ناسور!

عابد ضمیر ہاشمی
آج ہم جس دُنیا میں سانس لے رہے ہیں وہاں علم اور بالخصوص سائنس و ٹیکنالوجی کا راج ہے۔کسی بھی ملک کے باسیوں کیلئے بنیادی ضروریاتِ زندگی ایک خوشگوار اور بامقصد‘ صحت مند زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہیں اور ان میں کلیدی کردار صحت اور تعلیم کا ہے۔ ایک جسمانی نشوونما کیلئے اہم ہے تو دوسری ذہنی نشو نما کیلئے نا گزیر۔ سماج اپنے ارتقائی عمل میں مختلف مرحلوں میں سے گزرتا ہے اور بنیادی ضروریات کا حصول سماج کی مادی بنیادوں، نظامِ پیداوار اور پیداواری رشتوں سے انگنت تانوں بانوں سے جڑا ہوا ہے۔جب صحت کا نام آتا ہے تو‘ کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈاکٹر ز کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔
ڈاکٹر؛ ہمارے معاشرے کا وہ محسن طبقہ ہے جوصحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔یہ گروہ انسانیت کا سب سے بڑا محسن ہے اور اس نسبت سے ان کی توقیر و تکریم سماج کا فریضہ ہے۔ ڈاکٹر مسیح کا درجہ رکھتے ہیں ٗ معاشرہ میں قابلِ قدر افراد ہیں۔ لیکن اس مقدس پیشہ کو داغدار کرنے والے نیم حکیم ٗ عطائی ہیں۔ جو نہ صرف ان عظیم کرداروں کے لیے ناسور ہیں ٗ بلکہ انسانی جانوں کے بھی قاتل ہیں۔ انہیں عطائی یا نیم حکیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ عطائی انسانیت کے خادم نہیں ٗہادم ہیں‘ اور وہ سماج کے لئے رحمت کے بجائے زحمت ہیں۔
جدید دُنیا میں سترھویں اور اٹھارویں صدی میں برطانیہ میں عطائیت کو بہت زیادہ فروغ ملا۔ 1830 ء میں برطانوی پارلیمنٹ نے 1300 کے قریب ادویات کی ایسی فہرست بھی جاری کی جو عطائیت کے زمرے میں استعمال ہو رہی تھیں پاکستان میں عطائی ڈاکٹر کیلئے ”نیم حکیم“ کا لفظ زیادہ مشہور ہے پاکستانی معاشرے کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہاں ملک میں عطائیت کا ناسور بھی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے عطائیت کا تیزی سے پھیلتا ہوا یہ مہلک جال صحت مند پاکستانی معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
آہستہ آہستہ ہر گلی، محلے اور جدید سوسائٹی میں پرائیویٹ ہسپتالوں، کلینکس، کمپاوئنڈروں، عطائیوں اور طبیبوں کی بھرمار ہو چکی ہے۔ یہ عام بات ہے کہ غریب جاہل ہیں اس وجہ سے ہسپتالوں اور کلینک میں ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے عطائیوں اور کمپاؤنڈروں کے پاس جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شدید غربت کے مارے لوگوں کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں کہ وہ سائنسی علاج کروا سکیں۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں % 82 لوگوں کے پاس سائنسی علاج کیلئے درکار رقم ہی موجود نہیں۔ چند سال پہلے PMDC کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 600,000 سے زائد غیر سائنسی علاج کرنے والے دن رات غریب عوام کی صحت برباد کر رہے ہیں۔ صرف کراچی میں اندازاً 70,000 سے زائد لوگ غیر سائنسی طریقہ کار سے علاج کر رہے ہیں
ہمارے ہاں لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ عطائی، ڈاکٹر ہی ہوتا ہے۔ اس کی جملہ خوبیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وقت دستیاب ہے، کم فیس میں علاج معالجہ کر دیتا ہے، وہ کئی پشتوں سے خاندانی معالج ہوتا ہے، خاندانی بیماریوں سے آشنا ہوتا ہے، اس کے ہاتھ میں بھی خصوصی شفاء ہے، وہ گھر کی دہلیز پر ہی موجود ہے، وہ کئی ڈاکٹروں کے تجربات رکھتا ہے۔د یہی علاقے عطائی حضرات سے بھرے پڑے ہیں۔ شہر بھی ان سے محفوظ نہیں۔ یوں عطائیت کی جڑیں ہر سو پھیلی دکھائی دیتی ہیں۔
صحت مند معاشرہ ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ جدید دُنیا میں جہاں ایک طرف صحت عامہ کے شعبہ میں ٹیکنالوجی کی بھرمار ہے وہاں دوسری طرف پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عطائیت کا ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے۔
پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں جعل سازوں، نیم حکیموں، ناتجربہ کار سٹاف، جاہل ڈسپنسرز اور فراڈ ڈاکٹروں کی بھرمار ہے۔ اکثر میڈیکل سٹوروں میں کوئی کوالیفائیڈ فارماسسٹ نہیں ہوتا۔حکیم اور ہومیوپیتھ پروفیسر اپنے انداز میں عوام میں بیماری بانٹ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو میڈیا پر اشتہارات بھی دیتے ہیں جن میں ہیپاٹائیٹس اور شوگرسمیت دُنیا بھر کی تمام بیماریوں کے مکمل علاج اور جڑ سے خاتمہ کرنے کے دعویٰ کئے جاتے ہیں۔ اور پھر ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور‘ کھانے کے اور کی مصداق‘
ہمارے ہاں بے شمار لوگ عطائیت کو ہی اپنا پیشہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ایک سنگین جرم‘ اور انسانی جانوں سے کھلواڑ ہے۔ پسماندہ علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے جب لوگ عطائی ڈاکٹروں، حکیموں کے پاس جاتے ہیں تو مریض ٹھیک ہونے کی بجائے دیگر کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اور کئی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اکثر ڈاکٹر حضرات دیہاتوں میں جانا پسند نہیں کرتے اور وہاں دیہی مراکز صحت دوپہر 2 بجے کے بعد بند ہو جاتے ہیں، ایسے میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں مریض کہاں جائیں، وہ ان عطائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
ملک بھر میں لاکھوں عطائی کلینکس،ڈسپنسریاں،لیبارٹریز،اسپتال،میڑنٹی ہوم،جعلی ڈاکٹرز چلا رہے ہیں۔پاکستان میں انتہائی ناقص خوراک اور پینے کے لئے انتہائی آلودہ پانی ہے جس سے بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ سرطان ٗ ہارٹ اٹیک سمیت خطرناک ترین بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ایک طرف ملک میں امراض روز بروز بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف عطائیت،دو نمبر اور جعلی ڈاکٹروں نے پنجے گاڑ رکھے ہیں،پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹرز کم‘ جب کہ عطائی دو گنا ء ہیں۔
عطائی ڈاکٹر بے لگا م ہو کرپورے ملک میں اپنی گرفت مظبوط کر کے لوگوں کو اپنے جھانسے میں پھنسا کر ان کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔قانون کی پاسداری نہ ہونے کی وجہ سے اسوقت ہر صوبے ہر شہر میں سینکڑوں عطائی ڈاکٹرز موجود ہے جو دن کے اوقات میں مختلف مقامات پر نوکریاں کرتے ہیں۔
کب پاکستان کے باسیوں کو مستند معالجین مہیا ہوں گئے، اور کب وطن عزیز کو عطائی معالجوں سے چھٹکارہ ملے گا۔ عطائی ڈاکٹرز میں سب سے زیادہ تعداد دائیوں کی ہے جو گائنا کالوجسٹ کا روپ دھار کر غریب خواتین کی زندگیوں کیساتھ کھیل رہی ہیں دوسرے نمبر پرشہر میں جعلی ڈینٹل کلینک پر موجود ڈاکٹروں کی ہے اور اسکے بعد جعلی حکیموں کا نمبر آتا ہے جو بانجھ پن کے علاج کا جھانسہ دیکر شہریوں سے ہزاروں روپے بٹورنے میں مصروف ہیں۔ مریض ان عطائیوں سے علاج کروا کر اپنی زندگیاں تباہ کرنے پر مجبور ہیں۔
عطائیت ایک معاشرتی ناسور ہے اور اس سے منسلک افراد انسانی جانوں کی موت کے سوداگر ہیں۔ عطائیت کی حوصلہ شکنی کرتے ہو ئے ان کے خلاف سخت قانونی کارووائی عمل میں لائی جا نی چاہیے۔ تاکہ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ بند ہونے کے ساتھ ہی اتنے مقدس پیشہ کی عزت و توقیر پر حرف نہ آئے۔ صحت مند معاشرہ ہی ترقی کا ضامن ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ کسی اچھے مستند معالج سے اپنا علاج کروائیں۔لباسِ خضر میں پھرتے ہیں ہزاروں راہزن‘ گر دُنیا میں رہنا ہے تو پہچان پیدا کر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*