بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> نواز شریف کی بیماری اور ڈیل

نواز شریف کی بیماری اور ڈیل

نواز شریف کی بیماری اور ڈیل
تحریر انور علی
بیماری پہ سیاست کرنے کو ایک طعنے کے طور پر لیا جاتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بیماری پہ سب ہی سیاست کر رہے ہوتے ہیں کوئی بیماری کا مذاق اڑا کے سیاست کر رہا ہوتا ہے تو کوئی بیماری پہ ہمدردی کا اظہار کرکے سیاست کر رہا ہوتا ہے۔بیگم کلثوم نواز جب بسترمرگ پر تھیں تو بھی ان کی بیماری کا تمسخر اڑایا گیا ان کی فیک تصاویر کو وائرل کیا گیا جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ یہ سب ایک سکرپٹڈ ڈرامے کا سین ہے جس میں بیگم کلثوم نواز کو کیمروں کے سامنے کچھ دیر کے لیے مریضہ بنایا جاتا ہے اور ہسپتال کے اندر جا کے سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہو جاتا ہے اس تاثر سے متاثر ہو کے ہی کچھ لوگوں نے ہسپتال کے اندر گھس کے تصویریں بنانے کی کوشش بھی کی تھی میڈیا پہ یہ پروپیگنڈا کیا جارہا تھا کہ شریف خاندان سزا سے بچنے کے لیے بیگم کلثوم نواز کی بیماری کو بڑھا چڑھا کے پیش کر رہا ہے اور اس تاثر کا شکار بڑے بڑے دانشور بھی ہوئے جو ان کی وفات کے بعد معافیاں مانگتے ہوئے دکھائی دیے۔اب ایک دفعہ پھر شریف خاندان کو نواز شریف کی بیماری کی شکل میں ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے الیکشن سے پہلے جب نواز شریف کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو اس وقت بھی ایک رات انہیں ایمرجنسی طور پر راولپنڈی کارڈیالوجی ہسپتال لایا گیا میڈیا پہ اس وقت بھی ڈیلز کی خبریں چل رہی تھی جبکہ بعد میں سرکاری کاغذات سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ اس رات نواز شریف کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ نواز شریف کو اڈیالہ جیل راولپنڈی سے کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر دیا گیا اس دوران بھی ڈیل کی خبریں منظر عام پر آتی رہیں حکومت نے نواز شریف کی بیماری کے لئے 5 سرکاری میڈیکل بورڈز بنائے ان سب میڈیکل بورڈز نے نواز شریف کی بیماری کو تشویشناک قرار دیا اور انہیں فورا ہسپتال منتقل کرنے کا کہا اس دوران جونہی کوئی خبر میڈیا کے ذریعہ عوام تک پہنچتی تو عوامی دباؤ کے نتیجے میں حکومت نواز شریف کو ہسپتال کا چکر لگوا لیتی اور کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ جونہی نواز شریف کی ضمانت کی درخواست پر شنوائی ہوتی حکومت فوراً نواز شریف کو ہسپتال شفٹ کر دیتی اور میڈیا کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا کہ اندرکھاتے ڈیل ہونے جا رہی ہے ڈیل کے تاثر کا مقصد عدلیہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہونا ہوتا تھا جس میں حکومت کافی حد تک کامیاب رہی اس ڈیل کے تاثر کا سب سے زیادہ نقصان نوازشریف کو ہوا جو ہائی کورٹس سے لے کر سپریم کورٹ تک کہیں سے بھی کوئی مستقل ریلیف نہ لے سکے اور اس دوران نوازشریف کی طبیعت مسلسل بگڑتی گئی۔ااسی دوران کوٹ لکھپت جیل سے ہی نیب نے نواز شریف کو ایک اور کیس حمزہ شوگر مل کیس میں بھی اپنی تحویل میں لے لیا جہاں ان کی صحت کی تشویشناک صورتحال کو نظر انداز کرتے ہوئے کوٹ لکھپت جیل میں مہیا سہولیات بھی واپس لے لی گئیں جو نواز شریف کی صحت کے لئے ڈیزاسٹر کا سبب بنی اور انہیں ایمرجنسی طور پر سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا ڈاکٹرز کے بورڈ نے ان کا معائنہ کیا اور مختلف ٹیسٹ تجویز کیے سرکاری ڈاکٹرز کے مطابق انکے پلیٹلیٹس کی تعداد 2ہزار تک گر چکی تھی جو ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہونی چاہیے اس دوران صوبائی وزیر صحت کے مطابق نوازشریف کو ہارٹ اٹیک بھی ہوا اور سانس کی نالی میں تکلیف بھی رہی۔سرکاری ہسپتال میں سرکاری ڈاکٹرز کی زیر نگرانی ہونے والی رپورٹس کے باوجود بھی عمران خان کے این آرو نہیں دوں گا اور وزراء کے نوازشریف کی بیماری کے متعلق سخت ریمارکس ہیڈلائنز کا حصہ بنتے رہے عمران خان کو جب نواز شریف کی بیماری کی اصل صورتحال سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نے پھر بھی تسلی کے لیے شوکت خانم ہسپتال کے چند سینئر ڈاکٹرز کو صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا – شوکت خانم ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز کی رپورٹس کی روشنی میں ہی عمران خان نے نواز شریف سے متعلق ہمدردی کا اظہار کیا اور وزراء کے نوازشریف کی بیماری کے متعلق بیانات پر پابندی لگائی۔اب چونکہ نواز شریف کی صحت کی صورتحال تشویشناک حد تک گر چکی ہے جس کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہنگامی بنیادوں پر کیس کی سماعت کی اور ڈاکٹرز کو رپورٹس کے ساتھ ذاتی حیثیت میں بھی طلب کیا ڈاکٹر کی رپورٹس اور ان کے بیانات کی روشنی میں عدالت نے نواز شریف کو 8 ہفتوں کی ضمانت دی جس میں توسیع کا اختیار پنجاب حکومت کو ہے سرکاری ڈاکٹرز کے بورڈ کے مطابق نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے جانا چاہیے دن بدن بگڑتی صورتحال اور گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے اب نواز شریف بھی بیرون ملک علاج کروانے پر رضامند ہو چکے ہیں جو سوموار تک ای سی ایل سے نام نکلنے پر لندن روانہ ہو جائیں گے۔اب ایک دفعہ پھر ڈیل کی افواہوں کا بازار گرم ہو چکا ہے جس میں سب اپنے اپنے حق میں دلائل دے رہے ہیں ڈیل کے مطابق تو نواز شریف اور مریم نواز نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر کے بیرون ملک جانا تھا اور شہباز شریف نے پارٹی قیادت سنبھالنی تھی جب کہ ابھی موجودہ صورتحال میں مریم نواز پاسپورٹ عدالتی کسٹڈی میں ہونے کی وجہ سے پاکستان میں رہیں گی اور نواز شریف کے بھتیجے سمیت پارٹی کی اعلی قیادت ابھی بھی جیلوں میں ہے عدالتوں میں موجود کیسز بھی بدستور چلتے رہیں گے تاریخ سچ اگل کے رہتی ہے کچھ عرصے بعد کردار ادا کرنے والے خودبخود بولنا شروع ہو جاتے ہیں جلد یا بدیر اس بات سے پردہ ضرور اٹھے گا کہ عمران خان نوازشریف کی بیماری کے ہاتھوں مجبور ہوئے یا پس پردہ کوئی اور ہاتھ تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*