بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> صوبائی اراکین اسمبلی کیلئے بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ۔۔۔حکومت کا موقف تبدیل
بجٹ
بجٹ

صوبائی اراکین اسمبلی کیلئے بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ۔۔۔حکومت کا موقف تبدیل

ایک خبر کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ترقیاتی فنڈز نہ دینے کے دعوے سے پیچھے ہٹتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پنجاب نے اپنے ہر رکنِ صوبائی اسمبلی کے لیے 10 کروڑروپے مختص کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ا س سلسلے میں حکومت پہلے ہی حکمراں جماعت کے اراکین اسمبلی سے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز حاصل کرچکی ہے۔اس سلسلے میں پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اراکینِ صوبائی اسمبلی نے ترقیاتی تجاویز جمع کروادی ہیں لیکن مالی مشکلات کے سبب فنڈز جاری نہیں ہوسکے۔اس کے ساتھ اراکینِ اسمبلی نے عوام کی مشکلات کے حل کے لیے علاقے کے سینئر افسران کے تعاون نہ کرنے پر بیوروکریسی کا معاملہ اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اراکینِ اسمبلی اپنے علاقوں میں نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنا چاہتے ہیں تاکہ خاص کر ان یونین کونسلوں میں جو مسلم لیگ(ن)کے دورِ حکومت میں نظر انداز کردی گئیں تھیں۔سینئر رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بلدیاتی حکومت کے نظام میں بھی تبدیلی چاہتی ہے کیوں موجودہ نظام میں تمام میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کونسلز میں اراکین کی اکثریت مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھتی ہے۔چناچہ بلدیاتی حکومت کے قانون میں تبدیلی صوبائی اسمبلی کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے لیکن اس کے لیے پی ٹی آئی کے پاس ایوان میں مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔اس صورتحال میں صوبائی اسمبلی نے ہر حکومتی رکن اسمبلی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کرتے ہوئے ان سے ترقیاتی تجاویز طلب کیں۔اس ضمن میں پی ٹی آئی کے رکنِ صوبائی اسمبلی چوہدری عدنان نے بتایاکہ ہم نے حکومتِ پنجاب کو ترقیاتی تجاویز جمع کروادی ہیں اور اس سلسلے میں جلد فنڈز جاری ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں متعدد علاقوں میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ گزشتہ حکومت صرف کیشن کے لیے منصوبے شروع کرنے میں مصروف رہی تھی۔دوسری جانب حکام کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے سے جاری منصوبوں کی وجہ سے نئے منصوبوں کے آغاز میں مشکلات کا سامناہے، جس کی وجہ سے فنڈز کے اجرا میں تاخیر ہورہی ہے، تاہم اراکینِ اسمبلی اپنے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز کے حصول کے لیے پر امید ہیں۔یہاں تو دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ(ن)کو اراکینِ اسمبلی کے ذریعے ترقیاتی فنڈز کے استعمال پر تنقید کا نشانہ بناتی تھی لیکن اب خود پنجاب میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے اراکینِ صوبائی اسمبلی سے ترقیاتی تجاویز طلب کرلیں ایسی صورتحال میں حکومت فیصلوںپر تنقید کیوں نہ ہو۔کیونکہ چیئرمین تحریک انصاف کا موقف تھا پیسوں کی ایسے بندربانٹ سے کرپشن کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں ۔ ترقیاتی کاموں کے حوالے یہاں ایک نقطہ بہت اہم ہے کہ تحریک انصاف اس بات پھر بھی نالاں یا فکرمند ہے کہ کہیں جاری کئے گئے ان فنڈز سے گزشتہ حکومت کے شروع کئے گئے منصوبوں کی تکمیل نہ ہو جائے جبکہ ،ماضی میں تحریک انصاف کا یہ دعوی رہا ہے کہ مسلم لیگ(ن) نے اپنے دورحکومت میں سابقہ حکومت کے اچھے منصوبوں کوپس پشت ڈال دیا ہے جو کہ اچھا اقدام نہیں اور تحریک انصاف مثبت رویے کے ساتھ سابقہ حکومتوں کے اچھے کاموں کو آگے بڑھائے گی۔۔۔۔تحریک انصاف چند ماہ میں اپنے غیرمقبول فیصلوں کی بدولت بے نقاب ہورہی ہے ۔جبکہ موجودہ سیاسی، معاشی اور اقتصادی صورتحال کے پیش نظر وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی اصلاح کرے ، اچھے اور دیرپا فیصلے کرے اور اپنی مدت پوری کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*