بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ڈیم کب بنے گا… کالم نویس علی جان
ڈیم کب بنے گا

ڈیم کب بنے گا… کالم نویس علی جان

ڈیم کب بنے گا
تحریر: علی جان
(ڈیم کب بنے گا)پاکستان کی سیاست اورعوام کاسب سے بڑااشو ڈیم ہے مگرلوگ کالا باغ ڈیم تحریک کو بھول کرمہمندڈیم اور بھاشاڈیم تحریک میں لگ گئے ہیں 6ماہ میں پاکستان سے محبت کرنے والوں نے ایک بڑی رقم ڈیم فنڈ کی مد میں جمع کرائے پاکستان ڈیم فنڈ کی ویب سائیٹ پر اب تک کی تفصیل کے مطابق 9,174,420,009(Nine billion one hundred and seventy-four million four hundred and twenty thounsand and nine rupies)جمع ہیں جو قابل تحسین ہیں ۔ حالانکہ کالا باغ ڈیم پاکستان کیلئے بہت مفیدثابت ہوگا اور ہو بھی کیوں نہ کیوں کہ اسی سے ہماری ،ملکی اور معیشت کی بقاء ہے ہمارا ملک کوشدیدآبی بحران سے دوچارہوتا جارہا ہے اوراسکی وجہ ہمارا کھلادشمن بھارت ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدہ کو توڑ کر وہ آبی وسائل پر قابض ہوتا جارہا ہے اور اپنے ملکی مفاد کیلئے ڈیمز بنوائے جارہا ہے بھارت نے دریاؤں کا پانی اپنی طرف مورہا ہے جس وجہ سے ہمارے ملک کی کھیتی مفلوج ہوگئی ہے اور اگرکچھ نہ ہوا تو آگے تباہی ہوتی نظرآرہی ہے خبروں اور معلومات کے مطابق پاکستان میں 2025تک پانی ناپیدہوجائے گا جس سے ابھی سے آثار نظرآرہے ہیں زراعت ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہماری راعت کوجب پانی نہیں ملے گا تو ہمیں کھانے کو کچھ حاصل نہیں ہوگایہ ہماری بدقستی ہے کہ ہمارے سیاستدانون نے صرف اپنی کرسی اور پانچ سال کی مدت پوری کرنے کیلئے الیکشن جیتا اگروہ عوام اور ملک کے ساتھ مخلص ہوتے تو ڈیمز کی تعمیرکیلئے پالیسی شامل ہوتی آج اگرہمارے ملک میں کچھ بجلی ہے تو اسکا کریڈٹ صرف صدرایوب کوجاتا ہے جنہوں نے منگاڈیم،تربیلا ڈیم اور وراسک ڈیم جیسے منصوبے کامیاب کرائے اور مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے کالاباغ ڈیم کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی مگرمنصوبہ سیاسی بھینٹ چڑھ گیا اور صرف ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کیلئے آج تک کالاباغ ڈیم مسئلہ کشمیربن گیا ہے جو حل ہونے کا نام ہی نہیں لیتاتاکہ ملک میں خوشحالی اورروشنی آئے دریائے راوی ،بیاس اور ستلج کی حالت ہمارے سامنے ہے اور باقی ہیں چناب اورجہلم تو کبھی ادھر کا چکرلگالیں تو اندازہ ہوجائے گا اس میں کتنا پانی باقی ہے اور اگردشمنوں کی بات کریں تو تاریخ اٹھا کردیکھ لیں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہوا ہوں اغیار کے بجائے اپنے ہی دشمن ہوتے ہیں ہمارے سیاستدانوں نے اس مسئلہ کو ختم کرنے کے بجائے انتشارانگیزبیانات کررہے ہیں کہ اگر کالا باغ ڈیم بنا تو ہماری لاشوں پر بنے گا ایسی بیانات سے پاکستان اور پاکستانیوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتی ہیں اگرجذباتی بیانات سے مسئلے حل ہوتے تو کشمیرآزاد ہوچکا ہوتا اور بھارت ہمارا غلام بن کے رہ رہا ہوتا مگر ان عقل کے اندھوں کوکیا بتائیں کہ اپنے گریبانوں میں جھانکنے کے بجائے دوسروں کے دامن چاک نہ کریں اسی وجہ سے جولوگ کہہ رہے ہیں کہ ہماری لاشوں پر کالا باغ ڈیم بنالیں تو پاکستان کے قیام کے وقت بھی کئی قربانیاں دی اب پاکستان کوبچانے کیلئے اگرکچھ اور قربانیاں دینی پڑی توہمیں دیرنہیں کرنی چاہیے کیونکہ کچھ قربانیوں سے ملک اور ملکی لوگ بچ جائیں گے ورنہ 2025کے بعد پیاس اور بھوک سے بلک بلک کے مرنے سے تو بہتر ہے ہمارے سرپربم گراکرجاں بحق کردیں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے مسئلے کو سب سیاستدان گڈے گڈی کا کھیل سمجھ رہے ہیں ہمیں لولی پاپ دیتے ہیں اور اپنے پانچ سال پورے کرلیتے ہیں۔ملک بھرمیں کئی مقاما ت پر ڈیمز کی ضرورت ہے اس پرکام نہیں کیا جارہا اور اسی جنگ میں بھاشا ڈیم کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے اب بات کریں ڈیمز مخالفت کی تو صوبہ پنجاب میں ناہونے کے برابر مخالف ہیں بلوچستان چونکہ سندھ سے پانی لیتاہے اسی وجہ سے اسی کی ہاں میں میں ہاں ملاتا ہے جبکہ اس منصوبے میں سندھ اور خیبرپختونخواہ بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں پنجاب اسمبلی میں اس منصوبے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی پر باقی صوبوں میں کالا باغ ڈیم کی مخالفت ہی ہورہی ہے اس عظیم منصوبہ میں رکاوٹ سوچ سے بالاترہے خیبرپختونخواہ میں اے این پی مخالفت میں سرفہرست ہے اور ان کے سربراہ نے اتنا تک کہہ دیاہے کہ ہائی کورٹ کا آرڈرآیا ہے اگرسپریم کورٹ کا آرڈربھی آیا تو اسکے باپ کوبھی کالا باغ ڈیم نہیں بنانے دیں گے سندھ میں بھی اپنی سیاست چمکانے والوں نے بھی کمی نہیں کررکھی اور انہوں نے اپنا رنگ دکھاناشروع کردیا ہے اور کہتے ہیں اگرکالا باغ ڈیم بنا تو پہلے ہم سے اجازت لینا ہوگی اور سب سے زیادہ مخالفت کرنے والے کبھی اجازت نہیں دیں گے سب جانتے ہیں لوگوں کو چھوٹے چھوٹے نقصانوں سے ڈراتے ہیں کیونکہ عام آدمی کو تو کالاباغ ڈیم کے فوائد کے الف ب کا بھی نہیں پتا اسی وجہ سے سیاستدان انکو ہی اپنے جلسوں میں بلوا کر کالاباغ ڈیم کے خلاف نعرے لگواتے ہیں بھارت بھی کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتاہے اور چند شرپسندنام نہاد پاکستانی جس چیز کی بھارت مخالفت کررہا ہے اسی کی یہ لوگ بھی مخالفت کررہے ہیں بھارت ڈیمز پر ڈیمز بنوائے جارہا ہے اور ہمارے اندرونی دشمن ہمیں ڈیم بنانے سے روک رہے ہیں کیونکہ بھارت کو پتا ہے کالا باغ ڈیم بننے میں چاہے چھ یا سات سال لگ جائیں مگر اسکی تعمیر کے بعد پاکستا ن کوسستی ترین بجلی ملے گی جس کا فی یونٹ ڈھائی روپے پڑے گا یعنی اگرہر گھرمیں 2اے سی چوبیس گھنٹے بھی چلیں تو 6000سے زیادہ بل نہ آئے گا کیونکہ کالا باغ ڈیم 20ارب یونٹ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے سالانہ 300ارب روپے کی بچت ہوگی ماہرین کے مطابق اس صوبہ کی تعمیرسے 3600میگاواٹ بجلی پیداکی جاسکتی ہے کالا باغ کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں اگرسیاستدان چاہیں تو مل بیٹھ کر یہ مسئلہ حل ہوسکتاہے اب ہمیں اور دیرنہیں کرنی چاہیے چھوٹے ڈیمز تیارکیے جائیں جن پر تمام صوبوں کا اتفاق رائے ہوچکا ہے کیونکہ پانی کے ذخائر پر ہم پہلے بھی کافی دیرکرچکے ہیں اسی کی وجہ بھی سیاست ہی ہے جس وجہ سے آج ہماری معشیت مفلوج ہوکررہ گئی ہے بھارت نے پانی کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے ڈیموں کی بھرمارکررکھی ہے اور 55ڈیمزاور ہائیڈل پاوربنانے کی تیاری شروع کردی ہے اگربھارت اپنے منصوبوں پر تکمیل پالیتا ہے تو پاکستان میں پانی نام کی کونسی چیز رہ جائے گی ۔مرالہ ہیڈورکس کے اوپر بننے والی ہیڈورکس بندہوجائے تو پاکستان میں ایک کروڑ ایکڑرقبہ جس میں چاول کاشت کیاجاتا ہے سب تباہ ہوجائے گا اور اگرمرالہ کی خشکی ختم کرنے کیلئے اگر منگلا ڈیم سے مرالہ کی خشکی ختم کرنے کی کوشش کی تو منگلا ڈیم بندپڑجائے گا ۔بھارت نے پاکستان کو بنجراورویران کرنے کیلئے چناب پر24،جہلم پر52اورسندھ پر 18ڈیم بنانے کامنصوبہ بناکر پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے دریائے نیلم جسے بھارتی کشن گنگا کہتے ہیں اس پر پاکستان ہائیڈرل پاور پراجیکٹ بنانے کی کوشش کررہا اور اگربھارت کا کشن گنگا ڈیم بن گیا تو پاکستان کے پراجیکٹ صرف نام کے رہ جائیں گے ملک میں انتشاری بیان ملکی مفادمیں نہیں کالا باغ ڈیم پرنفرت انگیزسیاست سے ملک کو ایسانقصان پہنچے گاجس کا اذالہ کبھی ممکن نہیں ہوسکے گا(جاری ہے)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*