بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> پارٹی اراکین کی پارلیمانی اجلاس میں اسد عمر پر شدید تنقید
پارلیمانی اجلاس

پارٹی اراکین کی پارلیمانی اجلاس میں اسد عمر پر شدید تنقید

پارٹی اراکین کی پارلیمانی اجلاس میں اسد عمر پر شدید تنقید
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین پارٹی کے خلاف پھٹ پڑے۔اسد عمر کی معاشی بریفنگ پر اراکین نے شدید تنقید کی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔جس میں اپوزیشن اتحاد کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ اسد عمر نے معاشی صورتحال اور منی بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دی۔اسد عمر نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ملک میں کاروبار بیٹھ گیا ہے۔اراکین پر مشتمل اکنامک کاکس بنائیں ہر ماہ معاشی صورتحال پر بریفنگ دیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ زراعت کے شعبے میں سخت چینلجز کا سامنا ہے اور جس طرح زراعت کے مسئلے کو سنبھالنا چاہئیے تھا اس طرح سنبھالا نہیں گیا۔اراکین قومی اسمبلی نے کہا کہ زراعت کا کوئی حال نہیں ہے۔کاشتکار سخت پریشان ہیں ان کے لیے کچھ کیا جائے۔مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام ہم سے نالاں ہے،تجاوازت ہٹانے کے معاملے پر بھی اراکین نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ تجاوازت ہٹانے کے معاملے نے پارٹی کا امیج خراب کیا ہے۔یہ تجاوزات چھ ماہ بعد بھی ہٹائی جا سکتی تھیں۔اراکین نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کالج میں داخلہ کرانا بھی مشکل ہے،اداروں میں لوگ ہماری بات نہیں سنتے جب کہ اسمبلی اجلاس کے دوران تمام وزیر ایک گھنٹہ اراکین قومی اسمبلی کو دیں۔واضح رہے اس قبل بھی اسد عمر پر کئی بار تنقید کی گئی۔ ڈالر مہنگا ہونے کے بعد اسد عمر پر شدید تنقید کی گئی تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ کہ اسد عمر کو تو خود کشی کر لینی چاہئیے۔ ڈالر کہاں سے کہاں پہنچ گیا نہ پٹرول مل رہا ہے اور نہ ہی ملک میں کوئی پیسہ آیا ہے۔جب کہ یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ وزیراعظم عمران خان اسد عمر سے استعفیٰ لے لیں گے۔وزیراعظم کے ترجمان اور مشیر خاص نعیم الحق کی جانب سے وزیر خزانہ اسد عمر کی تبدیلی کی خبروں سے متعلق وضاحتی بیان جاری کیا گیا تھا۔نعیم الحق کا کہنا ہ تھا کہوزیراعظم نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور ان کی معاشی ٹیم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسد عمر اور ان کی معاشی ٹیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*