بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> غیرملکی ڈراموںکی یلغار

غیرملکی ڈراموںکی یلغار

اقصیٰ
ویسے تو ہم Made in pakistan کے حمایتی ہے اوربہت سے معاملات میں اس پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں جو کہ ایک خوش آ ئندعمل ہے کہ ہمارا معاشرہ باشعور ہوگیا ہے اس میں کو ئی شک نہیں کہ پچھلے کافی عرصے سے ہمارے ملک میں ہمارے ہمسایہ ممالک کا ثقافتی اثرورسوخ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے پھر وہ زندگی گزارنے کے لحاظ سے بھی ہوسکتا ہے اور سماجی بھی اورشادی بیاہ میں ناچ گانے کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور اس کے بڑھنے کی وجہ ہمارے ہاں ٹی وی پر انکے ڈراموں کی بھرمار ہیںیہ عوامل تو ہمیں بر صغیر سے علےحدگی کے وقت گویا ورثے میں ملے ہیں مگر چند خا ص عناصرپہلے دن سے ہی ہمیں ہمارے پاوں پر کھڑا ہونے نہیں دینا چاہتے ہیں اور ہمیں ہمارے معاشرتی اور ثقافتی اصولوں پر عمل کرنے سے ہر طرح سے روکنے کی کوشش میں ہے اور کسی حد تک ہم ایسا کرتے بھی ہے میری اس بات سے کچھ لوگ متفق بھی ہوگے اور کافی مخالفت بھی کرے گے ایک دور تھا جب ٹی وی پر صرف اور صرف PTV
ہی آیا کرتا تھا اور اس دور میں PTV نے لوگوں کو ہر لحاظ سے باشعور کیا اور تعلیم و تربیت کی کہ ہمیں اپنی زندگی میں کس طرح دین اور دنیا کو ساتھ لے کر چلنا ہے اورا سی بناءپر لوگ اور معاشرہ انتہائی سلیقہ شعار با ادب اور روایتی ہو گیا مگر آہستہ آہستہ اس پھلتے پھولتے معاشرے کو دشمن کی نظر لگنے لگ پڑی اور پھر وہ دور آیا کہ ٹی وی پرصرف ©©©© ©کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی ©ِ چلتا تھا اس وقت تقریبا ٪100میں سے انداز70 یا 75 کے قریب لوگ ان ڈراموں سے اس قدر لطف اندوز ہورہے تھے کہ گویا یہ ڈرامے انکی زندگی کا لازمی ج±زبن گئے ہوں خواتین گھر میں خوامخواہ کی کمولیکا بنی ہوتی تھی اور ساس کے کردار کو تو ایسے دیکھایا جاتا تھا کہ اس سے زیادہ خطرناک اور چال چلنے والا کوئی نہیں ان ڈراموں کا اثرورسوخ بہت گہرا تھا جو کہ ابھی بھی جاری ہے مگر شدت کافی کم ہوگی ہے یہ سلسلہ90کی دہائی سے شروع ہوتا ہوا ابھی تک جاری ہے مگر ایسا ہرگز نہیں کہ اس عرصے میں ہماری ٹی وی انڈسٹری اپناکام ٹھپ کر کے بیٹھ گئی ہوں ہمارے بھی اس دور میں انتہائی اہم سماجی موضوع پر ڈرامے بن رہے تھے جو کہ ان ڈراموں سے کئی درجے اچھے معیاری اور سبق اموز تھے اور سب سے بڑھ کر بات مختصر تھے بھارتی ڈراموں کی اقساط تو خدا کی پناہ 500اقساط 1000اقساط پر مشتمل ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں ڈراموں کی اقساط 25یا 35 اقساط پر مشتمل ہوتی ہے اور ہفتے میں ایک مخصوص دن لگتے ہیں پھر ایک دور آیا کہ جب ہماری عوام ان فرسودہ ڈراموں کی حقیقت سے آشنا ہوگی کہ ان ڈراموں میں سوائے عوام کے وقت قوت آنسووں کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں تو لوگوں نے دوسرا حربہ استعمال کیا وہ یہ تھا کہ ترکی کے ڈراموں کی بھرمار آج سے چند سال سے ہمارے پرائیوٹ ٹی وی چینلز نے ترکش ڈراموں اور اس کے کلچر کو فروغ دینا شروع کر دیا اور پھر وہی وقت آنا تھا جس ہم پہلے ہی واقف تھے مقبولیت کا دور ترکش ڈراموں کو ہمارے ملک میں بہت پزیرائی ملی لوگوں نے ان کرداروں کو اپنانا شروع کردیا عشق ممنوع اور فاطمہ گل سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے ڈراموں میں شامل ہے ان ڈراموں کا اثرورسوخ بھی ہمارے معاشرے میں بڑھنا شروع ہوگیا اور لوگ ان کی زبان انداززندگی اور لباس کو اپنانے لگے اور اس طرح بھارتی اثرورسوخ تو ختم ہوا وہ الگ نیک شگون ہے
اگر عوامی رائے جانے جائے تو اکثریت پاکستان میں بھارتی فلموں اور ٹی وی ڈراموں پر ناخوش ہیںکیونکہ وہ سمجھتے ہیں بھارت اس کے ذریعے بغیر ہتھیاروں کے یلغار کر رہا ہے،ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارتی ثقافت کو ہماری نوجوان نسل کے ذہنوں میں اتارا جارہا ہے جو قابل تشویش ہے۔ عوامی رائے میں بھارت کی بہت سی فلمیں ایسی ہوتی ہیں جس کی بنیادی کہانی پرغور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اس میں پاکستان کو منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جبکہ بھارت کی فلموں اور ڈراموں میں بھی جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ ہرگز ہماری ثقافت نہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات پرنظر رکھے اور اس طرح کی فلموں اور ڈراموں پرپابندی عائد کی جا ئے جس کے ذریعے نوجوان نسل میں منفی رجحان پیدا ہو۔کچھ لوگوں نے بھارت کی فلموں اور ٹی وی ڈراموں کو بغیر ہتھیاروں کے یلغار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمران ابھی تو اس پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں آنے والے چند سالوں میں اس کے نتائج سب کے سامنے آ جائیں گے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ بھارتی فلموں کی نمائش تو ٹھیک ہے مگر بھارتی فلموں کو سنسرشپ سے فلٹر ہو کر چلانا چاہیے۔ اسکے علاوہ پاکستانی فلموں کو بھی بھارتی سینما گھروں میں نمائش کے مکمل آزادی اور مواقع ملنے چاہئیں۔
مگر سب سے قطع نظر یہ سوال ہماری ذہنوں کو منتشر ضرور کر رہے ہونگے کہ غیر ملکی ڈرامے امپورٹ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ دوسرا یہ کہ کیایہ ڈرامے ہماری اسلامی اقدار پر پورا اترتے ہیں؟ کیا ان میں عریانی فحاشی اور رشتوں کی پامالی کے مناظر ہماری سماجی زندگی میں زہر نہیںگھول رہی؟ذرا سوچیئے اور ضرور سوچیئے کہ اس غیر ملکی اور غیر اسلامی ثقافت کی یلغار جو کہ زوروشور سے چلی ہے کو قابو کرنا مشکل سا ہوگیا ہے لیکن اب فیصلہ اب کہ ہاتھ میں ہے کہ Made in pakistan کو فروغ دینا ہے کہ Made in ?سمجھ ہی گئے ہوگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*