بنیادی صفحہ -> Uncategorized -> رپورٹ -> قائد اعظم لائبریری اور قلم انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے سعید آسی کی کتاب ”تیری بکل دے وچ چور“ کی تقریب رونمائی

قائد اعظم لائبریری اور قلم انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے سعید آسی کی کتاب ”تیری بکل دے وچ چور“ کی تقریب رونمائی

لاہور … عہد ساز شاعر،ادیب،صحافی،دانشور سعید آسی کی کتاب ”تیری بکل دے وچ چور“ کی تقریب رونمائی قائد اعظم لائبریری باغ جناح لاہور میں قائد اعظم لائبریری اور قلم انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن کے اشتراک سے ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید آسی جیسے اخبار نویس ہماری صفوں میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، میں ان کی دیانتداری پر قسم کھا سکتا ہوں۔ سینئرصحافی ،پروفیسر عطاءالرحمن نے کہا کہ سعید آسی نے اپنے کالموں میں ہمیشہ حق سچ کی بات کی ہے، امید ہے کہ ان کی کتاب بھی مشعل راہ ہو گی۔ معروف کالم نگار عطاءالحق قاسمی نے کہا کہ سعید آسی اے کلاس کالم نگار ہیں، ان کے کالموں میں حب الوطنی کی جھلک نظر آرہی ہے۔

تقریب کی صدارت سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹونے کی جبکہ مہمان خصوصی سینئر کالم نگارعطاالحق قاسمی، سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی،سینئر صحافی عطاءالرحمٰن سمیت کالم نگار رﺅف طاہر،سید منظور گیلانی،عالیہ شبیر، عنازہ احسان،ظہیراحمد بابراور فاروق چوہان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ سعید آسی کو اس وقت سے جانتا ہوں جب ایک دبلا پتلا نوجوان جلسوں جلوسوں میں ہاتھ میں کاغذ اور پن پکڑے رپورٹنگ کرتا تھا اور ڈنڈے بھی کھاتا تھا، ان کی دیانتداری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پاک بھارت تعلقات پر بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہو سکتی اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ دونوں ملک روایتی ہتھیاروں کے اعتبار سے تقریباً برابر ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ چین کے بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے ہو رہے ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں امن قائم ہو۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے پیچھے بین الاقوامی قوتیں تھیں، پاکستان میں کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ انہیں پھانسی دے سکتا۔ سیاستدانوں کا دل بڑا ہونا چاہئے، انہیں انتقامی سیاست سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہئے۔ معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید آسی کا تعلق پاکپتن سے ہے اور میرا تعلق بھی پاکپتن سے ہے اور ان سے ہمارا تعلق اس دن سے ہے جس دن انہوں نے صحافت شروع کی۔ سعید آسی جیسے اخبار نویس ہماری صفوں میں انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، میں ان کی دیانتداری پر قسم کھا سکتا ہوں۔ انہوں نے پورے وقار کے ساتھ زندگی گزاری ہے، ہمیں فخر ہے کہ سعید آسی کے کنبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ استقلال پارٹی کے چیئرمین سید منظور علی گیلانی نے کہا کہ سعید آسی سے میرا دیرینہ تعلق ہے، بہت ہی دیانتدار صحافی ہیں، ان کی دیانتداری کی جھلک ان کے کالموں سے نظر آرہی ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں پاکستان کے حالات کا پوری دیانتداری سے ذکر کیا ہے۔ معروف کالم نگار عطاءالحق قاسمی نے کہا کہ سعید آسی میری طرح ایک شریف آدمی ہیں۔ ان کی کتاب ”تیری بکل وچ چور“ پڑھی جس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سعید آسی اے کلاس کالم نگار ہیں، ان کے کالموں میں حب الوطنی کی جھلک نظر آرہی ہے۔ فاروق چوہان نے کہا کہ سعید آسی کے کالموں کا مجموعہ قلم فاو¿نڈیشن انٹرنیشنل نے شائع کیا ہے اور اس سلسلے میں علامہ عبدالستار عاصم کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ سعید آسی کا اسلوب نہایت سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب قارئین کے لئے ایک بہترین تحفہ ہے۔پروفیسر عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ سعید آسی نے اپنے کالموں میں ہمیشہ حق سچ کی بات کی ہے، امید ہے کہ ان کی کتاب بھی مشعل راہ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت ایک ساتھ آزاد ہوئے ہیں، بھارت اندرونی مشکلات کے باوجود ترقی کر رہا ہے جس کی وجہ وہاں آئین کی حکمرانی ہے۔ ترکی میں جس طرح عوام فوجی بغاوت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی تھی پاکستان کو بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ کالم نگار رو¿ف طاہر کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں نوجوان کتابوں سے دور ہو گئے ہیں۔ بہت سی کتابوں کا چرچا ہو رہا ہے جس میں ایک کتاب پاکستان اور بھارت کے دو فوجی افسران کی مشترکہ ہے۔ دوسری کتاب اس خاتون کی ہے جس کے آنے سے قبل ہی اس کی شہرت بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ سعید آسی کی کتاب موجودہ دور میں ہوا کا ایک جھونکا ہے۔ پی ٹی آئی کی سابق رکن قومی اسمبلی عنازہ احسان کا کہنا تھا کہ سعید آسی کی کتاب ایسے ہی ہے کہ سورج کی روشنی میں چراغ جلانا۔ عوام اب باشعور ہو گئی ہے، انتخابات میں ووٹ کے ذریعے تبدیلی کا عمل شروع ہونے جا رہا ہے۔ تقریب کے آغاز میں سعید آسی نے کتاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی افتتاحی تقریب دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا ایک بہانہ ہے۔ میری کتاب کا نام پہلے ’ویلکم میرے عزیز ہم وطنو‘ تھا جس پر پبلشر کو اعتراض تھا جس کے بعد نام تبدیل کر کے ’تیری بکل دے وچ چور‘ رکھ دیا گیا جس میں 2014ءسے 2017ءتک شائع ہونے والے کالموں سے منتخب کالم شائع کئے گئے ہیں۔ تقریب میں چودھری اصغر نے تلاوت قرآن پاک جبکہ صوبیہ خان اور صبیح الحق بخاری نے ہدیہ نعت رسول مقبول پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر قائداعظم لائبریری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ظہیر الدین بابر نے سعید آسی کی صحافتی خدمات پر انہیں شیلڈ پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھی کتاب لکھنے والوں کے لئے ہمارا ہال ہر وقت حاضر ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*