بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> ڈیم کی تعمیر میں پہلے 9 سال کا عرصہ لگنا تھا : چیف جسٹس
تعمیر
تعمیر

ڈیم کی تعمیر میں پہلے 9 سال کا عرصہ لگنا تھا : چیف جسٹس

لاہور(ویب ڈیسک) پاکستان سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حل ہی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیم کی تعمیر میں 9 سال کا عرصہ لگنا تھا مگر اللہ پاک نے ایسی مہربانی کی ہے ہم پر کہ اب اس کی تعمیر دو یا ڈھائی سال پہلے ہی مکمل ہو جائیں گی- اور یہ بھی کہا کہ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے اوورسیز پاکستانیوں سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق :‌چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ڈیم کی تعمیر میں 9 سال کا عرصہ لگنا تھا لیکن اللہ نے خاص مہربانی کی اور بہت سے مسائل فوری حل ہوگئے جس کے باعث 2 سے ڈھائی سال پہلے ڈیم کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے پہلے ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر پر 1584 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ڈیم کی تعمیر پر 9 سال کا عرصہ لگنا تھا لیکن اللہ نے بڑی سہولتیں فراہم کی ہیں، زمینوں کے مسائل کسی عدالت میں گئے بغیر چند دنوں میں حل ہوگئے۔ اگر ہم پوری ذمہ داری سے جدوجہد کے ساتھ ڈیم کی تعمیر کریں تو دو سے ڈھائی سال پہلے اس کی تعمیر ہوجائے گی۔ ڈیم کی تعمیر میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنے ملک کی مدد کی، جتنا پیار اوورسیز اپنے ملک سے کرتے ہیں اتنا ہم لوگ بھی نہیں کرتے۔ برطانیہ کے دورے کے دوران 5 سے 6 جگہ فنکشن ہوئے تو جگہ کم پڑگئی اور پتا چلا کہ لوگ ٹیبل مانگنے کیلئے جھگڑے کر رہے ہیں۔ مانچسٹر میں 1300 لوگوں کا فنکشن تھا لیکن اس سے زیادہ لوگ باہر کھڑے ہوئے تھے، ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے اوورسیز پاکستانیوں سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ایمانداری کی اعلیٰ ترین مثال قائم کردی
لاہور(ویب ڈیسک):وزیراعظم عمران خان نے ایمانداری اورقانون کی بالادستی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کردی . تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جب گرینڈ حیات ہوٹل کی قسمت کے حوالے سے معاملے پر تبادلہ خیال ہونے لگا تو وزیر اعظم نے نئی مثال قائم کرتے ہوئے کابینہ اجلاس کی صدارت کرنے سے معذرت کرلی جس کے بعد اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ اسد عمر کو کرنا پڑی۔جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایک موقع پر وفاقی دارالحکومت میں زیر تعمیر بلند ترین اور مہنگی ترین عمارت گرینڈ حیات ہوٹل کی قسمت کے فیصلے کے حوالے سے ایجنڈے پر غور کیا جانے لگا تو وزیراعظم عمران خان نے مثالی فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس سے علیحدگی اختیارکر لی۔ قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چونکہ گرینڈ حیات ہوٹل میں ان کا اپنا فلیٹ بھی ہے، اس لئے اس معاملے سے متعلق مفادات کے ٹکراؤ کے باعث وہ کسی بھی فیصلے کا خود حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے وزیر خزانہ اسد عمر کو اجلاس کی صدارت کرنے اور معاملے سے متعلق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران وزیر قانون فروغ نسیم نے بھی اجلاس کا حصہ بننے سے معذرت کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ چونکہ گرینڈ حیات ہوٹل کے حکام کی وکالت کرتے رہے ہیں، اس لئے ان کیلئے بھی اجلاس میں شرکت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*