بنیادی صفحہ -> گوشہ خواتین -> ”والدین کی کم علمی بچوں کو عمر بھر کیلئے اپاہج بنا سکتی ہے“‌ :ڈاکٹر عائشہ سعید
اپاہج

”والدین کی کم علمی بچوں کو عمر بھر کیلئے اپاہج بنا سکتی ہے“‌ :ڈاکٹر عائشہ سعید

لاہور (عنبر شاہد ) پیڈیاٹرک آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عائشہ سعید (گولڈ میڈلسٹ) سے ہماری ایک خصوصی نشست ہوئی ،انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پنجاب بھر سے بچوں کی واحد خاتون آرتھو پیڈک سرجن ہیں اور اس شعبے میں بھرپور مہارتس رکھتی ہیں اس وقت وہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں آرتھو پیڈک وارڈ سے وابستہ ہیں۔ہم نے ان سے خصوصی طور پر ملاقات کی اور بچوں میں بڑھتے ہوئے ہڈیوں کے مسائل اور مختلف طریقہ علاج کے حوالے سے بات چیت کی۔انہوں نے اپنی تمام تر گفتگو میں اس بات پر ذور دیا کہ والدین کس طرح کم علمی ،عدم احتیاط اور دوسروں کی باتوں میں آکر اپنے بچوں کو جسمانی طور پر اپاہج بنا دیتے ہیں۔
جراحی یا تباہی
انہوں نے ہمارے معاشرے کے ایک اہم اور تاریک پہلو پر روشنی ڈالی جس میں کسی بچے کو چوٹ لگتے ہی بڑے بوڑھوں کے کہنے پر فوراً جراح کے پاس لے جایا جاتا ہے جو کسی مرہم کا لیپ کر کے پٹی باندھ دیتا ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر گرنے سے بچوں کی کہنی یا کلائی میں فریکچر ہوتا ہے اور عموما فریکچر کے چوبیس گھنٹے بعد سوجن پوری طرح ظاہر ہوتی ہے جس کا علاج بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تقریبا ًتمام ہسپتالوں کے حادثاتی شعبوں میں ہڈی کے فریکچراور چوٹ جیسے مسائل کا فوری علاج دستیاب ہے جو ہماری پہنچ سے زیادہ دور بھی نہیں اور نہ ہی زیادہ پیسے لگتے ہیں لیکن ہمارے والدین ہڈی ٹوٹنے یا چوٹ کی صورت میں فوری طور پر کسی پہلوان یا جراح کے پاس لے جاتے ہیں۔جو کسی طور پر بھی چوٹ یا فریکچر کی نوعیت سے واقف نہیں ہوتے اور بس اندازے سے ایک مخصوص مرہم لگا کر کس کر پٹی باندھ دیتے ہیں اس سے کیا ہوتا ہے کہ خون کی سپلائی رک جاتی ہے اورنسیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کا ہاتھ تو بچ جاتا ہے مگر مستقل طور پر ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ جب نسیں برباد ہوجاتی ہیں تو پھر ایک ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے اور اس جگہ کو کسی صورت پہلی والی پوزیشن پر نہیں لایا جا سکتا۔ڈاکٹر عائشہ نے کئی مریضوں کے ایکسرے اور تصاویر بھی ہمارے ساتھ شئیر کی ہیں جس میں مریضوں کو معمولی نوعیت کے فریکچر تھے مگر جراح کے پاس جانے کی وجہ سے رگیں بند ہوئیں اور ہاتھ یا کلائی ٹیڑھی ہو گئی۔تو اس لئے والدین کو بہت زیادہ احتیاط کرنی ہوگی۔
مشین انجری
ایک اور بہت اہم چیز جس کی طرف انہوں نے توجہ دلائی وہ چھوٹے بچوں میں موٹر سائیکل یا سائیکل سے گر کر چوٹ کا لگنا ہے۔ان کا کہناتھا کہ اکثر موٹر سائیکل پرچھوٹے بچے کو پکرٹے وقت یا اگے بٹھاتے وقت احتیاط نہیں برتی جاتی اور بچے گر جاتے ہیں اس طرح جو TRAUMAیا انجری ہوتی ہے اس سے بہت سنگین نتائج بر آمد ہوتے ہیں ،اس سے آپ کے بچے کی جان بھی جا سکتی ہے یا وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔خاص طور پر جب ہم نو عمر بچوں کو موٹر سائیکل دے دیتے ہیں اس سے بھی ان کو بہت برے حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کے مطابق چھوٹے شہروں میں کاشتکاری کی مشینیوں ،ٹوکے یا کرشنگ مشینوں میں اکثر بچوں کے ہاتھ آجاتے ہیں جس سے بچے بہت زیادہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں اور اکثر یہ نقصان نا قابل تلافی ہوتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے والدین کو اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا نہیں تو اس طرح کے واقعات کا تدارک کرنا مشکل ہوجائے گا۔

بچوں کی ہڈیوں میں پیدائشی مسائل
ہمارے ایک سوال پر ڈاکٹر عائشہ نے بچوں کی ہڈیوں کے پیدائشی مسائل پر بھی توجہ دلائی۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ بچوں کے پاﺅں پیدائشی طور پر ٹیڑھے ہوتے ہیں والدین کو چاہیے کہ پیدائش کے پہلے ہفتے میں ہی پلستر لگرا لیں جو ہفتہ وار لگتا ہے۔جبکہ یہ پلستر کسی ایسے ہڈیوں کے ڈاکٹر سے لگوائیں جو بچوں کے ہڈیوں کے امراض اور خاص طور پر پیدائشی ٹیڑھے پاوں کے علاج میں ماہر ہو۔ان کا یہ بھی کہنا تھا شروع میں اس کا علاج کروا لینا چاہیے نہیں تو پھر آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔بعض والدین پانچ چھ پلستر لگوانے کے بعد کوئی رابطہ نہیں کرتے جبکہ ایسے بچے کو پانچ سال تک مخصوص بوٹ پہنانے بہت ضروری ہیں،جنہیں foot abduction orthosis popularly
DB Shoesکہا جاتا ہے۔
اسی طرح انہوں نے ایک اور پیدائشی نقص کا ذکر کیا جس کو DDHکہتے ہیں اور یہ مسئلہ زیادہ تر لڑکیوں میں ہوتا ہے اور یہ اکثر بہت سالوں بعد ظاہر ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے چال عجیب ہوجاتی ہے۔اس کا پتہ پیدائش کے فوراً بعد سکریننگ کے ٹیسٹ سے لگایا جاسکتا ہے ،اگر آپ کو بچے کا پیمپر بدلتے وقت دشواری کا سامنا ہو تو اس سے بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے اسکا علاج چھوٹے بچوں میں Pelvic harnessسے کیا جاسکتا ہے لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی جاتی ہے تو پھر آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔
ڈاکٹر عائشہ نے ہڈیوں کی ایک اور اہم بیماری کے بارے میں بتایا جس کا شکار بہت سے بچے ہیں اس کو rickets کہا جاتا ہے اس بیاری کی وجہ ہڈیوں کی اچھی طرح سے mineralization نہ ہونا یعنی وٹامن ڈی ،کیلشئیم اور فاسفورس سمیت اہم وٹامنز کی کمی ہے۔یا آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اچھی خوراک نہ ملنے کے سبب بچوں کو رکٹس کا مسئلہ درپش آتا ہے۔اس بیماری میں ہڈیاں نرم ہوجاتی ہیں کمزور ہوجاتی ہیں یا پھول جاتی ہیں۔اس وجہ سے بچے کافی مسائل کا شکار ہوجاتےہیں ان کا کہناتھا یہ صورت حال وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ بہت سے ایسے بچے ہیں جو صحیح طرح سے سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی کی مقدار کو پورا نہیں کرپاتے۔اس کمی کی وجہ سے ہمارے بچوں کی پڈیاں کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت خراب اور قد بھی زیادہ نہیں بڑھ پاتے۔ان کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور ایک گھر میں پانچ چھ بچے ہونے کی وجہ سے ماں اور بچے دونوں کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہوتی اس سے بھی ہڈیوں کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ڈاکٹر عائشہ کا کہنا تھاکہ کولڈ ڈرنکس،بازاری تلی ہوئی اشیا اور چائے کافی کے استعمال لنے بھی بچوں کو جسمانی طور پر کاہل بنا دیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ان کو پروٹین ،دودھ انڈہ اور،قیمہ، فروٹ وغیرہ دینا بہت ضروری ہے۔
ایک اور اہم بات جس کی طرف انہوں نے توجہ دلائی وہ یہ تھی کہ بچوں کا وزن بھی مناسب ہونا چاہیے ان کا کہنا تھاکہ موٹاپا صحتمندی کی علامت نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہڈیاں متاثر ہوتی ہیں لہذا بچوں کے وزن پر بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
ان کے ساتھ تمام تر گفتگوک لب لباب یہ تھا کہ والدین تھوڑی سی توجہ سے اپنے بچوں کو بہت برے حادثات سے بچا سکتے ہیں اورکسی بھی ناگہانی کی صورت میں فورا جراح کی بجائے قریبی ہسپتال کا رخ کریں۔اگر بچے میں کوئی پیدائشی نقص ہے تو اس کا بر وقت علاج کروایا جائےجب کہ ایک صحتمند زندگی کے لیے اچھی اور صاف ستھری غذا کا استعمال کیا جائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*