بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے۔۔۔خودکشی بے وجہ نہیں ہوتی

کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے۔۔۔خودکشی بے وجہ نہیں ہوتی

کوئی قاتل ضرور ہوتا ہے۔۔۔خودکشی بے وجہ نہیں ہوتی
آیت علی جہلم
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر چالیس سیکنڈ میں ایک انسان اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا گلہ گھونٹ رہا ہے مجموعی طور پر اس کی تعداد لاکھوں میں ہے جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اگست 2018 میں عالمی ادارہ صحت کے خودکشی پر شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پوری دنیا میں خودکشی کے 79 فیصد واقعات غریب اور کم آمدنی والے ممالک میں ہوتے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ خود کشی 15 سے 29 سال کے افراد میں موت کی دوسری بڑی وجہ ہے پاکستان میں دیگر کم آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں خودکشی کا رجحان اتنا زیادہ نہیں تھا لیکن اب اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار برائے سال 2014 کے مطابق پاکستان میں ہر برس ایک اندازے کے مطابق 13،377 افراد خودکشی کرتے ہیں ہندوستان میں اعدادو شمار کے مطابق 2014 سے 2016 کے درمیان 26600 طلبہ نے خودکشی کی سال 2015 میں 8934 طلبہ نے اور سال 2014 میں 8068 طلبہ نے خودکشی کی 2016 میں طلبہ کی خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات 1350 مہاراشٹر میں واقع ہوئے جبکہ مغربی بنگال میں 1147، ٹملناڈو میں 981 اور مدھیہ پردیش میں 938 واقعات رونما ہوئے 2015 میں خودکشی کرنے والے مہاراشٹر میں,1230 ٹملناڈو میں 955، چھتیس گڑھ میں 730 اور مغربی بنگال میں 676 واقعات رونما ہوئے بعض گوشوں سے ایسی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ہندوستان میں ہر گھنٹے میں ایک طالب علم موت کو گلے لگاتا ہے خودکشی روبروز ایک ناسور کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے خود کشی کا مطلب ہے خود کو غیر قدرتی طریقے سے ختم کرنا خودکشی ایک ایسا قتل ہے جس میں مرنے والا تو ایک ہے لیکن مارنے والا پورا معاشرہ ہے،اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلا ناامیدی(دس دفعہ جاب کے لیے کوشش کی نہیں ملی،رشتہ نہیں ہوا،لوگوں نے باتیں سناء تو مایوس ہوگئے)احساس کمتری کا شکار ہونا،دینی تعلیمات سے دوری،وراثت کی صحیح تقسیم نا ہونا،غصے کی خالت میں (کسی نے ڈانٹ دیا،گھر والوں نے کچھ کہہ دیا)،عزت بچانے کی خاطر،غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کھانے کو کچھ نہیں خود کو اور بچوں کو مار لیتے ہیں،دکھ پریشانی کو اپنے اندر ہی رکھنا (جو بعد میں ڈپریشن کا باعث بنتا ہے)وغیرہوہ چیز جو انسان کو عموماً خودکشی پہ مجبور کرتی ہے وہ ڈپریشن ہے،ڈپریشن ایک ایسے احساس کا نام ہے جس میں آپ کسی حادثے یا صدمے کے باعث افسردگی کا شکار ہو جائیں،آپ زندگی سے مایوس ہو جائیں بہت زیادہ ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن میں جب انسان بالکل تنہا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے بعض افراد انتہائی حساس ہوتے ہیں، اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خود پر حاوی کرلیتے ہیں اور اپنا دھیان بٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ ایک ہی بات کو باربار سوچتے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ٹینشن بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور ذہنی دباو کا شکار ہو جاتے ہیں زیادہ تر لوگ اپنے دل کی باتیں دل میں رکھتے ہیں،اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سوچیں مزید الجھ کر ان کو ڈپریشن کا مریض بنا دیتی ہیں کسی قریبی عزیز کے انتقال، کسی اپنے کی طلاق یا بے روزگاری کی صورت میں کچھ عرصہ اداس رہنا فطری عمل ہے عام طور پر ایسے واقعات میں کچھ عرصے تک اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جاتا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی میں واپس لوٹ آتے ہیں مگر بعض افراد اس اداسی سے باہر نکل نہیں پاتے جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں کسی کے ڈپریشن کو معمولی نا سمجھیں یہ سائلنٹ کلر ہے جو خاموشی سے انسان کو ختم کر دیتا ہے آج کے دور میں جس قدر آسانیاں ہیں انسان اس قدر ذہنی مریض بنتا جارہا ہے ڈپریشن کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں اور کبھی کبھار یہ بغیر وجہ کے بھی ہوجاتا ہے مطلب موروثی بھی ہے اگر آپ کے والدین یا بہن بھاء کو ڈپریشن ہے تو پھر یہ آپ پر بغیر کسی وجہ کے اثر انداز ہوجاتا ہے اس کے علاوہ بعض تکلیف دہ واقعات مثلاً کسی قریبی عزیز کی وفات،طلاق،نوکری کا ختم ہوجانا وغیرہ نوجوان نسل میں خودکشی کا رجحان بہت بڑھتا جارہا ہے جوانی کے ایام کو زندگی کا سنہری دور کہا جاتا ہے اس دور میں لوگوں کے جذبے جوان ہوتے اور کچھ کرنے کی امنگ بڑھتی رہتی ہے جھپٹنے،پلٹنے،اور پلٹ کر جھپٹنے کے لیے خون ہر دم گرم رہتاہے اگر زندگی کے اس حسین دور میں امنگیں پوری نہ ہوں،خواہشیں پایہ تکمیل کو نہ پہنچیں تو زندگی کا یہ حسین وقت بد ترین بھی بن سکتا ہے نوجوانوں میں پریشانی، ڈپریشن،نفسیاتی الجھنیں،ذہنی دباؤ کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں گھر والوں کی مناسب توجہ کا نہ ملنا، ماں باپ میں آپس کی لڑائی، امتحان میں ناکامی،وسائل کی کمی، دوستی یا محبت سے محرومی، بیروزگاری وغیرہ والدین کو لگتا ہے کہ ہم کھلا رہے ہیں،پِلا رہے ہیں، اچھا پڑھا رہے ہیں بس فرض پورا ہو گیا ان کے نزدیک بچوں کی فیلنگز معانی نہیں رکھتی وہ کیا چاہتا ہے اسے کیا پسند ہے کیا ناپسند ہے اس کی خاموشی کی وجہ نہیں پوچھتے،پوچھتے تب ہیں جب وہ پنکھوں سے لٹک جاتے ہیں اس جہاں سے کوچ کر جاتے ہیں پھر ان کی تکلیف محسوس ہوتی ہے ان کے آنسو بھی نظر آنے لگتے ہیں افسوس اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہیں والدین کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سب بچوں خاص طور پر نوجوان بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں کسی ناکامی کی صورت میں ان کی ہمت بڑھائیں اور بے جاڈانٹ ڈپٹ سے گریز کریں تعلیم کے حوالے سے بے جا بوجھ نا ڈالیں،ان سے بات کریں،اپنے راستے ان کو خود چننے دیں،دوسرے بچوں سے مقابلے نا کروائیں،سکول کالج سے واپسی پر انہیں کچھ وقت ضرور دیں والدین کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے بھی یہ پیغام ہے کہ یہ عمر کے بہترین دن ہیں اللہ تعالیٰ نے نوجوانوں کو صحت اور ہمت دی ہے توانائیوں کو بھر پور اور مثبت طریقے سے استعمال کریں کام دیانت داری اور خوب لگن سے کیجیے کسی بھی ناکامی کی صورت میں ہمت نہ ہاریں ہر حال میں اس پاک ذات کا شکر ادا کریں جو ہر حال میں آپ پر اپنی نعمتیں نچھاور کرتا ہے ایک کام کا اہتمام ضرور کریں، جب بھی آپ پر کوئی تکلیف آئے آپ اپنے دل میں اپنی دیگر نعمتوں کا استحضار شروع کرلیں اور یہ سوچے کے اگر اللہ چاہتا تو یہ نعمت بھی چھین سکتا تھا، لیکن نہیں چھینی، اس حالت کو سوچیں کہ اگر یہ والی بھی چلی جاتی تب میرا کیا بنتا، جیسے کسی کا اللہ نہ کرے ایک بازو کٹ گیا اب بجائے ناشکری کرنے کے اگر وہ یہ سوچے کے اللہ چاہتا تو دوسرا بازو بھی لے سکتا تھا تب میں کس حالت می?ں ہوتا،جب آپ یہ سوچیں گے تو خود بخود اللہ سے شکر کرنے کے کلمات آپ کی زبان پر آئیں گے اور پھر اس پر اللہ کا وعدہ ضرور بالضرور پورا ہوگا
لَءِن شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ? وَلَءِن کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ (سورۃ ابراہیم: آیت نمبر.۷) ترجمہ: اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا، اور اگر تم نے ناشکری کا رویہ اختیا کیا تو میرا عذاب بھی انتہائی سخت ہے ” یہ زندگی رب تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں اس کی قدر کریں اپنا اور اپنے پیاروں کا بہت خیال رکھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*