بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> فغانستان امن مذاکرات منسوخ،امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں
حملہ ہوا تو ٹیپوسلطان ورنہ۔۔۔۔۔۔؟

فغانستان امن مذاکرات منسوخ،امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں

فغانستان امن مذاکرات منسوخ،امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیاں
بادشاہ خان
امریکی صدر ٹرمپ نے افغان طالبان سے مذاکرات بالاآخر منسوخ کردیے ہیں، کئی دنوں سے محسوس ہورہا تھا کہ امریکی حکام ایک پیج پر نہیں ہیں،اور افغان طالبان اور امریکی حکومت کے مابین کئی مہینوں سے جاری مذاکرات میں امریکہ کی جانب سے تاخیری حربوں کا آغاز ہوگیا تھا، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عسکری میدان کے بعدامریکہ مذاکرات کی ٹیبل پر بھی طالبان سے ہار گیاہے،اطلاعات ہیں کہ امریکہ اب افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی کے فارمولے کو فروغ دینا چاہتا ہے، اسی حوالے سے افغانستان کے کٹھ پتلی صدر اشرف غنی کے بیانات میں شدت آگئی ہے،امریکہ خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے بیانات میں تبدیلی آرہی ہے،امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کو اکثر تجزیہ نگار اور مبصرین نظر انداز کرنے پر زور دے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ ٹرمپ اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں، وہ مستقل مزاج نہیں ہیں وغیرہ وغیرہ،،لیکن قارئین ایسا نہیں ہے، وہ امریکی اسٹبلشمنٹ کے بتائے ہوئے کردار کو آگے بڑھا رہے ہیں،ان کے بیان میں وہ سارے منصوبے موجود ہیں،جن کے بارے اہل علم لوگ پہلے سے جانتے تھے، امریکی اس خطے سے جانے کے موڈ میں نہیں، اس کے عزائم اور منصوبے ادھورے ہیں،جس میں بنیادی رکاوٹ افغان طالبان ہیں،
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن طالبان کے ساتھ 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کر لیتا ہے تو بھی امریکی افواج وہاں موجود رہیں گی۔گذشتہ جمعرات کو فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8,600 کیا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا ’ہم وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھنے جا رہے ہیں۔ ہم اس موجودگی کو بہت حد تک کم کر رہے ہیں اور ہمیشہ وہاں اپنی موجودگی رکھیں گے۔‘خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’افغانستان میں امریکی افواج کی سطح کو کم کر کے 8,600 کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ ’حتمی معاہدے‘ کے قریب ہیں جس کے تحت امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو گا اوراس کے بدلے میں امریکہ کے ساتھ عہد کیا جائے گا کہ افغانستان کو اسلامی انتہا پسند گروہوں کو مرکز بننے نہیں دیا جائے گا۔دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ’ہمیں امید ہے کہ ہم اپنی مسلمان، آزادی پسند قوم کے لیے جلد خوشخبری سنائیں گے۔‘
اب آپ ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل امریکی حکمرانوں کی پالیسیاں دیکھ لیں، ڈومور کی رٹ، اوراب ڈونلڈ ٹرمپ کاجارحانہ کردار، یہ امریکن خارجہ پالیسی کا دوسرا رخ ہے، ماضی میں اس طرح وہ کئی بار کرچکے ہیں،وہ جن کے دوست ہوتے ہیں وہ ہمیشہ خسارے میں رہتے ہیں۔
افغانستان سے امریکی انخلانہ ہونے کاایک اور پہلو جس کا تعلق معیشت سے ہے،اس کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں، دنیا بھرمیں فولاد، تانبے اور سونے کے محفوظ ذخائر کی ایک بڑی مقدار اس وقت افغانستان میں موجود ہیں، امریکہ اسے چرانا چاہتا ہے،یہ جولائی کے وسط کی بات ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکی کیمیکل کمپنی کے سربراہ سے افغانستان میں موجود امریکی فوج کے حوالے سے تبادلہ خیالات کیا تھا۔ ٹرمپ کو بتایا گیا کہ افغانستان کے بڑے پیمانے پر قدرتی وسائل کے استحصال کا نتیجہ ناقابل یقین معاشی خوشحالی کا سبب بن سکتا ہے۔ امریکی کمپنی امریکن ایلیمنٹس کے سی ای او مائیکل سلور سے گفتگو میں ٹرمپ کو پتہ چلا کہ افغان سرزمین میں بیش بہا دولت دفن ہے، شاید ایک ٹریلین ڈالرسے بھی زیادہ۔ جو تانبے، لوہے اور دیگر قیمتی دھاتوں پر مشتمل قدرتی وسائل پر مشتمل ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ایک افسر کے مطابق قدرتی وسائل کو حاصل کرنے کے منصوبہ میں پہلی بار صدر ٹرمپ کی دلچسپی افغان صدر اشرف غنی کی گفتگو سے ہوئی جو مئی میں ان سے ریاض میں ملے تھے۔ اشرف غنی نے ٹرمپ کو مبینہ طور پربتایا تھا کہ ہم بہت غیرمعمولی دولت پر بیٹھے ہیں تو چین کے بجائے وہاں امریکی کمپنیاں کیوں کام نہیں کررہیں؟ وہائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں جاری جنگ جس کو اٹھارہ سال ہوچکے ہیں اورجس میں تین ہزار امریکی ہلاک اور ایک ٹریلین ڈالرسے بھی زیادہ اخراجات آ چکے ہیں،۔۔
امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کے بعدردعمل میں کئی بیانات سامنے آچکے ہیں، چین،اور روس کے بعد ایک اہم بیان افغان طالبان کا بھی سامنے آیا، ایسا معلوم ہورہا ہے کہ امریکہ اپنی طویل ترین جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتی ہے، وہ حقائق درک کرنے کے بجائے مزید اپنی طاقت اور فوج پر مغرور ہیں۔مگر افغانوں نے گزشتہ اٹھارہ برسوں کے دوران امریکی جارحیت کو ناکام بنایا، ۔ طالبان کا موقف وہی ہے جو پہلے دن تھا کہ امریکہ کے لئے لازم ہے کہ جنگ جاری رکھنے کے بجائے افغانستان سے اپنی افواج کی مکمل انخلاء کا اعلان کرے۔ امریکی حکمرانوں کو یہاں حقائق تسلیم کرنے پر مجبور کرینگے،افغان مجاہد عوام اپنی استقلال کے حصول اور یہاں اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں خستہ اور نہ ہی تھک جائینگے، اگر امریکہ اپنی افواج کو ہماری سرزمین نہ نکالے، تو وہ وقت دور نہیں ہے کہ کہ اکیسوی صدی میں افغانستان امریکی سلطنت کے لیے قبرستان بن جائے۔۔۔۔
امریکی صدرٹرمپ کے بیان کے بعدڈرٹی پراکسی وار نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے افغانستان میں امریکہ ناکامی کے باوجود موجود ہے اور دوسری طرف وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان،چین،روس افغانستان میں امن کے لئے کردار ادا کریں،اس کی خواہش ہے کہ ایران و انڈیا کو افغانستان میں بڑا کردار ملے،ان کو خطے میں فرنٹ لائن پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش ہورہی ہے،۔وقت آگیا کہ اب پاکستان کھول کر اپنے موقف کی وضاحت کرے،کیونکہ افغان حکومت پاکستانی موقف پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں،بھارت نے افغان عوام کے اندر پاکستان کے خلاف زہر بھرنے کے لئے کئی برسوں سے کام کررہا ہے،دوسری جانب پاکستان کی طرف سے اس پروپیگنڈے کا موثر توڑ نہیں کیا جارہا،بھارت اب افغانستان کے راستے ہمیں ٹارگٹ کررہاہے، افغانستان ہمارا پڑوسی ہے،اس موقع پر خطے کے اہم ممالک چین،روس کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ کشمیر اور افغانستا ن میں امن سے خطے کا امن جڑا ہوا ہے،اور ایسا محسوس ہورہاہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے،امریکہ کے افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جس کا نتیجہ سامنے نہیں آرہا کچھ اورپیغامات کی نشاندہی کررہا ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*