بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> وزیرخزانہ اسدعمرکو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہیں،متبادل شخصیت کا نام بھی سامنے آگیا
شمشاداختر

وزیرخزانہ اسدعمرکو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہیں،متبادل شخصیت کا نام بھی سامنے آگیا

لاہور(ویب ڈیسک): وفاقی وزیرخزانہ اسدعمرکو بری کارکردگی کی بناپر عہدے سے ہٹائےجانے کے متعلق افواہیں ایک بارپھر گردش کررہی ہیں. نجی چینل نے آج دعوٰ ی کیا تھا کہ وزیرخزانہ اسدعمر کو بری کارکردگی کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا جارہاہے جب کہ ان کی جگہ سابق گورنرسٹیٹ بینک شمشاد اختر وزیرخزانہ بنائے جانے کا امکان ہے. تاہم اب وزارتِ خزانہ اوروزیراعظم ہاؤس سے اس متعلق تردید آگئی ہے . ترددید کے مطابق ایساقسم کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی اسدعمر کو عہدے سے ہٹایاجارہاہے. سابق گورنرسٹیٹ بینک اورنگران وزیرخزانہ شمشاداخترکو دوبارہ گورنرسٹیٹ بینک لگایا جارہاہے. یادرہے کہ نجی چینل نے کچھ روزقبل بھی دعوٰ ی کیا تھا کہ ایک میٹنگ کے دوران اسدعمر اورجہانگیر ترین کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی تھی جس کی بناپروزیرخزانہ نے وزیراعظم عمران خان کو اپنا استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تھی جس کی بعد میں اسدعمر اورجہانگیر ترین کی طرف سے تردید کردی گئی تھی.

شوگر ملز کو سبسڈی کے زیر التوا واجبات فوری ادا کرنے کی منظوری

لاہور(ویب ڈیسک )اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کرشنگ سیزن جلد سے جلد شروع کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے شوگر ملز کو سبسڈی کے زیر التوا واجبات فوری ادا کرنے کی منظوری دے دی۔وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں 10 لاکھ ٹن چینی کی برآمدگی کی منظوری کے بعد ایک بار پھر مزید ایک لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی۔ذرائع کے مطابق ای سی سی نے کرشنگ سیزن جلد سے جلد شروع کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں صوبائی حکومتوں سے مدد لی جائے گی جب کہ شوگر ملز کو سبسڈی کے زیر التوا واجبات فوری ادا کرنےکی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے برآمدات بڑھانے کیلئے ری فنڈ کی بروقت، براہ راست ادائیگی کیلئے سمری کی منظوری مو¿خر کردی جب کہ برآمد کنندگان کو ری فنڈ کی ادائیگی کے معاملے پر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذرائع کے مطابق ای سی سی نے ہدایت کی کہ ایف بی آر، وزارت تجارت، خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے حکام مل کر طریقہ کار وضع کریں، شوگر ملز کو برآمد کی جانے والی چینی کےاخراجات متعلقہ صوبائی حکومتیں ادا کریں گی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ای سی سی نے ظافر گیس فیلڈ سے سوئی سدرن کو 30 ایم ایم سی ایف گیس مہیا کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*