بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> پاکستان سے بہترروابط، امریکہ حقائق کا بھی ادراک کرے
آئی ایم ایف

پاکستان سے بہترروابط، امریکہ حقائق کا بھی ادراک کرے

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے آنے کے بعد امریکا کے ساتھ رابطے کافی زیادہ ہوگئے ہیں۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے پاک افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان کے مطابق اس دوران دونوں ممالک نے باہمی طور پر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔بلا شبہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا،افغان حکومت اور دیگراسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے زلمے خلیل زاد باقی ممالک کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔امریکہ کے مشیر سلامتی جان بولٹن نے بھی گزشتہ دنوںباہمی تعلقات کے حوالے سے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو پیغام دیا تھا کہ ماضی کو پیچھے چھوڑیں اور آگے بڑھیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کی بحالی کیلئے پاکستان میں نئی حکومت کا آغازصفحہ بدل کر آگے بڑھنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کوبھی سودمند قرار دیاتھا۔پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو‘ وہ فوجی آمر پرویزمشرف کی طرح کا فیصلہ نہیں کرے گی کہ جنہوں نے ملکی مفاد کا لحاظ کئے اور کوئی شرط منوائے بغیر وائٹ ہاﺅس کے ایک اہلکار کے ٹیلیفون پر ہی امریکہ کا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا۔ امریکہ نے ترکی سے بھی اسی قسم کا تعاون مانگا تھا جس کے جواب میں ترکی نے امریکہ سے ایئرپورٹ استعمال کرنے کی اجازت کے بدلے ایک رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ سو ارب ڈالر طلب کر لئے تھے۔ امریکی اہلکار کا صدر پرویزمشرف سے یہ کہنا ہی غلط تھا کہ آپ (پاکستان) دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا ہمارے ساتھ اور ہمارا ساتھ نہ دیا تو آپ دہشت گردوں کے ساتھ سمجھے جائیںگے۔ صدر پرویزمشرف کو دو ٹوک جواب دینا چاہئے تھا کہ پاکستان دہشت گردی پر تین حرف بھیجتا ہے لیکن اس مرحلے پر آپ (امریکہ) کا ساتھ دینا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ امریکہ کا ساتھ دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو امریکہ اور نیٹو افواج کے مقابلے میں کہیں زیادہ جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا اور دہشت گردوں کو خواہ مخواہ اپنا دشمن بنا لیا جو ابھی تک پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ امریکہ نے وعدے کے باوجود دہشت گردی کی جنگ کے باعث پاکستان کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کی دس فیصد بھی تلافی نہیں کی۔ پاکستان کے ساتھ ایک اور زیادتی یہ کی کہ بھارت کو افغان معاملات کا ٹھیکیدار بنا دیاجس کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رتی بھر بھی کردار نہیں ہے۔ افغان مسئلے اور دہشت گردوں کے حوالے سے واشنگٹن میں پاکستان کی وضاحتوں کے مقابلے میں بھارتی بیانئے کو واشنگٹن میں من و عن مستند تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ پاکستان تو ماضی کے زخم بھلا کر امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے مگر امریکہ بھی اپنی غلطیوں کا اقرار کرے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں امریکہ پہنچنے پر صاف صاف کہا تھا ”ڈالر لینے نہیں آیا‘ امریکہ سے تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔“ یہ ہے نئی حکومت کی پالیسی۔ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے۔ وہ خطے کے معاملات بشمول سی پیک کو بھارت کی نظر سے دیکھنا ترک کر دے۔ حقائق کا ادراک کرے تو آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی اس پالیسی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے،وہ بنیادی طورپر امن پسند ملک ہے اور اس بات میں یقین رکھتا ہے امن سے ہی علاقے میں استحکام و خوشحالی اور غربت اور جہالت کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے عالی ہمت و سنگِ میل منصوبے کی بنیاد
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے عظیم منصوبے کا آغاز کردیا ہے‘ پسماندہ طبقے کو استطاعت کے مطابق مکانات فراہم کئے جائیں گے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ منصوبے سے منسلک چالیس صنعتوں میں روزگار کے ساٹھ لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔ ایک روز قبل ہی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو کچی آبادیوں کے وزٹ کا مشورہ بھی دیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا تھاکہ اسلام آباد کی کچی آبادیوں میں رہنے والے حالات نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ وہ وزیراعظم کو کوئی حکم نہیں دے رہے تاہم وزیراعظم کچی آبادیوں کا وزٹ کریں بطور چیف ایگزیکٹو انہیں کچی آبادیوں کے مکینوں کے حالات کا پتہ ہونا چاہئے۔یقینی طور پر چیف جسٹس نے بجا فرمایا، اور بطور وزیر اعظم عمران خان کو بھی اس بات کا علم ہوگا،اور 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے عالی ہمت و سنگِ میل منصوبے کے ساتھ ساتھ یقیناکچی آبادیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے بھی ضرور کوئی لائیحہ عمل ترتیب دیا جارہا ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*