آزمائشوں کا دور، گزر ہی جانا ہے! ... اختر سردار چودھری

آزمائشوں کا دور، گزر ہی جانا ہے! … اختر سردار چودھری

آزمائشوں کا دور، گزر ہی جانا ہے!
اختر سردار چودھری
ایک حدیث صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ”تم فتنوں سے بچنے کے لیے پہلے اعمال صالح میں تیزی پیدا کرو۔وہ فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا۔یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہو جائے گا۔وہ دینوی فائدے کے عوض اپنا دین بیچ دے گا“۔پیارے مسلمان بھائیواس میں رحمت اللعالمین جن حالات کا ذکر کر رہے ہیں وہ اس وقت ہمارے اردگرد پیش آ رہے ہیں۔یہ دور فتنوں کا دور ہے اورآزمائشوں کا دور ہے۔آزمائش کا تعلق ایمان سے ہے جس قدر زیادہ ایمان مضبوط ہوگا اس قدر زیادہ سخت آزمائش ہوں گی۔کامیابی کا تعلق بھی ایمان سے ہے جس قدر ایمان کامل ہوگا اسی قدر کامیاب ہوں گے۔اللہ آزماتا ہے کبھی خیر دے کر کہ کون شکر کرتا ہے اور کبھی آزمائش دے کر کہ کون صبر کرتا ہے۔
موت بارے تو ہم سب جانتے ہیں کہ اس کا ذائقہ ہر ایک ذی روح کو چکھنا ہے۔اس سے مفر ممکن نہیں ہے۔اللہ نے انسانوں کو پیدا کیااور موت دے گا۔بعد از موت بھی حیات ہے۔اس حیات کے اچھے برے ہونے کا دارومدار بھی ہماری اس عارضی زندگی کے اعمال و افعال پر ہے۔میں قیامت کی بات نہیں کرتا موت کی بات کررہا ہوں، موت کا تو علم نہیں کب آ جائے۔اور جب موت آ گئی تو ہمارے لیے قیامت ہی ہے نا اس کے بعد تو دوسری زندگی شروع ہو جائے گی۔اس زندگی کی کامیابی کے لیے اس زندگی کی تیاری میں ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ اس پر سوچنے اور عمل کرنے کا وقت اب ہے۔جی ہاں یہ لمحے جو ہیں۔ہمارے اختیار میں صرف آج اور ابھی کے گزرنے والے پل ہیں۔
بات آزمائش کی ہو رہی تھی۔سب اس بارے جانتے ہیں۔سب کے پاس علم ہے۔کہنے کا مقصد ہے ترغیب تاکہ بار بار یاد دہانی سے ہم سب اس پر عمل کریں۔اس کو بھول نہ جائیں۔حالیہ نوول کرونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔دنیا بدل کر رکھ دی ہے۔اس آزمائش نے گزر ہی جانا ہے۔جب یہ گزر جائے گی تو دنیا یکسر بدل چکی ہو گی۔اس وقت جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان میں سب سے سرفہرست مسئلہ ہمارامعاشی اوربھوک کا مسئلہ ہے۔ملک کی آبادی کا نصف خط غر بت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔جن میں سے 25 فیصد انتہائی غریب طبقہ ہے۔جن کو حکومتی اور دولت مند لوگوں کی طرف سے امداد دی جا رہی ہیں۔یہ لوگ خود بھی سوال کرتے ہیں۔یعنی مانگ لیتے ہیں۔چاہے مجبوری سے مانگیں۔اور صاٖف ظاہر ہے مجبوری سے ہی مانگا جاتا ہے۔لیکن ان پر وہ شدت نہیں ہے جن سے وہ دوچار ہیں جو مانگتے نہیں ہیں۔ان کے چہروں پر لکھا ہوتا ہے۔
قرآن پاک میں ان کے بارے میں واضح حکم موجود ہے۔سورۃ بقرہ میں اللہ تعالی کے فرمان کا مفہوم ہے کہ۔صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے (1) نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے (2) تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ ہی اس کا جاننے والا ہے۔
یہ”لپٹ لپٹ کر نہیں مانگتے“ یہ ”چمٹ کر نہیں مانگتے“
ان آیات میں بڑے صاف الفاظ میں اللہ کا حکم ہے کہ اصل خیرات و مدد یا صدقات کے وہ حق دار ہیں۔جو پیشہ ور بھکاری نہیں ہیں۔حلال کمانا چاہتے ہیں۔لیکن قلیل آمدن میں گزر بسر مشکل ہے۔غربت کے باوجود سوال نہیں کرتے،ہاں ان کے چہروں پر لکھا ہوتا ہے۔آپ انہیں ان کے چہروں سے پہچان جائیں گے۔ہمارے ہاں تقریبا 50فیصد اس کی شدت کا اندازہ نہیں کر سکتے جن سے اس وقت 25 فیصد عوام دوچار ہے۔یہ 25 فیصد ایسے لوگ ہیں جن کو حکومتی ریلیف فنڈ نے مسترد کر دیا ہے کہ وہ اس کے اہل نہیں ہیں۔جن کو سفید پوش کہا جاتا ہے۔ان کی مدد اس وقت ان کے جاننے والوں اور رشتے داروں پر اور پڑوسیوں پر فرض ہے۔
معاشی آزمائش،اولاد کی آزمائش،عقائد کی آزمائش،مسلمان بھائیو! صبر اور شکر کی آزمائش کے دن ہیں۔جیسا کہ عرض کیا ہے یہ دن گزر جائیں گے۔تو کیا اس کے بعد آزمائش ختم ہو جائے گی۔ایسا نہیں ہے۔جب تک سانس جاری ہے آزمائشوں سے واسطہ رہے گا۔یہ ہی زندگی کو جتنا سمجھا گیا،سمجھ آیا ہے۔آزمائشوں کا خاتمہ مطلب سانس کا رک جانا۔ہاں جب تک زندہ ہیں اس وقت تک دل مطمئن سے رہا جا سکتا ہے۔اس کے لیے چند کام کرنا ہوں گے۔
یہ چند کام ایسے ہیں جن بارے سب جانتے ہیں۔بات عمل کی ہے۔اور عمل کے آج کا دن۔یہ وقت سب سے مناسب ہے۔سب سے پہلے نماز کی پابندی کریں۔یہ فرض ہے۔اس بارے سب سے پہلے سوال کیا جائے گا۔نماز پابندی سے پورے خشوع وخضوع کے ساتھ،مکمل توجہ کے ساتھ،اس کا مطلب جان کر،اللہ کے سامنے خود کو سمجھ کر ادا کریں۔کسی کوبھی کی جانے والی سب سے اہم اور سب سے اچھی نصیحت یہ ہے کہ نماز کی پابندی کریں۔نماز کو اس طرح ادا کرنا جس طرح قائم کرنے کا حق ہے۔نماز جن باتوں سے روکتی ہے اگر ان سے رک جائیں تو سمجھ لیں کہ نماز قائم ہوگئی ہے۔روزانہ تھوڑا سا قرآن بے شک ایک یا دو رکوع ہوں ترجمہ کے ساتھ،سمجھ کر مطالعہ کریں۔ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
اس کے بعد ساری توجہ حقوق العباد کے پورے کرنے پر صرف کریں۔سب سے والدین کی خدمت،اس کے بعد اپنے بہن بھائیوں کی،اپنے پڑوسیوں کی،دوستوں کے حقوق پورے کریں۔حقوق العباد میں کاروباری معاملات بھی آ جاتے ہیں۔ہماری کمائی حلال ذرائع سے ہو اور سچ بول کر کمائی جائے۔ان باتوں پر ان جیسی باتوں پر عمل کرنے سے ہم بچ سکتے ہیں ان آزمائشوں سے جن کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا ہے کہ دنیاوی مال و فائدے کے لیے مسلمان اپنا ایمان گنوا دے گا۔دعا ہے اللہ سبحان تعالی ہم سب کو آزمائشوں سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کی توفیق دے آمین۔