ہر قسم کے بیکٹیریا مارنے کےلیے ’زہریلے تیر‘ جیسی اینٹی بایوٹک تیار

نیوجرسی (مایٹر  نگ ڈیسک) امریکی سائندانوں نے ایک ایسی دوا تیار کی ہے جو سالماتی زہریلے تیر کی طرح کام کرتی ہے اور کی بھی قسم کے بیکٹریا کو مار سکتی ہے چاہے وہ کتنا ہی سخت جان کیوں نہ ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوا کے خلاف چرثیموں میں مزاحمت بھی پیدا نہیں ہوتی ،اب تک اسے دوا کو چوہوں پر آمایا جاچکا ہے اور انسانی آزمائشوں کے بعد یہ دوا دستیاب ہوگی اور اس کی دستیابی میں کم سے کم تقریباً 8 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے
تحقیقی مجلے ”سیل“ میں تفصیلات شائع ہوئی ہے جن سے پتہ چل ہے کہ یہ دوا عام اینٹی بائیوٹکس کے مقابلے میں مختلف طریقے سے کم کرتی ہے
ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) کے خلاف جراثیم کی بڑھتی ہوئی مزاحمت سے پریشان سائنسدانوں اور محققین کی نظریں اس مرکب پر بھی تھیں لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ آخر یہ کیسے کام کرتا ہے اور کسی بھی طرح کے خلیے، بشمول جرثومے، کو ہلاک کر دیتا ہے۔

جب یہ کسی جاندار خلیے پر حملہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنی تیر جیسی ساخت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس خلیے کی جھلی (سیل میمبرین) پھاڑ ڈالتا ہے اور اس کی تباہی کا آغاز کرتے ہوئے اندر داخل ہوجاتا ہے۔

البتہ، مشکل یہ تھی کہ ایس سی ایچ 79797 بے ضرر خلیوں اور جرثوموں، دونوں کو یکساں بے رحمی سے ہلاک کرتا ہے، جبکہ بطور دوا استعمال ہونے کےلیے ضروری ہے کہ یہ صرف مخصوص جرثوموں ہی کو نشانہ بنائے جبکہ دوسرے خلیوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

اینٹی بایوٹکس پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے اسے ایک انقلابی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”زہریلے تیر جیسی اینٹی بایوٹکس“ کی تکنیک سے بیماریوں کے علاج میں امکانات کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔

اگلا مرحلہ اس نئی طرز کی اینٹی بایوٹک کی انسانی آزمائشوں کا ہے جن کا آغاز مزید تجربات کے بعد ایف ڈی اے کی منظوری سے مشروط ہے