کرونا،عید اور پاکستانی عوام

کرونا،عید اور پاکستانی عوام
تحریر:ڈاکٹرتنویر چوہدری لاہور
کرونا وائرس پوری دنیا میں ایک وباء کی صورت اختیار کر چکا ہے کچھ ملکوں میں اب اس کا زور ٹوٹتا جار ہا ہے اور کچھ ممالک میں اس وبا ء کا پھیلاؤ جاری ہے اس وباء سے لاکھوں جانیں ضائع ہو گئیں اور ابھی تک مرنے والوں میں کمی نہیں آئی لیکن اب اس کا زور کچھ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اس وباء سے بچنے کا واحد طریقہ حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ہی ہے اس کے بغیر ہم اس بیماری سے محفوظ نہیں رہ سکتے اس وباء سے بچنے کے لئے ہمیں باوضو رہنے کی ضرورت ہے اور نماز کی پابندی کرنا بھی ضرروی ہے تا کہ ہم اس موذی مرض سے بچ سکیں ساتھ ساتھ ہمیں توبہ استغفار کا ورد بھی کرنا چاہئے اپنی قوت معدافعت کو بڑھانے کے لئے متوازن غذا لیں۔متوازن اور صحت مند غذا کے علاوہ ہمیں بھرپور نیند لینے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ صفائی ستھرائی کا بھی مکمل طور پر خیال رکھیں دن میں کئی بار اپنے ہاتھوں کو دھوئیں۔ذہنی پریشانیوں سے دور رہیں ذہنی نپریشانیوں سے بچنے کے لئے نماز قائم کریں بطور مسلمان نماز ہم پر فرض ہے اور ہم اپنے فرض سے ہی غافل ہیں۔
اس بار عید الضحی مختلف طریقے سے منائی جائے گی ہمیں مزید احتیاط کرنے کی ضرورت ہو گی انسانوں کے ساتھ ساتھ اگر قربانی کے جانوروں کے بھی ٹیسٹ کو ممکن بنایا جائے تو بہتر ہو گا کیونکہ کرونا وائرس جانوروں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے آپ کے شہر میں مویشی منڈیاں بھی ہوں گی لیکن اس بار کوشش کریں کہ براہ راست منڈی سے جانور نہ خریدیں بلکہ آن لائن خریدا جائے تو بہتر ہے یا پھر بڑے بڑے مارٹ بھی آپ کی قربانی کو آسان بنا رہے ہیں اور عید سے پہلے جانوروں کی بکنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے اس طریقے سے آپ کے مطلوبہ جانور کا گوشت پیک کر کے آپ کے گھر میں پہنچا دیا جائے گاآپ کو گھر سے باہر جانے اور قصائی کی تلاش کے جھنجھٹ سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔ابھی بھی بہت سے لوگ کرونا بیماری کو تسلیم نہیں کرتے لیکن اس کی صورت حال آپ سب کے سامنے ہے روزانہ سوشل میڈیا اور ٹی وی اخبارات میں کرونا سے مرنے والوں کی خبریں نشر ہوتی رہتی ہیں لیکن اب وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کرونا کا زور بھی ٹوٹتا جا رہا ہے انشا اللہ بہت جلد زندگی واپس لوٹ آئے گی اور پھر سے ملک میں رونقیں بحال ہو جائیں گی۔کوشش کریں کہ عید پر کھانا گھر پر ہی پکائیں اور باہر کے کھانوں سے مکمل اجتناب کریں کیونکہ پرہیز ہی علاج سے بہتر ہے۔عید کے موقع پر اپنے بزرگوں اور خاص کر بچوں کا خاص خیال رکھیں بلاوجہ باہر ہر گز نہ نکلیں اگر باہر جانا ضروری ہو نتو ماسک اور دستانوں کے بغیر باہر نہ جائیں احتیاطی تدابیر اپنا کر ہی آپ محفوظ رہ سکتے ہیں مجھے بے حد افسوس ہے کہ ابھی بھی کئی لوگ ماسک کے بغیر باہر دکھائی دیتے ہیں۔سفر کے دورون بھی اس بات کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے اور لوگ بغیر ماسک پہنے گاڑیوں اور ٹرینوں میں سفر جاری رکھے ہوئے ہیں جو بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
عید کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ بلغگیر ہونے سے بچیں کیونکہ ابھی کرونا ختم نہیں ہوا ہے ابھی اس کے اثرات باقی ہیں ہم جتنی احتیاطی تدابیر کو اپنائیں گے اتنا ہی ہم اس موذی مرض سے بچیں رہیں گے
اسی طرح جب جانور خریدنے مویشی منڈی جائیں تو اپنے ساتھ بچوں اور بزرگوں کو نہ لے کر جائیں ایس او پیز پر پوری طرح عمل کریں تا کہ آپ کرونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ایک اور بات کہ کرونا سے بچنے کے لیے سوشل میڈیا پر یا پھر کہیں سے بھی آپ کو جو معلومات ملتی ہیں کہ فلاں چیز یا فلاں جڑی بوٹی کرونا سے بچانے میں مدد کرتی ہے ایسا بالکل نہیں ہے خود سوچیں کہ ابھی بڑے بڑے سائنسدان اس مرض کی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو پھر یہ جڑی بوٹیاں اور دوسری اشیاء کیسے کرونا سے بچا سکتیں ہیں اپنی قوت معدافعت کر بڑھانے کے لئے تازہ موسمی پھلوں اور تازہ سبزیوں خاص کر پتے والی سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں متوازن غذا ہی آپ کو کرونا سے محفوظ رکھنے میں مدد کر سکتی ہے نہ کہ خواہ مخواہ بتائے ہوئے ٹوٹکے۔۔۔۔پھل اور سبزیاں جتنی مفید ہیں اتنے ہی انڈے،دودھ،دہی،گوشت سبز چائے اور دالیں بھی فائدہ مند ہیں اس کے علاوہ وٹامن سی قوت معدافعت کو بڑھانے میں مددگار ہے ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ پانی کا ستعمال بھی نہایت ضروری ہے اگر گلے میں انفیکشن ہو تو نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غرارے کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتاہے اگر بخار تیز ہو سردرد اور جسم میں تکھاوٹ اور درد محسوس ہو تو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں ہمارے ہاں مختلف افوائیں جنم لیتی ہیں جن کے خوف سے لوگ ہسپتالوں کا رخ نہیں کرتے موت برحق ہے اور یہ ہر شخص کو آنی ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہے لیکن ہمیں اپنے اداروں،ڈاکٹرز پر بھروسہ کرنا بھی ضروری ہے بہت سے ڈاکٹرز اس کرونا میں اپنی ڈیوٹی کے دوران موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور جا رہے ہیں لیکن ہم ہیں کہ سوشل میڈیا پر اٹھنے والی افواہوں سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں ہیں ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک آدھ واقع کہیں رونما ہو گیا ہو لیکن بغیر تحقیق کے ہم کسی کو بھی قصور وار نہیں ٹھہرا سکتے۔