بنیادی صفحہ -> مذہب -> حضرت عمرؓ کا طرز حکمرانی تمام مسلمان حکمرانوں کے مشعل راہ ہے
حکمرانی
حکمرانی

حضرت عمرؓ کا طرز حکمرانی تمام مسلمان حکمرانوں کے مشعل راہ ہے

لاہور (یواین پی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیزالرحمن ثانی،مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم ، مولانا قاری علیم الدین شاکر،مولانامحبوب الحسن طاہر،مولانا عبدالعزیزنے سیرت حضرت عمر ؓ کے موضوع پر مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ عدل وانساف کے پیکر تھے،ملک عزیزسے بدامنی کے خاتمے کے لیے عدل فاروقی کو اپنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ کا طرز حکمرانی تمام مسلمان حکمرانوں کے مشعل راہ ہے،آپ ؓ کی انسانیت کے خدمات قابل تقلید ہیں۔اسلام کی اشاعت میں آپ کا کردار مثالی ہے۔حضرت عمر فاروق ؓ کو آپ ﷺ سے والہانہ عقیدت ومحبت تھی ترویج اسلام کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔علماءکرام نے کہا کہ جب آپؓ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو عدل وانصاف کی عمدہ مثال قائم کی۔ڈاک پولیس اور دیگر محکمے بنائے۔حضرت عمر ؓ مراد پیغمبر ہیں ،اسلام کی تقویت کے لیے حضور ﷺ نے آپ ؓ کو بارگاہ الٰہی سے مانگا تھا۔وطن عزیزسے ہر بحران کا خاتمہ حضرت عمر فاروق ؓ کے طرز حکمرانی کو اپنانے سے ہی ممکن ہے۔علماءکرام نے کہا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد اگر کو ئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ ہوتے،جب حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی وہ نبی نہ بن سکے توآج جھوٹے مدعیان نبوت کو مسلمان کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیفہ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں کہ جن کی اسلام کے لئے روشن خدمات، جرات و بہادری، عدل و انصاف پر مبنی فیصلوں، فتوحات اور شاندار کردار اور کارناموں سے اسلام کا چہرہ روشن ہے،سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تاریخ انسانی کا ایسا نام ہے جس کی عظمت کو اپنے ہی نہیں بیگانے بھی تسلیم کرتے ہیں،آپ رضی اللہ عنہ نبی نہیں تھے مگر اللہ نے ان کی زبان حق پر وہ مضامین جاری کردیئے جو وحی خداکا حصہ بن گئے،تمام خلفاءمرید رسول ہیںجبکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مراد رسول ہیں، آپ نے حکومت کے انتظام و انصرام، بے مثال عدل و انصاف، عمال حکومت کی سخت نگرانی، رعایا کے حقوق کی پاسداری، اخلاص نیت و عمل، جہاد فی سبیل اللہ اور دعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ سیدنا عمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے جس نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی، اسے فاروق اعظم کے قائم کردہ ان زریں اصولوں کو مشعل اہ بنانا پڑا، جنھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مسلمان ہونے سے اسلام کی قوت و شوکت زیادہ ہوئی،موجودہ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ بہترین طرز حکمرانی کے لیے خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*