بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ڈینگی کی وباء اور اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان
حملہ ہوا تو ٹیپوسلطان ورنہ۔۔۔۔۔۔؟

ڈینگی کی وباء اور اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان

ڈینگی کی وباء اور اسپتالوں میں سہولیات کا فقدان
بادشاہ خان
گذشتہ دنوں ڈینگی کی بیماری نے ایک بار پھر وباء کی شکل اختیار کی، ہمارے دوست عالمگیر خان جن کا تعلق پشاور سے ہے، دوبار فون پر کہا کہ صحافی اس عوامی مسئلے کو کیوں اجاگرنہیں کررہے، غریب شخص کو بنیادی سہولت صحت کی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ دو برس پہلے ڈینگی پھیلنے کے بعد اس کا تدارک کیوں نہیں کیا گیا، راولپنڈی، لاہور اور پشاور ڈینگی سے تہہ وبالاہیں، اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، نہ بستر ہیں، نہ ادوایات،، نہ سانپ کے کاٹے کی ویکسین ہے نہ کتے کی… کینسر کے مریض ادویات کے لیے مارے مارے پہر رہے ہیں، وزیرصحت کہتی ہے شہبازشریف نے لاہورکی نالیوں میں ڈینگی کے انڈے چھپا کر رکھے تھے. سردیاں آئیں گی تو ڈینگی خودبخودختم ہوجائیگا، میں کیا کروں؟ ایک ہی سانس میں عالمگیر خان نے کئی سوال کر ڈالے، اب ہم انہیں کیا بتائیں کہ، حکومت کی ترجیعات کچھ اور ہیں، ان کے نزدیک کشمیر کا مسئلہ، ڈینگی بخار سے پریشان عوام سے زیادہ ان کی توجہ کہیں اور ہے، وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ یہ صوبائی مسئلہ ہے، اور صوبائی حکومت اس آس پر ہے کہ وفاق کچھ کرے گا، اور اس ماحول میں بیماریاں،بے روزگاری،کرپشن بڑھ رہی ہیں،
ہمارے سامنے کئی دنیا کی کئی مثالیں موجود ہیں، کہ وہاں بیماریوں کی روک تھام کے لئے کتنی تحقیق کی جاتی ہے، ہر سال اس مد میں اربوں ڈالرز رکھے جاتے ہیں،دنیا بھر میں حکومتیں اپنی عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں،اور اس اہم بنیادی عوامی شعبے میں کوتاہی برادشت نہیں کی جاتی،وقتا فوقتا طبی عملے کی تربیت بھی جاری رہتی ہے،دوسری ترقی پذیر ممالک میں طبی سہولیات کی فراہمی،طبی عملے کی کمی سے لیکرعوام اور حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ اہم شعبہ کئی مسائل سے دچار ہے،جس کی وجہ سے عوام اور طبی عملے میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے،حکومتی چیک اینڈ بیلنس کمزور ہونے کی وجہ سے طبی عملہ اپنے آپ کوپابند نہیں سمجھتا،یہ اثرات سرکاری اور نجی دونوں طبی شعبوں میں نظر آرہے ہیں، ہمارے ہاں بھی اربوں روپوں کے بجٹ اعلان کیا جاتا ہے، مگر نجانے وہ رقم کہاں خرچ ہوتی ہے، سمجھ میں نہیں آتا، اور اس پر آئے روز ڈاکٹرز کی ہڑتال الگ جاری رہتی ہے، سوال بنیادی سہولت صحت کا ہے، کسی کوتو اس کا جوابدہ ہونا چاہی ہے،
ایک سروے کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والوں میں سے 40%مریضوں کو اپنے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے قرض لینا پڑتا ہے یا اپنی جائداد فروخت کرنا پڑتی ہے ایک اندازے کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والا ہر چوتھا مریض خط افلاس سے نیچے آجاتا ہے۔صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،اورحکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کے ہر شہری کو بنیادی صحت کی سہولتیں فراہم کرے،پاکستان میں طبی سہولیات کی ناقص صورت حال کی وجہ سے ہر ایک منٹ بعد ایک بچہ ہلاک ہو جاتا ہے۔پاکستان میں ہر سال بہت سے مریض صرف غربت کی وجہ سے اسپتال کا خرچ نہیں اٹھا پاتے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں مراکز صحت کی بڑی تعداد عملے اور دواؤں سے محروم ہے۔ شہروں میں بھی چند سرکاری اسپتالوں کو چھوڑ کر بیشتر سرکاری ڈسپنسریوں کی حالت غیرتسلی بخش ہے۔صرفایک شہر قائد کی مثال پیش کرتا ہوں،کراچی میں 1980 کے بعد تاحال کوئی بڑا سرکاری اسپتال نہیں بن سکا، نجی اسپتالوں کی مافیا بھی نئے اسپتال بنانے کی راہ میں ایک روکاٹ ہے،کراچی میں سرکاری بڑے اسپتال اسی کی دہاہی سے قبل بنائے گئے ہیں، اور دوسری جانب آبادی کا اژدھام ہے کہ ہزار گنا بڑ چکا ہے،سہراب گوٹھ، نادرن بائی پاس اور بن قاسم ٹاون کے مرکزی شاہراوں پر کوئی بڑا اسپتال نہیں ہے،یہ صرف ایک شہر کا حال ہے،پورے میں سرکاری سطح پر سہولیات کی کمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں سرکاری سطح پر ہر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے،کہ سب کچھ مفت اوربرابری کی بنیاد پر ہے،مگر ایسا نہیں ہے،ہر جگہ کرپشن موجود ہے،ادویات میں کمیشن،کمیشن کی لالچ میں غیر معروف ادویات کی خرید،مہنگی سرکاری ادویات کا بازار میں فروخت،ڈاکٹروں کا وقت پر نہیں آنا،مقامی سطح پر بی ایچ یوز، ضلعی اور ٹاون،تحصیل سطح پر قائم رورل سینٹر کا غیر فعال ہونا،بڑے اسپتالوں کے عملے پر ورک لوڈ، نئے اسپتالوں کا نہ بننا،سرکاری ڈاکٹروں کا نجی اسپتالوں کا چلانا،سرکاری اسپتال میں موجود جدید طبی آلات کی کمی اور خرابی،سرکاری عملے کا عوام اور تیمارداروں سے بدتمیزی،اپنی غلطی تسلیم نہیں کرنا،عوام کی جانب سے علاج میں جلدی کی خواہش،تعلیم کی کمی،اسپتالوں میں موجود کاونٹرز پر معلومات فراہم کرنے والوں کی کمی،پرچی سے لیکر معائنہ تک مریضوں کا خوار ہونا،اور اس کے بعد لکھے گئے ٹیسٹ کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے، اس کی وجہ سے تشدد بھی بڑھ رہا ہے، کیا نیب ان سرکاری اسپتالوں میں جاری کرپشن اور لوٹ مار کی تحقیقات بھی کرے گی؟ عوام میں بے روزگاری،ایکسیڈنٹ سمیت کئی دیگر وجوہات بھی شامل ہیں،جس کی وجہ سے طبی عملے پرتشدد کا رجحان دونوں جانب سے بڑھ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی چیک اینڈ بیلنس کا نا ہونا،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا غیر فعال ہونا،قابل ڈاکٹروں کی کمی،طبی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں میں اکثر کی پست معیار تعلیم بھی وجوہات میں شامل ہے۔دوسری جانب نجی ادارے دو اقسام کی ہیں ایک غیر سرکاری اداروں،تنظیموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت طبی سہولیات جس سے عوام کافی حد تک مطمئن ہے مگر یہ محدود اور آٹے سے نمک کے برابر بھی نہیں ہے، اور دوسری قسم نجی(پرائیویٹ)اسپتالوں کو حد سے زیادہ کمرشلز ہونا، جہاں علاج کرنا عام آدمی کے پہنچ سے باہر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی اکثریتی آبادی ان اسپتالوں میں علاج سے محروم ہے یہ بھی ڈپریشن کی ایک اہم وجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس اہم بنیادی سہولت کی فراہمی کے لئے طویل مدتی اقدامات ہونگے؟یا عالمگیر خان جیسے محب وطن پاکستانی بھی مایوس ہوجائیں گے،؟ دنیا کی ترقی میں ایک بنیادی راز ان کا اپنی عوام کو صحت تعلیم کی بہترین سہولیات گھر کی دہلیز پر فراہم کرنا بھی ہے، زوال پذیر حکومت اور زوال پذیر معاشرے کا انجام کیا ہوگا، سب کے سامنے ہے؟ مگر ہر کسی کو اپنی پڑھی ہے، ہاں ایک بات اور لیبارٹری وائرس سے صرف غریب نہیں آپ بھی متاثر ہوسکتے ہیں،لیکن کیا؟ آپ کے لئے تو سہولیات ہیں، مسئلہ تو عوام کا ہے، کیا عوام اسی طرح برادشت کرتی رہے گی؟۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*