بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے سے ملکی معیشت تباہی کا شکار ہوجائے گی
قرضوں

آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے سے ملکی معیشت تباہی کا شکار ہوجائے گی

لاہور(یواین پی)امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہاہے کہ حکومت پاکستان کی مزید قرضوں کے لیے آئی ایم ایف کو دی جانے والی درخواست سے ملکی معیشت تباہی کاشکار ہوجائے گی اور پاکستان میں مہنگائی کانیا طوفان آئے گا جو پھر قابو میں نہیں آسکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں تقریب سے خطاب اور عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ دنیا میں جن ممالک نے بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لیا ان کی معیشت تباہ ہوگئی ۔ترقی اور ملائیشیاکی مثالیں ہمارے سامنے ہیں لیکن جب ان ملکوں نے آئی ایم ایف سے چھٹکارہ حاصل کیا تو آج دونوں ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں کی طرح تحریک انصاف کی نئی حکومت نے بھی وہی طرزعمل اختیار کیا جو پہلے حکمران کرتے آئے ہیں۔آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑنے سے ملکی معاشی حالات بہتر نہیں ہوں گے۔اس کاواحد حل خودانحصاری اوراپنے وسائل کوبروئے کار لاتے ہوئے ان اس استفادہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف اور ورلڈبنک امریکہ کے اشارہ ابرو پر کام کرتے ہیں اور غالباً امکان یہی ہے کہ پاکستان کو مزید قرضہ سخت شرائط پر دیاجائے گا۔دریں اثناامیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے جوہر ٹاﺅن لاہور میںپاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور جماعت اسلامی یو سی 114کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ شعبہ صحت حکمرانوں کی عدم توجہی کے باعث ابتری کا شکار ہے۔سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے۔غریب اور مستحق افراد کوصحت کی بنیادی سہولیات نہیں ملتیں۔ماضی کی حکومتوں نے اس جانب کوئی توجہ نہیںدی۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی نئی حکومت کو صحت جیسے بنیادی اہمیت کے حامل شعبے پر فوری توجہ دینی چاہئے اوراسے اپنی اولین ترجیحات میں رکھنا چاہئے۔سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کوبہتربنایاجائے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اس ضمن میں دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی جدوجہد جارکھے ہوئے ہے۔جب تک حکومتی سطح پر شعبہ صحت پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری نہیں آسکتی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*