بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> 26جون تشددکے خاتمے کا عالمی دن

26جون تشددکے خاتمے کا عالمی دن

تحریر:علی جان
ہم اپنے مفادات میں کسی بھی حدتک جاسکتے ہیں چاہے کسی کی جان ہی کیوں نہ لینی پڑے مگرتشددمیں زیادہ ترمخالفین سیاسی ووٹرز ہی آتے ہیں یاپھرسیاستدان اپنے مفاد کی خاطرلوگوں پرظلم کے پہاڑتوڑتے ہیں اگرشہباز شریف کا ماڈل ٹاﺅن کیس یادکریں توکئی لوگوں پرتشددیاد آتا ہے اورکئی لوگوں کی لاشیں نظرآتی ہیں ۔سیاست کی بھینٹ لوگ آج نہیں چڑھ رہے قرون وسطی بالخصوص صلیبی جنگوں اورناپسندیدہ مذہبی فرقوں کے خلاف بدترین انتقامی کاروائیوں کے دورمیں بدترین دیوانگی حدتک پہنچے ہوئے مذہبی جوش وخروش نے اس قبیح طرزعمل کوسندعطاکی اگراس کا بھی بغورتجزیہ کیا جائے تواس میں بھی اپنے اقتدارکاغلبہ برقراررکھنے کے بہانوں کومعقولیت اورمذہبی تقدس کا لبادہ پہنانے کی کوشش کے سواکچھ بھی نہیں آج کے دورمیں بھی مذہبی اورسیاسی اختلافات کی آڑ میں اپنے اقتدارکیلئے تشددہونا عام سی بات ہے ۔قدرتی اورذرخیززمین پرقابض ہونے کالالچ بھی خونریزجنگوں کامحرک رہا جس کا لامحالہ نتیجہ تشددکی بدترین صورت میں نکلامگرتاریخ گواہ ہے کہ اس لالچ کی بھینٹ کئی افرادچڑھ گئے جن میں مفاد صرف چندلوگوں کاتھاجنہوں نے اپنی طاقت اوراقتدارکی حوس میں لاکھوں لوگوں کو ایندھن کی بھٹی میں دھکیل دیااقوام متحدہ کاادارہ 1945سے تشددکے خاتمہ کیلئے جدوجہدکررہاہے انسانی حقوق کے عالمی منشورکے دفعہ 5بیان کیاگیا ہے کہ کسی بھی انسان کوتشددظالمانہ یاہتک آمیزسلوک کانشانہ نہیں بنایاجائے گایادرہے کوئی بھی ایسااقدام جس کے ذریعے کسی بھی انسان اس کے بارے میں یا کسی تیسرے فردکے بارے میں معلومات یااقبالی بیان حاصل کرنے کی غرض سے اسے دانستہ طورپراسے جسمانی،ذہنی تکلیف یااذیت پہنچائی جائے کسی ایسے اقدام کیلے سزادیناجواس سے یاکسی تیسرے شخص سے سرزدہواہویااس کے سرزدکیے جانے کے یاکسی تیسرے شخص کوڈرانے دھمکانے میں انتقامی کاروائیوں کانشانہ بنایایاپھرکوئی ایسی تکلیف دی یااذیت دی کے معاملے میں امتیازی سلوک روارکھنایاسرکاری اہل کاروں یادیگرسرکاری حکام پریاان کی رضامندی سے ایسی کاروائیاں کرنااس تعریف میں وہ سزائیں اورتکالیف شامل نہیں جوقانونی تعزیرات پرعمل کے نتیجے میں پہنچ سکتی ہے۔یہاں پرمیں ضلع مظفرگڑھ کی تنظیم ایمز آرگنائزیشن کوخراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا کیونکہ اس ادارہ نے ہمیشہ مطفرگڑھ میں ہمیشہ عورتوں پرتشددکے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ کئی لوگوں کوراہ راست پربھی لے آئے اس ادارہ کی نظرحبیب جالب کے کچھ اشعار:
اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی
جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی
مخلوق خداجب کسی مشکل میں ہوپھنسی
سجدے میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی
ہرشخص سرپہ کفن باندھ کے نکلے
حق کیلئے لڑنا توبغاوت نہیں ہوتی(حبیب جالب)
80کی دہائی میں اقوام متحدہ کی اسمبلی نے اپنی قرارداد 39/46کے تحت تشدداوردیگرظالمانہ غیرانسانی یاہتک آمیزسلوک یاسزاﺅں کے خلاف قراردادپیش کی پھر26 جون 1987سے یہ قانون نافذالعمل کرکے تشددکوسنگین جرم قراردیتے ہوئے رکن ریاستوں کوپابندبناتا ہے کہ وہ مرتکب افرادکوقانون کے کٹہرے میں لاکھڑکریں اورانہیں سزائیں دیں یہ انسانی تشددکا اہم اقدام تھا کہ یہ تشددغیرانسانی اورذلت آمیزسلوک یاسزاﺅں کی ہرایک صورت مطلق طورپراوردنیابھرمیں غیرقانونی ہے آخرکاردسمبر1997میں اقوام متحدہ نے 26جون کے اس تاریخی دن کوتشددکے شکارافراد کی حمایت کے عالمی دن کے طورپرمنانے کی منظوری دی تشددکے خاتمے کاعالمی دن انسانی حقوق کے 6بڑے معاہدات میں سب سے کم توثیق کردہ معادہ ہے اپنے قارائین کوبتاتاچلوں 2002تک صرف 128ممالک نے براعظم ایشیاءسے اس معاہدہ پردستخط نہ کرنے والوں میں لاﺅس،ملائشیا، برما،برونائی،بھوٹان،شمالی کوریا،سنگاپور،تھائی لینڈ،ویت اورپاکستان شامل تھے۔موجودہ دورمیں بھی اقتدارکافقرہ اکثرسننے کوملتا ہے کیونکہ جدیداورمہذب دورمیں بھی حکمران اپنی عوام پرغاصبانہ تصرف کیلئے تشددکی بدترین صورتوں کاسہارالے رہے ہیںتشددجیسی برائی کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش میں اختیارات اوراقتدارکی ہوس سرفہرست نظرآتے ہیں دورجدیدمیں نسل تطہیراورنسل کشی جیسی اصلاحات سے بھی آشناہوئے ہیں یہ بہیمانہ کاروائیاں بجائے خودتشددکے بنیادی محرک نہیں بلکہ اقتدارکی ہوس میں بڑھی مفروضہ دوست اوردشمن کھڑے کرکے اپنے مقاصدتک رسائی حاصل کرنا ہے چنانچہ تشددکے پیچھے اقتدارپرغلبہ یعنی نفسیاتی محرکات دوسروں کے وسائل پرقابض ہونا درندگی پرمبنی اقتدار کے بھوکوں پرجن میں چندمٹھی بھراہل لوگوں کے حق پرقبضہ جمانا اقام متحدہ کی غیرفعال تنظیموں کے اعدادشمارکے مطابق دنیا کے 23ممالک عوام پرغاصبانہ تصرف کیلئے تشددکا بدترین سہارالے رہے ہیں جس میں ترقی یافتہ صنعتی ممالک بھی شامل ہیں انسانوں کوبچانے اورکرہ ارض کوتشددسے پاک کرنے کیلئے عالمی برادری کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بلکہ ہنگامی بنیادوں پرعمل کرنے کی بھی ضرورت ہے معاشرے کومہذب بنانے کی یہی ایک صورت ہے اس کرہ ارض پرزندگی کے معیارکوبہتربنانے کیلئے عالمی برادری کوبلاامتیازقومیت ونسل کوآوازاٹھانے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کرناہوں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*