بنیادی صفحہ -> صحت -> دوائی
دوائی

دوائی

ھمارے پاس اتنی دوائیاں پڑی ھیں کہ چھوٹا کلینک چلا سکتے ھیں .بچہ چند ماہ کا تھا کہ اسے قے کا عارضہ لاحق ہوگیا. میں اسےشہر کے سب سے بڑے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر سمیر شیخ کے پاس لے گیا. ڈاکٹر صاحب نے معائنے کے بعد فرمایا

"اسے الٹا سلایا کیجئے، ٹھیک ہوجائے گا”

یہ کہہ کر وہ مجھے یوں دیکھنے لگے جیسے ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی. میں نے سوالیہ نظروں سے ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

"دوائی ؟”

انہوں نے خالی پرچہ میری جانب بڑھاتے ہوئے فرمایا

"کوئی دوائی نہیں، بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے تحت دی جاتی ہے”

میں اور اہلیہ خالی پرچہ لئے گھر آگئے اور بچے کی قے کی شکایت الٹا سونے سے ٹھیک ہوگئی. کچھ عرصے بعد اس کے دانت نکلنے کے دن آئے تو میں ایک بار پھر اسے لے کر ڈاکٹر سمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور دانشوری بھگارتے ہوئے کہا

"ڈاکٹر صاحب ! یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ بچوں کے جب دانت نکلتے ہیں تو اس کے سبب ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے، جس سے یہ کمزور ہوجاتے ہیں. میں چاہتا ہوں کہ آپ بچے کے لئے کوئی ایسی دوا لکھ دیجئے کہ اس کا پیٹ خراب نہ ہو اور یہ ہٹا کٹا رہے”

ڈاکٹر سمیر عینک کے اوپر سے گھورتے ہوئے میری دانشوری پر حملہ آور ہوئے

"نہیں ! میں بالکل نہیں جانتا کہ دانت نکلنے سے بچوں کا پیٹ خراب ہوتا ہے، یہ راز کب دریافت ہوا ؟”

تپ تو مجھے بہت چڑھی مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے ان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے گزارش کی

"میرے دونوں بڑے بچوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے، اور یہ تو عام معروف بات ہے، حیرت ہے آپ نہیں جانتے !”

ڈاکٹر صاحب بولے

"یہ ان پڑھ گھرانوں کا تصور ہے کہ دانت نکلنے سے پیٹ خراب ہوتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ جب بچے کے دانت نکلتے ہیں تو اس کے مسوڑوں میں کھجلی ہوتی ہے جس کے سبب وہ بار بار ہاتھ منہ میں ڈالنے لگتا ہے. چونکہ ہاتھوں پر جراثیم ہوتے ہیں سو یہ بچے کے پیٹ میں جاکر خرابی پیدا کر دیتے ہیں. حل اس کا یہ ہے کہ بچے کے دانت نکلنے کے ایام میں مناسب وقفے کے ساتھ دن میں چار بار اس کے ہاتھ صابن سے دھوئے جائیں”

یہ کہہ کر وہ پچھلی بار کی ہی طرح یوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر بیٹھ گئے جیسے انہیں مزید کچھ نہیں کرنا. عرض کیا

"دوائی کوئی نہیں ؟”

فرمایا

"کوئی نہیں”

کچھ مدت بعد بچے کا گلا اور سینہ خراب ہوگیا، میں اس بار بھی اسے ڈاکٹر سمیر کے پاس لے گیا مگر اس بار "ان پڑھ گھرانوں” والی ڈوز سے بچنے کی خاطر دانشوری جھاڑنے سے مکمل گریز کرتے ہوئے بس اتنا کہا

"اس کا گلا اور سینہ خراب ہے”

"کیوں خراب ہے ؟”

"مجھے کیا پتا، میں تو ان پڑھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں”

یہ میں نے جی ہی جی میں کہا، چونچ بند ہی رکھی. وہ معائنہ فرما کر بولے

"سری لیک بند کردیجئے، ٹھیک ہوجائے گا، سری لیک ہر بچے کو راس نہیں آتی”

"سری لیک کی جگہ کیا دیں ؟”

"دہی جو کھٹی ہرگز نہ ہو، ابلا ہوا آلو، یخنی، سبز چائے، شہد اور کھچڑی دیجئے”

"دوائی ؟”

"بچوں کو دوا صرف اشد ضرورت کے وقت دیتے ہیں اور وہ بھی ایک آدھ. وقاص کو کوئی اشد ضرورت نہیں”

میں بچے کو دس بارہ برس کی عمر تک بوقت ضرورت ڈاکٹر سمیر کو ہی دکھاتا رہا اور اس پورے عرصے میں ایک دو بار ہی انہوں نے ایک آدھ دوا لکھ کر دی. وہ سختی سے اس بات کے قائل تھے کہ بچے کو دوا نہیں دینی چاہئے. آج بھی ان کے لئے دل سے دعاء نکلتی ہے کیونکہ وہ ایسے دور میں بچوں کو ادویات سے بچانے کے قائل تھے جس دور میں کمیشن خور ڈاکٹرز پانچ سے دس دوائیں لکھ کر مریض کو کرتے تو مزید بیمار ہیں لیکن نسخے والے پیڈ کی لوح پر "ھوالشافی” پرنٹ کرا کر ثواب دارین کی امید بھی رکھتے ہیں.

کیا آپ بھی ڈاکٹر سمیر جیسے کسی ڈاکٹر کو جانتے ہیں؟؟؟}؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*