تذکرہ وسوانح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ

تذکرہ وسوانح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ

تذکرہ وسوانح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ
مولانا رضوان اللہ پشاوری
برصغیر ہند و پاک کے مایہئ ناز سپوت، شعلہ بیان مقرر، جانباز مجاہد آزادی، درویش صفت قائد، دبے کچلے عوام کے غم خوار، فرنگی سامراج کے کٹر مخالف، تحریک آزادی کے سپہ سالار جس نے سارے برصغیر میں اپنی جادو بیانی سے طوفان بپا کردیا تھا، اس شخصیت کا نام مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری ہے، جنہیں رئیس الاحرار، امیر شریعت پنجاب، واعظ خوش بیان کے القاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجسم اخلاص و محبت کے پیکر درویش صفت انسان، ممتاز سیاستدان، مذہبی رہنماء، سوشل ریفامر، پارسا، حق گو، اُردو فارسی اور عربی کے عظیم عالم، اعلیٰ پایہ کے شاعر تھے۔ ان کی زندگی جدوجہد آزادی کا روشن ترین باب ہے۔ ان کی آواز میں شیروں جیسی گونج تھی۔ ان کا شمار اپنے وقت کے صف اولین کے مقررین میں کیا جاتا تھا۔
امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر مولانا عبدالقیوم حقانی حفظہ اللہ نے مکمل ایک کتاب بنام ”تذکرہ وسوانح امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ“لکھی ہے اور حضرت حقانی صاحب حفظہ اللہ نے امیر شریعت سے اپنے والہانیہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے راقم کو ایک واقعہ سُنایا،جسے حقانی صاحب نے اسی کتاب کے پیش لفظ میں بھی ذکر کیا ہے۔وہ واقعہ اپنے الفاظ میں قارئین کی نظر کرتا ہوں۔
”کہ سکول کے زمانے میں ہمارے ایک استاد نے بازار میں ایک چھوٹی سی لائبریری کا انتظام کیا تھا،اکثر لوگ وہی آکر اپنا علمی پیاس بُجھا دیتے تھے،کہ ایک دفعہ میں بھی مکتبہ چلاگیا،وہاں پڑی ایک کتاب پر نظر پڑی،جس میں امیر شریعت کی تصویر بھی تھی،اسی تصویر نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا،تو میں نے سوچا کہ میں کسی وقت آکر اس کتاب سے تصویر کو الگ کر کے اپنے ساتھ رکھ لوں گا،دنوں میں ایک دن ایسا آیا کہدپہر کے وقت لائبریرین غائب تھا،لوگ بھی سو رہے تھے،میں نے موقع کو غنیمت سمجھ کر کتاب اٹھائی اب اگر میں تصویر کو الگ کرتا ہوں تو صفحے کے چرچرانے کی آواز سنائی دے گا،لہٰذا پوری کتاب وہی سے اٹھا کر لے گیا،اس کتاب کو اہنے بستے میں رکھ کر باقی طلبائے کرام نویں اور دسویں کے امتحانات کی تیاری میں مصروف تھے تو میں امیر شریعت کی عشق میں گرفتار ہو کر ان کی زندگی کا مطالعہ کر رہا تھا،یہی وجہ تھی کہ جس نے میری زندگی کی کایا پلٹ ڈالی،اور یوں میں نے سوچا کہ میں بھی امیر شریعت کی طرح بنوں گا“
میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقتِ قبولیت تھا،کہ حضرت حقانی کی دعا بارگاہ لم یزل میں مقبول ہو کر اللہ تعالیٰ نے آج کے اس معاشرے کو دوسرے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی حفظہ اللہ کی صورت میں نوازا۔جب میں نے حضرت حقانی صاحب کی زندگی میں سوچ وبچار کیا تو مجھے قوت بیان میں بالکل عطاء اللہ شاہ بخاریؒ لگے،اس لیے کہ حضرت حقانی صاحب جب کوئی تقریر شروع کر لیتے ہیں،تو کوئی سامع نہ تو تنگ ہوتا ہے،بلکہ خوب چٹکلے لے رہاہوتا ہے۔
اس کتاب میں حضرت حقانی صاحب نے حتی المقدور امیر شریعت کی زندگی کودرج ذیل عنوانات ”خاندانی پس منظر،ولادت،تذکرہ والدین،تعلیم وتربیت،شخصیت وکردار،عادات واطوار،فقرودرویشی،مصائب ومشکلات،عفوودرگزر،اوصاف وکمالات،تواجع وانکساری،تقویٰ وخشیت الٰہی،سیاسی زندگی،سیاسی بصیرت،قرآن سے محبت،انگریز سے نفرت،سراپا علم و عمل،اخلاس وللہیت،زپد واستغناء،اُصول پسندی،عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم،اتباع سنت،مسئلہ ختم نبوت سے والہانہ عقیدت،فرق باطلہ کا تعاقب،دعوت وخطابت،قیدوبند کی صعوبتیں،ذوق شعر وادب،ظرافت،حاضر جوبیاں،چٹکلے،سفرِ آخرت“کے ذیل قلمبند کر رکھا ہے۔قارئین کرام آئیے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی سیر پر سرسری نظر دوڑاتے ہیں۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری 23 ستمبر1892ء میں صوبہ بہار(انڈیا) کے علاقہ پٹنہ میں پیداہوئے۔ خاندانی نجیب الطرفی ان کا مقدر بنی۔ اوائل عمری میں ہی اردو زبان و بیان کے رموز سے بہرہ ورہوئے۔ علم کی پیاس پٹنہ سے امر تسر کے مردم خیز خطے میں لے آئی، تعلیم کو پہنچاہی چاہتی تھی کہ ہندوستان میں تحریک خلافت کا آغاز ہوگیا۔ امر تسران دنوں سیاست کا مرکز تھا شاہ صاحب بھی سیاست کی تپش سے محفوظ نہ رہ سکے تعلیم کا سلسلہ موقوف کیا اور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ شعلہ بار خطابت کا ملکہ قدرت نے وافر مقدار میں مہیا کر رکھا تھا بس اسے آگ دکھانے کی دیر تھی خلافت عثمانیہ کے نحیف ونزار وجود کو انگریزوں نے روند ڈالا تو سید عطاء اللہ شاہ بخاری برصغیر کے چپے چپے میں پہنچے اور انہوں نے اپنی آتشیں تقریروں سے فرنگی سرکار کے خلاف عوام الناس کے دلوں میں بغاوت کے شعلے بھڑ کادیے اسی تحریک خلافت میں ہی وہ پہلی مرتبہ عین عالم شباب میں جیل کی آزمائشوں میں ڈالے گئے اور قیدو بند کا یہ سلسلہ ایسا مضبوط ہواکہ پھر ان کی ساری زندگی”ریل اور جیل“سے عبارت ہوگئی۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری اپنے عقائد کے لحاظ سے انتہائی راسخ العقیدہ تھے۔ زندگی میں جو موقف انہوں نے اپنائے رکھا، اُسی کو تا اختتام زندگی اپنائے رکھا۔ وہ تقسیم برصغیر کے مخالف اور مسلم لیگ کے نظریہ سے مخالفت رکھتے تھے۔ اگرچہ انہیں کانگریس سے بھی اختلاف رائے تھی لیکن وہ دونوں سے الگ رہ کر ’’مجلس احرار‘‘ کے پلیٹ فارم سے اپنا نظریہ بیان کرتے رہے۔ 1946ء میں جب کہ مسلم لیگ کی مقبولیت اور نظریہ ئ پاکستان کی قبولیت مسلم عوام میں اپنی آخری حدود تک پہنچ گئی۔ اُس وقت بھی مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری برصغیر کی تقسیم کے خلاف برسرپیکار رہے۔ مولانا بخاری اور مجلس احرار نے شہید گنج کے تنازعہ میں شہید گنج کی واگزاری کی پوری کوشش کی لیکن جب پنجاب ہائی کورٹ نے اس کے گردوارہ ہونے کا اعلان کردیا تو عوام الناس کو فتنہ و فساد سے باز رہنے کی تلقین کی۔ اس کے باعث ان کے سیاسی مخالفین نے ان پر سخت تہمت لگائیلیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی شہید گنج مسجد نہ بن سکی اور گوردوارہ ہی رہا تو 1958ء میں لاہور کے دلی دروازہ کے باہر بخاری پھر گرج دار آواز میں پوچھا کہ بخاری پر الزام تراشی کرنے والوں نے پاکستان بننے کے بعد شہید گنج کو گوردوارہ سے مسجد کیوں نہیں بنایا؟ حکمرانوں کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ تنگ نظر ہندو بخاری کو کٹر مسلمان اور فرقہ پرست سمجھتے تھے تو بعض لوگ ان کے خلاف کفر کے فتوے صادر کرتے رہے۔ مولانا بخاری کسی کی بھی پرواہ کئے بغیر اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہے۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری صدق دلی اور مردانہ وار طریقہ سے تا دم آخر اپنے موقف پر قائم رہے۔ نہ حکومتی جبر و تشدد انہیں مرعوب کرسکا اور نہ طمع و لالچ اُن کے پاؤں میں لغزش پیدا کرسکے، نہ عوام کی کم فہمی اور تنگ نظری کے باعث کئی بار الگ تھلگ ہونے کا احساس انہیں اپنی راہ سے ڈگمگا سکا۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا جسد خاکی ملتان میں سات دہائی سے قبل منوں مٹی کے نیچے دفن ہے۔ تقریر و خطابت کے اس شہنشاہ کی موت سے ایک تاریخ ختم ہوگئی۔ ایک عہد گزر گیا، ایک دور مختتم ہوا، ایک چمن سونا ہوا، ایک بہارلٹ گئی، جرأت و شجاعت اور صدق و صفا کا گلشن خزاں آلودہ ہوا، خلوص و دیانت پر افسردگی چھا گئی، اب کبھی شاہ نظر نہیں آتے، ان کی شعلہ بار تقریریں خاموش ہیں لیکن جب بھی انقلاب کے بادل گرجیں گے، بجلی چمکے گی اور موسلا دھار بارش ہوگی، سماج میں طوفان اور سیلاب آئے گا، جب کبھی صبح نو طلوع ہوگی، جب پھول کھلیں گے اور کلیاں مسکرائیں گی، جب کوئی حق گوئی کے جرم کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں سہے گا، اس وقت ہم سب کو سید عطاء اللہ شاہ بخاری ضرور یاد آئیں گے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی 71 سالہ مجاہدانہ زندگی، اُن کے خلوص و دیانت، اُن کی شعلہ بیانی، اُن کی حسین جوانی، ان کی پروقار عمر رسیدگی، ان کے لاکھوں عقیدت مندوں کی طرف سے لاکھوں سلام! نئی نسل کو سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی شخصیت سے واقف کروا کر ان کے نقش قدم پر چلنے کی ترغیب دینا اشد ضروری ہے۔ رئیس الاحرار، بطل حریت، امیر شریعت، سید عطاء اللہ شاہ بخاری جنہیں قریبی ساتھی شاہ جی کہہ کر پکارتے تھے، کی یک قلمی تصویر ان کے قریب ترین سیاسی شاگرد آغا شورش کاشمیری نے کھینچی ہے: شاہ جی قرون وسطیٰ کے ان حکماء فقہاء،خطباء اور علماء سے مشابہ تھے جو طلوع تاریخ سے پہلے یونان و روما اور طلوع تاریخ کے بعد بغداد اور دہلی میں پائے جاتے تھے۔‘‘ اسے اتفاق ہی کہئے کہ بعض اونچی شخصیتیں آپس میں یک گونہ مماثلت ضرور رکھتی ہیں مثلاً فیتا غورث، کارل مارکس، رابندر ناتھ ٹیگور اور شاہ جی میں فکر و نظر، عقیدہ و ایمان اور علم و عمل کی کوئی راہ بھی مشترک نہ تھی لیکن ایسا کچھ بانکپن ضرور تھا کہ ان کا چہرہ مہرہ ایک جیسا سا تھا۔ بہرحال یہ ایک شاعرانہ خیال ہے۔ ان بڑوں کی زندگی ایک خاص طرز رکھتی ہے، جس سانچے میں بھی ڈھلیں ہمیشہ اُبھرے ہوئے ملیں گے۔ یہ کسی کے نقش پا نہیں ڈھونڈتے بلکہ لوگ ان کے نقش پا کی تلاش کرتے ہیں۔ شاہ جی کی زندگی جس نہج پر استوار ہوئی، اس میں ادب اور سیاست کا ایک رومانی امتزاج تھا۔ ظاہر ہے کہ رومانی زندگی کھلی کتاب ہوتی ہے۔ ایسا شخص جذبات پر جیتا اور جذبات پر مرتا ہے۔ اس میں احساس کی شدت اور استغناء کی شراکت تاحد کمال ہے۔ اس کی ذات ہی اس کا پیمانہ ہے، وہ گرد و پیش سے متاثر ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ گرد و پیش اس سے متاثر ہو۔ اس کی روح میں وقت عروج پر ہوتی ہے جب عام چہروں پر اپنا ہی عکس دیکھتا ہے۔آخر میں دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حضرت حقانی صاحب کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔(این دعا ازمن واز جانب جہاں آمین باد)