بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> عطاءالحق قاسمی جیل جانے کو تیار، مریم اورنگزیب کو جھوٹا قرار دیدیا
عطاءالحق قاسمی

عطاءالحق قاسمی جیل جانے کو تیار، مریم اورنگزیب کو جھوٹا قرار دیدیا

لاہور(ویب ڈیسک): معروف ادیب اورپاکستان ٹیلی ویژن کے سابق چیئرمین عطاء الحق قاسمی نے نجی چینل سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے محبت کرتے ہیں اورہمیشہ کرتے رہیں گے. انہوں نے انٹرویوکے دوران ترجمان پاکستان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کو جھوٹاقراردیتےہوئے کہا کہ وہ کسی بھی شخص کیساتھ مخلص نہیں ہوسکتی. انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو سازشی ٹولے نے گھیررکھاہے اوروہی ان کو پھنسانے کی کوشش کررہے ہیں. میں جیل جانے کو تیارہوں میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے اوراگرہوتابھی تومیراضمیر کبھی اس چیز کے لیے نہیں‌ماننا تھا. میں نے بطورچیئرمین پی ٹی وی استعفٰی دیتے وقت ان باتوں کا ذکرکیا تھا. مریم اورنگزیب پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیربرائے اطلاعات ونشریات بننے کے بعد انہیں جب میرے خلاف کچھ نہیں ملاتو میرے پروگرام کے پرومو کے اخراجات کو میرے کھاتے میں ڈال دیا . مریم اورنگزیب ایک جھوٹی عورت ہے اوروہ کسی کے ساتھ وفانہیں کرسکتی. انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے متعلق کہا کہ وہ اس کے خلاف درخواست دائر کریں اگرفیصلہ پھربھی میرے خلاف آیا تومیں جیل جاناپسند کرونگالیکن میری لکھی گئی کتابیں میری شہادت دینگی.

اعظم سواتی کا معافی نامہ مسترد، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کاروائی کا فیصلہ

لاہور(ویب ڈیسک): سپریم کورٹ آف پاکستان میں وفاقی وزیربرائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی. چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے اعظم سواتی کا معافی نامہ مستردکردیا اورآرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کاروائی کا حکم دیدیا ہے. اعظم سواتی کے خلاف 62 ون ایف کے تحت ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگا. چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخودنوٹس کی سماعت کی،وفاقی وزیر اعظم سواتی نے جمع سپریم کورٹ میں جمع کرادیا تھا،چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے رپورٹ پڑھ لی ہے،اعظم سواتی کیخلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ٹرائل ہوگا،صرف یہ بتا دیں کہ آپ ٹرائل کس سے کرانا چاہتے ہیں؟۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ حاکم ہیں،محکوم کےساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں؟بھینس دراصل آپ کے فارم ہاؤس میں داخل ہی نہیں ہوئی، بچوں اور خواتین کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیا گیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی صاحب آپ نے اب تک اس معاملے پرکیا کیا؟چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی ایک ماہ کی کارکردگی ہے؟آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ سریہ معاملہ عدالت میں زیرالتواتھا، چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی زیرالتوا نہیں تھا،آپ کودیکھنا تھا اس معاملے میں کیاکرناہے،نئے آئی جی نے آتے ہی سرنگوں کردیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*