بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ڈاکٹر اختر حسین عزمی معروف دینی سکالر،

ڈاکٹر اختر حسین عزمی معروف دینی سکالر،

ڈاکٹر اختر حسین عزمی معروف دینی سکالر،منجھے ہوئے ادیب اور قادر اکلام خطیب ہیں ، گورنمنٹ پوسٹ گریجواٹ کالج،ٹاؤن شپ،لاہور میں شعبہ اسلامیات کے صدر مدرس ہیں۔ بہت سی دینی،ادبی اور تحقیقی کتابیں ان کے کریڈٹ پر ہیں،جن میں ’’نیل کا مسافر‘‘، ’’فرزند حرم‘‘،’’عظمت کردار‘‘ اور ’’نور الدین زنگی‘‘ کی بیوہ افسانوی ادب سے متعلق ہیں جبکہ مولانا امین احسن اصلاحی حیات و افکار ،فطرت انسانی اور مرددرویش تحقیقی و تنقیدی کتب ہیں ، ڈاکٹر صاحب فہم القرآن کے متعلق بھی بہت ساکام کررہے ہیں اور اس حوالے سے ملک کے طول و عرض میں ان کے زیر اہتمام فہم القرآن کلاسز کا سلسلہ باقاعدگی سے چل رہا ہے ۔بات کہنے اور لکھنے کا سلیقہ جانتے ہیں ۔
آفتاب: کچھ اپنے بارے میں بتائیے
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : لاہور سے 65کلومیٹر کے فاصلے پر ملتان روڈ پر واقع ایک گاؤں جمبر کلاں میں 1963میں میری پیدائش ہوئی اور اسی گاؤں کے ہائی سکول سے میٹرک پاس کیا، میٹرک کے بعد 1979 میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز،لاہور میں ایف اے پروگرام میں داخلہ لیا، وہاں میں نے اللہ کے فضل سے آرٹس گروپ میں ٹاپ کیا۔ 1983میں برصغیر کی تاریخی درسگاہ گورنمنٹ کالج ، لاہور میں داخلہ لیا اور آرٹس گروپ میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی۔جامعہ پنجاب سے 1985میں علوم اسلامیہ اور 1987میں عربی میں ماسٹرز ڈگریاں حاصل کیں ۔اوائل 1988میں گورنمنٹ ڈگری کالج، پھولنگر (قصور) میں بطور لیکچرر تعیناتی ہوئی، 2006میں جامعہ پنجاب سے علوم اسلامیہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
آفتاب: آپ کا تعلیمی سفر بالعموم علوم اسلامیہ و عربی سے متعلق ہے تو پھر ادبی دنیا میں کیسے آمد ہوئی؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : سکول دور سے مجھے دو مضامین میں خاص دلچسپی رہی ایک اسلامیات اور دوسرا اردو اور اسی دلچسپی کے پیش نظر میں نے ایف اے اور بی اے میں اردو ادب کے مضامین اختیاری طور پر منتخب کیے اور اسلامیات میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی ۔ دوران تعلیم ہمیشہ میں نے اسلامیات کی نسبت اردو ادب میں زیادہ نمبر حاصل کیے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں اردو ادب سے مجھے طبعی میلان تھا۔
آفتاب: اگر اردو ادب میں اتنی زیادہ دلچسپی اور مہارت تھی تو اعلیٰ تعلیم کے لیے اردو کو کیوں نہیں چنا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی:بی اے میں ، میں نے گورنمنٹ کالج ، لاہورکے آرٹس گرو پ میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی تھی ، میرے نمبر اچھے تھے، میرے ایک سینئر دوست جامعہ پنجاب سے ایم اے اسلامیات کررہے تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ کے نمبر بھی اچھے ہیں اور یونیورسٹٰی میں اردو کی نسبت اسلامیات کا میرٹ زیادہ ہوتا ہے اور اس میں لیکچر شپ کے مواقع بھی زیادہ ہیں۔ایم اے اردو تو آپ بعد میں بھی آسانی سے کرلیں گے ۔لہذا اس دوست کی تجویز پر ایم اے اسلامیات میں داخلہ لیالیکن ایم اے اسلامیات میں داخلہ کے باوجود میں زیادہ ترمطالعہ ادبی کتب کا ہی کرتا تھا ۔شعبے میں غزل و نظم گوئی کا مقابلہ ہوا تو میں نے غزل گوئی میں پہلی اور نظم گوئی میں دوسری پوزیشن حاصل کی ۔ الوداعی تقریب میں ،میں نے دوستوں کے مزاحیہ خاکے پڑھ کر سنائے جس پر بہت پذیرائی اور حوصلہ افزائی ہوئی ۔
آفتاب: آپ گورنمنٹ کالج لاہور میں رہے ،وہاں ادبی سرگرمیوں کا بہت زور ہوتا تھا ،اردو ادب کے بہترین اساتذہ موجود تھے ، آپ نے اس ماحول سے کیا پایا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : گورنمنٹ کالج، لاہور کا اس وقت کا ماحول بہت ہی ادب پرور تھا ۔ہر شعبے کی الگ الگ مجالس تھیں اور بھرپور طور پر فعال بھی تھیں،سوندھی فاؤنڈیشن تھی، ادبی مجلس تھی، مجلس عربی ادب تھی ، ان تمام مجالس میں گاہے بگاہے شرکت کا موقع ملتا رہا ۔اساتذہ میں سب سے زیادہ سید معین الرحمان کی شفقت حاصل رہی ۔ ان کو غالب پر بہت کمال حاصل تھا ،مشکور حسین یاد، مرزا ریاض ، مشرف زیدی ،شریف اصلاحی اور آراے خاں سے بہت زیادہ اکتساب فیض کا موقع ملا۔کالج کا ادبی مجلہ ’’راوی’’ بہت معیاری پرچہ تھا اسی طرح نیو ہاسٹل سے بھی ’’پطرس‘‘کے نام سے ادبی مجلہ شائع ہوتا تھا ۔ان دونوں پرچوں سے میں نے بہت سیکھا اور ان میں میری نگارشات بھی شامل اشاعت رہیں ۔
آفتاب: باقاعدہ لکھنے کا آغاز کب کیا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی جب میں نویں جماعت میں پڑھتا تھا تو بچوں کا پہلا باقاعدہ رسالہ ’’پیغام‘‘آنے لگا ،مجھے یاد ہے یہ رسالہ سیالکوٹ کے ایک قصبہ کلاسوالہ سے جناب افتخار کھوکھر کی ادارت میں شائع ہوتا تھا ، جو آج کل انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی میں بچوں کے ادب کے نگران بھی ہیں۔اس رسالے میں بچوں کی تحریریں شائع ہوتیں اور مختلف تحریر ی مقابلے منعقد کیے جاتے۔ بڑی دلچسپی سے شمارے کا انتظار رہتا ۔ اس میں کچھ چھوٹی چھوٹی تحریریں شائع ہوئیں ۔ اپنا نام پڑھ کر بہت خوشی ہوتی تھی۔ ایک سال قبل جناب ڈاکٹر افتخار کھوکھر کا فون آیا کہ آپ وہی اختر حسین عزمی تو نہیں ہیں جو پیغام میں تحریریں بھیجا کرتے تھے؟میں نے ہامی بھری تو انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسی طرح اسلامی جمیعت طلبہ کے مجلے ’’ہمقدم ‘‘ میں بھی باقاعدگی سے تحریریں شائع ہوتی رہیں ۔ اس وقت اس مجلے کے مدیر معروف موٹیویشنل سپیکر جناب اختر عباس تھے، ان کی پرکشش تحریریں اپنے سحر میں جکڑ کر رکھ لیتی تھیں ، ان کے نائب مدید جناب ریاض محبوب یونیورسٹی ہاسٹل میں میرے روم میٹ تھے لہذا ان کی وساطت سے اختر عباس صاحب سے ملاقاتیں اور نیازمندی کا سلسلہ قائم ہوا جو کہ الحمداللہ اب تک جاری ہے ۔
آفتاب: آپ کے علمی و ادبی ذوق کی پرورش میں آپ کے خاندانی پس منظر کو دخل حاصل ہہے ، اساتذہ کو یاآپ خود ہی اس طرف متوجہ ہوئے ؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی خاندانی پس منظر کا اس اعتبار سے تو کوئی دخل نہیں کہ والدین اور دادا وغیرہ سب ناخواندہ تھے ،صرف دوچچا میٹرک پاس تھے۔البتہ یہ بات ہے کہ آباؤ اجداد ہریانہ کے ضلع روہتک کے گاؤں معظم نگر سے اور ننھیال نے پانی پت سے ہجرت کی تھی ۔ ہماری نانی اکثر ہجرت کے پرآشوب واقعات بڑے رقت آمیز انداز میں سنایا کرتی تھیں ، ہمارے ماموں کی مظلومانہ شہادت کا تذکرہ کرتے وہ اکثر آبدیدہ ہوجایا کرتی تھیں۔ تقسیم کے عمل کو ’’مارکاٹ‘‘ کہا کرتی تھیں ، ان کی زبانی ہجرت کے مناظر سن سن کر دکھ کے جذبات پیدا ہوتے تھے اور قیام پاکستان کی غرض و غایت معلوم ہوتی تھی۔ چونکہ آباء کے یہ علاقے دہلی سے متصل تھے اس لیے اردو زبان سے بھی فطری مناسبت تھی۔ ہماری دادی جان ہمیشہ پلیٹ کو رکابی اور گلاس کو بخورہ کہا کرتی تھیں ۔ یہ تو بڑے ہوکر معلوم ہوا کہ بخورہ دراصل آبخورہ کا اختصار ہے ۔وہ محاورے جو آج اردو میں مستعمل ہیں ، وہی ہماری روہتکی کرنالی زبان کے محاورے تھے ۔ ہماری برادری کا ایک بڑا حصہ آج بھی صوبہ یوپی کے ضلع مظفر نگر میں آباد ہے جو خالص اردو سپیکنگ ہیں۔
آفتاب: آپ نے خاندان کی بات کی تو قارئین کی دلچسپی کے لیے کچھ اس پر روشنی بھی ڈال دیں ۔
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : ہمارا جاٹ برادری سے تعلق ہے اور محکمہ مال کے کاغذات کے مطابق ہمار گوت (سب کاسٹ) گیلاوت ہے ۔ جاٹوں کی اکثریت اب بھی ہندو ہے ۔ ہمارے آباء مغلیہ دور میں مسلمان ہوئے اور خاندان کے پہلے مسلمان سربراہ کا نام معظم تھا جن کے نام پر روہتک میں گاؤں معظم نگر آباد ہوا ۔یہی ہمارے اراضی ریکارڈ میں موجود ہے البتہ چونکہ یہ چھوٹا سا گاؤں تھا اس لیے اسے وہاں کی مقامی زبان میں گامڑہ (گاؤں یا گام کا اسم تصغیر) کہا جاتا تھا جو زیادہ مشہور ہوگیا ۔ ہجرت کے بعد آباء اجداد نے والٹن کیمپ میں کچھ عرصہ گزارے بعد ازاں ضلع بدین سندھ، قصور، کامونکے میں تھوڑا تھوڑا عرصہ گزارنے کے بعد ضلع لاہور کے گاؤں جمبرکلاں موجودہ ضلع قصور اس وقت ضلع لاہور کا حصہ تھا ۔
آفتاب: خاندان تو ان پڑھ تھا تو پھر یہ علمی و ادبی ذوق کیسے پروان چڑھا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : ایک تو مجھے بچپن سے دادی اور نانی اماں سے کہانیاں سننے کا شوق تھا ، دوسرا سکول میں ، میں ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہتا کہ نصاب سے ہٹ کر کوئی چیز پڑھنے کو مل جائے ۔لہذا جب ساتویں جماعت میں تھے تو شہر سے آنے والے استاد جب سکول میں اخبار لے کر آتے ، خصوصا نوائے وقت کا بچوں والا صفحہ تو ہم سب ہم جماعت اس پر ٹوٹ پڑتے تھے ۔ میری بڑی خواہش ہوتی کہ سکول کی لائبریری جو کہ ایک الماری پر مشتمل تھی اس سے پڑھنے کے لیے کوئی کہانی کی کتاب لے لوں لیکن یہ حسرت ہی رہی کہ استاد اس معاملے میں بہت سخت تھے ۔ البتہ ہر ہفتے سکول میں بزم ادب باقاعدگی سے منعقد ہوتی تھی ۔بہت نیک استاد سلام اللہ اعوان جو خود بھی شاعر تھے بڑی اچھی بزم ادب منعقد کرواتے تھے ، پرانی وضع کے نیک دل جناح کیپ سے مزین خوبصورت داڑھی والے سخت لیکن شفیق استاد اور مربی تھے ، اس کے بعد جناب محمد اقبال چاند جو جواں عمر بھی تھے اور اسلامی جذبات سے سرشار بھی ۔ روزانہ ایک آدھ تاریخی واقعہ اس طرح سناتے کہ پوری کلاس ان کا انتظار کرتی تھی ۔ سقوط مشرقی پاکستان کا واقعہ گزرے ابھی سال ہوئے وہ وہاں کے دلوس واقعات سناتے تو حب الوطنی کے جذبات کو آبیاری ملتی۔آٹھویں یا نویں جماعت میں تھا جب ایک دن میں نے ان کے ہاتھ میں نسیم حجازی کا ناول ’’داستان مجاہد‘‘ دیکھا میں نے دیکھنے کے لیے لیا اور ندیدوں کی طرح کہانی کی پہلی باقاعدہ کتاب دیکھنے لگا لیکن شرمیلا اتنا تھا کہ ان سے مانگنے کی بھی جسارت نہ تھی۔انہوں نے خود ہی میرے اشتیاق کا بھانپ کر کہا ’’پڑھنا چاہتے ہو؟‘‘ اندھا کیا چاہیے دو آنکھیں کے مصدا ق میں نے فورا ہاں کہا اور استاد جی نے کتاب میرے حوالے کردی ۔ بڑی بے صبری سے چھٹی کا انتظار کیا گھر پہنچتے ہی ناول پڑھنا شروع کردیا کسی کام کی ہوش نہ رہی ، رات کو لالٹین کی روشنی میں پڑھتے پڑھتے جب بہت زیادہ وقت ہوگیا تو والدہ نے لالٹین بجھانے اور سونے کا حکم دے دیا، اس وقت ہمارے گھر میں بجلی نہ تھی ،میں نے لالٹین بجھاد ی ، خوش قسمتی سے اس وقت چودھویں کا چاند جوبن پر تھا لہذا باقی ناول میں نے چاند کی چاندنی میں مکمل پڑھنے کے بعد سویا ۔صبح میں نے ناول اقبال چاند صاحب کو واپس کیا تو کہنے لگے کیا آپ نے پڑھ لیا ؟ میں شرمیلے پن کے باعث یہ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ پڑھنے کا اتنا ندیدہ ہوں ۔ لہذا جواب دیا کہ کچھ پڑھ لیا تھا ۔ اس کے بعد ان کے زریعے سے محمد بن قاسم ،قیصر و کسریٰ ، قافلہ حجاز اور نسیم حجازی کے دیگر ناول مل گئے ، کالج دور میں انٹر کی تعلیم کے دوران میں نے نسیم حجازی کے تمام ناول مکمل کرلیے تھے ۔ اس کے بعد تمام بڑے ناول نگار ، مزاح نگار اور افسانہ نگار پڑھتا رہا ۔
آفتاب: آپ نے نسیم حجازی کے ناولوں کا ذکر کیا، بعض حضرات کی رائے میں نسیم حجازی کے ناول فنی اعتبار سے ناول کے معیار پر پورا نہیں اترتے ۔ ان میں مسلمانوں کے عظمت رفتہ کے بیان کی اتنی مبالغت اتنی زیادہ ہے کہ یہ حقائق سے زیادہ پروپیگنڈا لگتا ہے ۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے ؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی: ہر بڑی کہانی لکھنے والے کی کہانی میں کوئی نہ کوئی جھول تو رہ سکتا ہے ، نسیم حجازی کے ناولوں میں خصوصا ’’قیصر و کسریٰ ‘‘ میں تاریخ کا بیان یابعض ناولوں میں لمبی لمبی تقریریں ۔لیکن یہ معاملہ صرف نسیم حجازی کے ساتھ نہیں ہے ۔ میکسم گورکی کے ناول ’’ماں‘‘ کا بڑا شہرہ سنا تھا لہذا میں نے اسے پڑھا تو آدھا ناول بھی نہیں پڑھ سکا کہ اکتاہٹ شروع ہوگئی ۔ کمیونسٹ انقلاب کا واضح پروپیگنڈا دکھائی دے رہا تھا ۔ میں نے صرف اس کے فن کو جاننے کے لیے ناول کو مکمل کیا ۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ ادیب کے سامنے لکھنے کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ضرور ہوگا، لیکن ضروری ہے کہ اس مقصد کو اپنی کہانی کے کرداروں کے تضاد اور موافقت کے زریعے اس طرح آگے بڑھایا جائے قاری کی دلچسپی اگلے حصے کو جاننے پر اسے آمادہ و تیار رکھے ،تو یہی ایک ادیب کا فن ہے ۔نسیم حجازی فنی اعتبار سے کامیاب ہیں کہ ان کا ناول پڑھے بغیر آدمی چھوڑ نہیں سکتا اور بعض مقامات پر قارمی اپنے حسب حال اور حسب جذبات محسوس کرتا ہے ۔ وہ کرداروں کے ساتھ مغموم و ملول ہورہا ہوتا ہے ۔ درحقیقت نسیم حجازی کے ناول نگاری کو فنی لحاظ سے کمزور وہی طبقہ قرار دیتا ہے جو میکسم گورکی کے پروپیگنڈا ناول ماں کو اعلیٰ ادب پارہ کہتے نہیں تھکتے ۔ترقی پسندی اور روشن خیالی کے نام نہاد علمبردار دینی و اخلاقی اقدار کی طرف پلٹنے کو رجعت پسندی اور ترقی دشمنی قرار دیتے ہیں ۔ نسیم حجازی کا ہر ناول اپنے قاری کو آخر تک اپنے اندر جذب رکھتا ہے ۔ 80کی دہائی میں نسیم حجازی کے دو ناولوں ’’شاہین‘‘ اور ’’آخری چٹان‘‘ پر پی ٹی وی سے ڈرامے نشر کیے ۔ ہم ہاسٹل میں دیکھتے تھے کہ نوجوان ڈرامے کے وقت سے پندرہ بیس منٹ پہلے ہی ٹی وی لاؤنج میں کرسیوں پر براجمان ہوجاتے تھے ۔اگر یہ ناول فنی اعتبار سے ناقص تھے تو یہ بات کیسے ممکن تھی کہ لوگ اتنی دلچسپی سے ایک تاریخی ڈرامے کا انتظار کرتے ۔
آفتاب: کہا جاتا کہ ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نسیم حجازی یا کوئی ادیب خود کو مذہب میں مقید کرکے اپنے پیغام کی آفاقیت کو ختم نہیں کردیتا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی : یہ ٹھیک ہے کہ ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن جو ادیب ادب کو تخلیق کرتا ہے اس کا تو کوئی مذہب یا نظریہ ضرور ہوتا ہے ۔ جس میں وہ انسانیت کا فلاح اور نجات تصور کرتا ہے ۔ادیب جس معاشرے میں رہتا ہے ، اس معاشرے کی کوئی تو اخلاقی اقدار ہوں گی، جن کے قیام اور تحفظ میں معاشرے کی وہ کامیابی تصور کرتا ہے یا معاشرے میں بگاڑ ہوگا تو ادیب کے سامنے اس کی اصلاح کا کوئی تو پروگرام ہوگا اور ہونا بھی چاہیے ۔ معروف دانشور کارلائل ادیب انسانیت کا مرشد ہوتا ہے ۔ اس حیثیت سے ادیب لیڈر قرار پاتا ہے نہ کہ مقلد محض۔ ادیب کا کام ہجوم کی خواہشات کے پیچھے چلنا نہیں ،میرا مطلب ہے کہ لوگوں کی ڈیمانڈ کے مطابق نہیں بلکہ جن کو وہ معاشرے کے لیے مفید سمجھتا ہے اس کے مطابق لکھتا ہے ۔
آفتاب: اس طرح تو ادیب غیر جانبدار نہ رہے گا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی: ادیب کا کام پر کھڑے ہونا اور انصاف کی اقدار کی دعوت دینا ہے ۔ منصف اور جج کا کام اصول انصاف کی روسے صحیح کو صحیح کہنااور غلط کو غلط کہنا ہے۔اگر غیر جانبداری کا مطلب کہ منصف کسی کو ناراض نہ کرے تو انصاف نہیں ہوسکتا ۔ دیکھیے اچھی تحریر کا کچھ تو اثر ہوتا ہے ناں۔ تحریر سے کچھ کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ احساس زیاں پیدا ہوکر عمل پر آمادگی پیدا ہوتی ہے یا کسی برائی کی تحریک ہوتی ہے ، مایوسی و افسردگی پیدا ہوتی ہے ۔ باقی رہ گئی آفاقیت کی بات کہ مذہب کے باعث پیغام کی آفاقیت متاثر ہوتی ہے میں یہ کہوں گا کہ مذہب کی تعلیم تو ہوتی ہی آفاقی ہیں۔ یہ تو نیشنل ازم ہے جس نے انسان کو قوموں ،قبیلوں، ملکوں، رنگوں اور نسلوں میں تقسیم کیا۔ یہ کمیونزم ہے جس نے خود کو مزدوروں تک محدود رکھا۔اسلام تو تمام انسانیت کی آزادی فکر، آزادی اظہار، مساوات ، انصاف کی بات کرتا ہے ۔ کم ازکم اسلام کا پیغام تو کسی ادیب کو کسی خاص قوم یا ملک تک محدود نہیں رہنے دیتا ۔ جو اسے نہیں مانتے یہ ان کے حقوق اور آزادی کی بھی بات کرتا ہے ۔ اقبال کی شاعری آفاقی شاعری اور اسلامی شاعری ہے ۔
آفتاب: اگر ادیب اپنی کہانی، افسانے،ناول میں وعظ و تبلیغ یا پروپیگنڈا شروع کردے تو کیا یہ ادب رہ جائے گا؟
ڈاکٹر اختر حسین عزمی:ایسا وعظ جو قاری کو متوحش کردے تو گویا ادیب نے اپنے قاری کو ذہنی طور پر اپنے خلاف کردیا ۔ ایسا کرنا غلط ہے ، مجھے یاد ہے کہ جب میں آٹھویں کا طالب علم تھا تو میں کتابیں خریدنے قریبی شہر گیا ۔ مجھے کہانیوں کی کتاب کی تلاش تھی نہ ملی تو بکڈپو نے کہا یہ ایک کتابچہ پڑا ہے ۔ جو میں نے خٰرید لیااس میں کہانی کم اور اور خاندانی منصوبہ بندی کا وعظ زیادہے تو مجھے ایسی کتاب خریدنے کا بہت افسوس ہوا۔ حالانکہ اس وقت میری عمر بمشکل تہرہ برس تھی تو ادیب اگر وعظ کرنا چاہتا ہے تو وہ سیدھا سیدھا واعظانہ مضمون لکھے وہ قاری کو وحشت زدہ نہیں کرے گاجبکہ کہانی کے نام پر بڑا وعظ جو نظر آرہا ہو یہ ٹھیک نہیں ہے ۔
آفتاب: آج کل جو ادب تخلیق ہوا اس سے مطمئن ہیں ؟
اختر حسین عزمی: اچھا ادب بھی تخلیق ہورہا ہے لیکن سرمایہ درانہ نظام کے غلبے کے باعث اور میڈیائی ریٹنگ کی دوڑ نے ادیب کو بھی کمرشل ازم کا شکار کردیا ہے ۔ اور ادب برائے فروخت ہوکچا ، کالم نگاری میں چند ایک نام چھوڑ کر لکشمی دیوی کی پوجا کی جارہی ہے ۔
اوصاف: لیکن کیا ادیب بھوکا رہے ، آخر اس کی بھی معاشی ضرورتیں ہیں۔
اختر حسین عزمی : یہ ٹھیک ہے ہر دور میں ادیب و شاعر کے معاشی مسائل رہے ہیں اور یہ معاشرے کے اہل ثروت اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشروں کو بینائی اور تفریح مہیا کرنے والوں کی ضروریا ت کا خیال رکھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فن ہمیشہ غربت میں ہی پروان چڑھتا ہے ۔ فرانسیسی کہاوت ہے کہ خوشحال لوگوں کی پیٹ بھرے لوگوں کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی اور کارلائل کے بقول ادیب کے لیے غریب ہونا عیب کی بات نہیں ۔ ایک ادیب کو یہ بات مدنظر رکھنا کہ اللہ کے نبی نے فقر کو اپنے لیے باعث فخر قرار دیا ہے ، دولت کو نہیں ، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ہم اپنے رب کی تقسیم پر راضی ہیں کہ اس نے جاہلوں کے لیے مال اور ہمارے لیے علم رکھا ہے ۔
آفتاب: کن مصنفین کی تحریریں پسند آئیں ؟
افسانہ نویسی میں پریم چند، غلام عباس،جیلانی بی اے ، احمد ندیم قاسمی ناول نگاری میں نسیم حجازی، طارق اسماعیل ساگر، فضل کریم فضلی ، بانو قدسیہ ، طنزومزاح میں شوکت صدیقی ،کنہیا لعل کپور، شفیق الرحمان ،مشتاق احمد یوسفی اور پطرس کی تحریریں بہت پسند ہیں ، جبکہ موجودہ دور میں زاہد حسن اور محمد سجاد جہانیہ بھی بہت اچھا فکشن لکھ رہے ہیں ۔
آفتاب: نوجوان نسل کو کس طرح ادب و کتب بینی کی طرف لایا جاسکتا ہے ۔
اختر حسین عزمی : آج کل سیمینارز اور ورکشاپس سے کسی بھی شعبہ میں بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ، اس لیے کتب بینی اور ادب کی ترویج کے لیے حکومتی اور نجی سطحی پر منظم سیمینارز سے بہت بہتر نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ میں پاکستان رائٹرز کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایسی چند ورکشاپس میں شامل ہوچکا ہوں ، میں نے معنویت اور مقصدیت کے اعتبار سے ان پروگراموں کو بہترین پایا اس سلسلے میں مرزا محمد یسین بیگ، الطاف احمد اور حسیب اعجاز عاشر جیسے نوجوانوں کی خدمات مثالی کہی جاسکتی ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*