بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> لاچار باپ کی معذور لڑکی،توجہ کی طلب گار

لاچار باپ کی معذور لڑکی،توجہ کی طلب گار

لاچار باپ کی معذور لڑکی،توجہ کی طلب گار
افضال بٹ
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات میں شمار کیا ہے اب اگر ہم اللہ تعالیٰ کی اشرف المخلوقات کے کام آئیں گے تو اللہ تعالیٰ کتنا خوش ہوں گے۔ ایک معذور لڑکی جس کی شادی کی تاریخ عید الاضحی کے بعد طے پائی تھی لیکن اس کے والد کے پاس اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے تاریخ بدل کر ڈیڑھ مہینے بعد رکھ دی گئی۔ پہلے بھی بذریعہ تحریر اس معذور لڑکی کے نکاح کیلئے بذریعہ تحریر مدد کی اپیل کر چکا ہوں لیکن اکا دکا غریب لوگوں کے علاوہ کسی مخیر نے توجہ نہ دی، ہمارے معاشرے میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہر کسی کو اپنی پڑی ہے، بچپن سے ہی اپنے بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ قیامت کے دن ہر کسی کو اپنی اپنی لگی ہوگی، یہاں تک کہ ماں باپ بھی اپنی اولاد کے کام نہیں آئیں گے، رشتہ دار، دوست احباب سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی، لیکن یہ نظارے آج کل ہمیں زمین پر دیکھنے کو سر عام مل رہے ہیں، قیامت سے پہلے زمین پر قیامت دیکھی جا سکتی ہے کہ یہاں سب کو صرف اور صرف اپنی پڑی ہے، کسی کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں، ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرنے اور دوسرے کو نیچا دیکھانے میں لگا ہے، ہر کوئی پیسے کی دوڑ میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ اُسے حقوق العباد کا کوئی علم نہیں کہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ کے دیئے مال کا حساب کتاب بھی دینا ہے کہ تمہارا مال کسی غریب، معذور، لاچار و دیگر کے کام آیا کہ نہ آیا؟
الحمد للہ آج تک میں نے کبھی کسی سے مدد کی اپیل نہیں کی بلکہ بہت سوں کی اللہ کی مدد سے خود مدد کی، شاید یہی میری کامیابی کا راز ہے، کیونکہ آج کسی سے کوئی کام کہہ دو تو وہ کنی کترانے لگتا ہے، لیکن ایک مجبور لاچار باپ کی معذور بیٹی کو دیکھ کر مجھے آج آپ سے مدد کی اپیل کرنا پڑ گئی، جانتا ہوں کہ ہم سب بے حس ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی مجھے آپ سے ایک پاؤں سے معذور بچی جس کی عمر بھی کافی ہو چکی ہے بمشکل رشتہ طے ہوا تو اب اُن کے پاس بیٹی کی شادی کیلئے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے، ان باپ بیٹی نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ میری بیٹی کی شادی عید کے بعد پہلے ہفتے میں طے پائی تھی جو پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بدل کر ڈیڑھ ماہ بعد رکھی گئی ہے، آپ کسی نہ کسی طرح دَر پردہ ہماری مدد کریں کہ میری بیٹی کے سسرال والوں کو پتہ نہ چلے کہ مدد کے پیسوں سے میں نے اپنی بیٹی بیاہی ہے نہیں تو میری بیٹی کا گھر بسنے سے پہلے طعنوں کی زد میں آکر اُجڑ سکتا ہے، آپ کے بہت سے لوگ جاننے والے ہیں، اب ان بیچاروں (بے بس) لوگوں کو کون سمجھائے کہ آج کے دور میں ہر کوئی مطلب کا رشتہ رکھتا ہے، اب رکھی ہوئی شادی کی تاریخ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آگے کر دینا اس غم و معاشرے میں تذلیل کو ایک بیٹی کا باپ ہی بہتر سمجھ سکتا ہے، بے بس لاچار والد نے ہاتھ جوڑ کر مجھ سے مدد کی اپیل کی اور بتایا کہ جیب میں ایک روپیہ بھی نہیں ہے، میں اپنی بیٹی کو جہیز میں کیا دوں گا، شادی کے اخراجات کہاں سے لاؤں گا، افضال بیٹا میری بیٹی کو اپنی بہن سمجھ کر اس کیلئے کچھ کرو“۔ اب جتنا ہو سکا میں نے اپنے دو تین دوستوں کو ساتھ ملا کر تھوڑی بہت مدد کر دی، کسی سے زور زبردستی تو کی نہیں جا سکتی اس لیے لکھاری ہونے کی حیثیت سے تحریر لکھ کر آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔
والد کی آنسوؤں سے تر آنکھوں کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ آج کے خود غرض معاشرے میں کس سے مدد مانگی جائے؟ کون کرے گا اس کی معذور بیٹی کی مدد؟ یہاں تو مالدار اُلٹا غریبوں کا مال کھانے کو بیٹھے ہیں، غریب چوریاں چکاریاں کرنے کے دَر پر بیٹھے ہیں، گورنمنٹ کو اپنی پڑی ہے، مخیر حضرات کو اپنی عشایوں سے فرست نہیں، خیر آج کے دور میں معذور بچیوں کا رشتہ طے ہو جانا ہی بہت بڑی بات ہے، یہاں تو اچھی خاصی لڑکیوں میں لوگ کیڑے (عیب) نکال کر رشتوں سے انکار کر دیتے ہیں، دینے والی تو اللہ کی ذات ہے اور مانگنا بھی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی سے چاہئے، مخیر حضرات کو بھی اللہ تعالیٰ ہی نے اس دنیا میں مخیر کی حیثیت سے نوازا ہے، زمین پر انسان انسان کے کام آتا ہے یعنی زمین پر اللہ تعالیٰ کی مرضی سے انسان ہی انسان کی مدد کا وسیلہ بنتا ہے، اللہ پر بھروسہ رکھ کر بسم اللہ پڑھی اور تحریر لکھنا شروع کی کہ شاید کسی کا دل پگھل جائے، شاید کوئی بیٹی والا ہی اس بیٹی والے کا دکھ سمجھ لے، معذور بچی کی شادی سر پر ہے اور اس کے لاچار، غریب والد کی عزت کا سوال ہے اگر آج ہم لوگ ان کے کام نہ آئے تو روز قیامت یہ لوگ ہمارا گریبان پکڑے کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں بہت سے لوگوں کو اتنا دیا ہے کہ وہ اکیلے ہی اس معذور بچی کی شادی کا پورا خرچہ اُٹھا سکتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک ہاتھ دینے اور ایک ہاتھ لینے کا رواج عام ہے، مطلب پرستی کے بغیر کوئی کسی کے کام آنے کو تیار ہی نہیں، حالانکہ قبر میں اترتے ہی انسان اکیلا ہو جائے گا، جو زمین پر کارنامے سر انجام دیئے اُس کا جواب وہاں اکیلے دے گا، جن کیلئے پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھ کر آیا اُنہوں نے اس کی قبر پر بھی جانا گوارہ نہیں کرنا۔
معذور بچی کے جہیز، شادی کا کھانا و دیگر شادی لوازمات کیلئے کچھ رقم کی ضرورت ہے جسے ہم سب نے مل کر جمع کرکے اس معذور بچی کو اپنی بہن، بیٹی سمجھ کر بہتر طریقے سے رخصت کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں نکاح کا بندھن بہت پسندیدہ ہے، اس پسندیدہ عمل میں شامل ہو کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے چونکہ معذور بچی الحمد للہ مسلمان ہے، اس کی شادی کے بعد آگے جو بھی اولاد جنم لے گی وہ مسلمان ہو گی، نکاح کا بندھن اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ اس لیے بھی ہے کہ مسلمانوں کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے، اب مسلمانوں کی نسل میں اضافے کا جو انسان سبب بنے گا ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے بہت نوازے گا، معذور بچی کی مدد کریں یہ اور اس کی آگے آنے والی نسل کے لہو کی ایک ایک بوند آپ کو دعائیں دے گی، آپ دنیا میں رہیں نہ رہیں یہ ثواب انشاء اللہ آپ کو ملتا رہے گا، قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے، آپ سب سے گزارش ہے کہ دکھ بھرے اس دریا کو بھرنے کیلئے قطرے کا کام ضرور کریں، کہ موت اٹل حقیقت ہے سب کچھ یہاں رہ جانا ہے قبر میں ہمارے ساتھ ہمارے اعمال جائیں گے، اس معذور بچی کا تعلق ملتان شہر سے ہے، اس کا نام و پتہ صیغہ راز میں رکھ رہا ہوں کہ اس بچی اور اسکے والد کا بھرم رہ جائے، تاکہ کل کو کوئی انہیں یہ طعنہ نہ دے کہ مانگی ہوئی رقم سے شادی کی ہے، آپ میرے ساتھ چل کر اس بچی کی اپنے دست مبارک سے پوری چھان بین کے بعد مدد کر سکتے ہیں۔ ڈر ہے کہ معذور لڑکی کا والد خودکشی نہ کر بیٹھے، اس بے چارے کا سہارا بنیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*