بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیے
آئی ایم ایف

احتساب کا عمل جاری رہنا چاہیے

پاکستان کے عدالتی نظام کے خلاف سب سے بڑی شکایت مقدمات کی تاخیر سے تکمیل کے حوالے سے ہے جبکہ ماہرین کے اندازوں کے مطابق ایک مقدمے کا فیصلہ آنے میں اوسطاً 15 سے 20 سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔اسی کرب کا ذکر گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کیاکہ سپریم جوڈیشل کونسل اب بہت فعال ہے اور احتساب کا عمل شروع ہوچکا ہے، اب سب ججز کا احتساب ہوگا، لوگ چیخ چیخ کر مر رہے ہیں اور انصاف نہیں مل رہا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بنچ نمبر ون نے سات ہزار کیس نمٹائے، ججز سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں 20 کیس نمٹائے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کم کیسز کے فیصلے کرنے والے ججز کے خلاف بھی آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی ہوگی اور ججز کو چھٹی والے دن کی تنخواہ نہیں ملے گی۔اس سے قبل سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رواں سال 21 جولائی کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔اس سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ احتساب کا عمل پورے ملک میں شروع ہو چکا ہے، سیاستدانوں کے بعد ججز حضرات بھی اب احتساب کے عمل سے گزر رہے ہیں جو کہ خوش آئند ہے ،اورامید بھی ہے کہ یہ وسعت اختیار کرے گا۔اور قوی امید بندھی ہے کہ اب کوئی بھی اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز نہیں کرے گا۔اب ججوں کا احتساب شروع ہوچکا،ایسا پہلے ممکن نہ تھا۔جہاں تک کرپٹ ججز کا تعلق ہے تو ہماری عدلیہ کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا کہ وہ باہر سے کسی کو عدلیہ کا احتساب بھی نہیں کرنے دیتی تھی۔ سپریم جیوڈیشل کونسل ہی واحد ادارہ ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے احتساب کا اختیار رکھتا ہے،اس کیس سے قبل یقینا عدلیہ کا خیال تھا کہ اعلیٰ عدلیہ میں موجود تمام ججز نیک پارسا ہیں،ان میں کسی غلط شخص کے شامل ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہو تا، اس لئے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں احتساب کی کوئی ضرورت نہیں۔ سپریم جیوڈیشل کونسل دراصل سپریم کورٹ کا ایک ماتحت ادارہ ہے۔ جس کے بارے میں بوقت ضرورت سپریم کورٹ کسی بھی وقت کوئی بھی حکم جاری کرسکتا ہے۔
کڑے احتساب کا یہ عمل یقینا وزیر اعظم عمران خان کی حکومت میں شروع ہوا ہے، اور اس سے قبل اس چرح کے احتساب کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔لہٰذااب اس عمل کو جہدمسلسل کی طرح آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔وزیر اعظم عمران خان نیب ، ایف آئی اے کو مضبوط کررہے ہیں،اور ان اداروں سے سیاسی اثرو رسوخ ختم کررہے ہیں،جو یقینا ایک خوش آئند امر ہے کہ پاکستان میں آنے والے وقت میں صرف انصاف کا بول بالا ہوگا۔پاکستانیوں کو فخر کرنا چاہئے کہ عمران خان نے جو باتیں کیں انہیں پورا کرکے دکھارہے ہیں۔لہٰذا احتساب کا عمل پورے زورو شور سے جاری رہنا چاہیے۔ ا±مید ہے عمران خان معاشرے میں طاقت ور کے احتساب کے عمل کو شروع کرنے کے بعد اسے رکنے نہیں دیں گے۔ احتساب ہوگا بلا امتیاز ہوگا کے نعرہ کو اگر سچ ثابت کر دیا تو یقینا وہ سرخرو ہوں گے!

سندھ کے وزیر تعلیم تبدیلی کی مثل بن گئے
سب سے بڑا مسئلہ اونرشپ کا ہے اور شروعات اوپر سے ہوں گی تو تعلیم کا معیار بھی اچھا ہوگا۔ وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے اسمبلی میں کیے گئے اعلان کے مطابق اپنی اکلوتی بیٹی کو سرکاری اسکول میں داخل کراکر تبدیلی کے نعرہ کو سچ ثابت کر دکھایا۔صوبائی وزیر تعلیم نے اپنی 8 سالہ بیٹی کیف کو حیدرآباد کے گورنمنٹ گرلز میراں اسکول میں تیسری جماعت میں داخل کرایا ہے۔اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی بچی کو سرکاری اسکول میں داخل کرادیا اب دوسرے اراکین کے لیے امتحان ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم کی صاحبزادی کیف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ میرے والدین نے سرکاری اسکول سے پڑھا اور میں بھی سرکاری اسکول سے پڑھنا چاہتی ہوں، آج اسکول کا ماحول دیکھ کر بہت اچھا لگا ہے۔یاد رہے کہ صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی صاحبزادی کو سرکاری اسکول میں داخل کروا کر سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بڑھائیں گے اور معیار تعلیم بلند کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔بلا شبہ جب ابتدا منسٹر اور ٹیچر سے ہوگی تو تعلیم کا معیار بھی اچھا ہوگا اوریقینا سرکاری اسکولوں پر اعتماد بڑھانے کی طرف پہلا قدم ہے، ابھی آغاز ہے اور امید ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*