بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> بچوں سے انسانیت سوز سلوک ۔۔۔وزرات انسانی حقوق کہاں ہے؟
بچوں
بچوں

بچوں سے انسانیت سوز سلوک ۔۔۔وزرات انسانی حقوق کہاں ہے؟

بچوں سے ہونے والی زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے ایوان بالاءکی تشکیل دی جانے والی خصوصی کمیٹی کے اجلاس کی صدر سینیٹر نزہت صادق نے کہا کہ ان واقعات کا سلسلہ رکنے کے بجائے آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ صوبوں میں اس معاملہ پر ہم آہنگی نہیں ہے۔ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت کے پاس مستند ڈیٹا نہیں ہے جو کمیٹی کو پیش کیا جائے۔ پولیس کا FIA کے ساتھ مواد کے تبادلے کا کوئی نظام موجود نہیں۔سیکرٹری سوشل ویلفیئر خیبرپختونخواہ نے کمیٹی کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ کے 12اضلاع میں ویلفیئر کے مختلف یونٹس کام کر رہے ہیں اس سلسلہ میں 1121 کی سروس بھی متعارف کروائی گئی ہے۔۔ سینیٹر مشتاق نے کہا کہ بچوں سے بھیک منگوانا جرم ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا حکومت پرائیویٹ NGOs کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے انہیں مختلف کاموں میں اپنے ساتھ شامل کر سکتی ہے۔سیکرٹری وزارت انسانی حقوق نے کمیٹی کو بتایا کہ لوگوں کو ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے اقدامات کا شعور نہیں ہے۔ پاکستان میں صرف 30فیصد بچے رجسٹرڈ ہیں۔ بچوں کی شناخت نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وزارت انسانی حقوق عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں خود وزارت انسانی حقوق کی کردار پر سوالیہ نشان ہے ،کمیٹی کو چاہیے اپنے تشکیل دی گئی گزارشات اور سفارشات پر حکومت کو جلد سے جلد آگاہ کرے اور عملی اقدامات کر ے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*