بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> معیشت پہلے سے بہتر، عوامی ردِعمل کے باوجود سخت فیصلے کیے
PM Imran Khan, Davos, World Economic Forum, Address

معیشت پہلے سے بہتر، عوامی ردِعمل کے باوجود سخت فیصلے کیے

لاہور(ویب ڈیسک): وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان صرف امن میں شراکت دار بنے گا۔ ہم ایران امریکا اور ایران سعودی عرب مذاکرات کی کوشش کرا رہے ہیں۔ ریاستیں مسائل کا حل جنگ میں کیوں ڈھونڈ رہی ہیں، جنگ شروع کی جاسکتی ہے لیکن اسے ختم کرنا کسی کے ہاتھ میں نہیں۔ اگر کسی ملک سے شراکت کی تو جنگ کے لیے نہیں امن کے لیے کریں گے۔

وزیراعظم نے عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوگا کیونکہ امن و استحکام کے بغیر معیشت کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو سب کے لیے تباہ کن ہوگا۔ افغانستان میں امن صرف افغان حکومت اور طالبان مذاکرات سے قائم ہو گا، اس میں رکاوٹیں ہیں لیکن یہ واحد حل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے لیے امن کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آپ کے معاشرے میں مسلح گروپ ہوں تو یہ ممکن نہیں ہوتا، نائن الیون کے بعد پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیا گیا۔ جب میں حکومت میں آیا تو یہ طے کیا کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ مسائل کے حل کا حصہ ہوں گے۔ افغانستان کے امن عمل میں پاکستان امریکا کو طالبان سے مذاکرات کے لیے تعاون کررہا ہے۔ اگر کسی ملک سے شراکت کی تو جنگ کے لیے نہیں امن کے لیے کریں گے۔ مشرق وسطی میں کشیدگی کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے تہران اور ریاض میں کشیدگی کم کرانے میں مدد کی۔ ہم کبھی کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ پاکستان افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کا کلچر اس وقت فروغ پایا جب افغان جہاد شروع ہوا۔ نائن الیون کے بعد ہم ایک بار پھر امریکا کی جنگ کا حصہ بنے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نائن الیون کےبعد پاکستان کو ایک بار پھر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، امن و سلامتی کے بغیر معاشی استحکام ناگزیر ہے۔ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان صرف امن میں شراکت دار بنے گا۔ ہم ایران امریکا اور ایران سعودی عرب مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ریاستیں مسائل کا حل جنگ میں کیوں ڈھونڈ رہی ہیں، جنگ شروع کی جاسکتی ہے لیکن اسے ختم کرنا کسی کے ہاتھ میں نہیں، نائن الیون کے بعد میں اکیلا ہی امریکی جنگ کے خلاف بول رہا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت کے صدر پرویز مشرف ہمیں بتایا کرتے تھے کہ صرف چند ہفتوں کی بات ہے، اربوں ڈالر اور لاکھوں جانیں گنوانے کے بعد ہمیں خیال آیا کہ ہم غلطی پر تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب میں وزیراعظم بنا تو پاکستان میں 10 بلین درخت لگانے کا اعلان کیا جس کے لیے خیبر پختونخوا کے ہمارے تجربے کو استعمال کیا۔ درخت لگانا ہمارے لیے دو معنوں میں ضروری ہے، ایک تو پاکستان میں ماحول کے لیے ضروری ہے اور دوسری آلودگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کیونکہ لاہور میں آلودگی بڑھ گئی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ اپنی معیشت کو امن و استحکام کے بغیر مستحکم نہیں کرسکتے، پاکستان نے افغان جنگ میں حصہ لیا اور جب روس افغانستان سے چلاگیا تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معدنیات کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے کبھی دریافت ہی نہیں کیا گیا، ہمارے پاس سونے، تانبے اور کوئلہ کے بہت بڑے بڑے ذخائر ہیں، پاکستان کے پاس سب سے بہترین زرعی زمین ہے، چین کی مدد سے ہم زرعی پیداوارو کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں سرمایہ کاری لارہےہیں، روزگار کے مواقع پیدا کیے۔ معیشت کی بحالی پر معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں،۔ وقت کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں استحکام آرہا ہے۔ حکومت ملی تو ملک تاریخ کے بڑے معاشی بحران کا شکار تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی رد عمل کے باوجود ہم نے سخت فیصلے کیے، اب ہماری سٹاک مارکیٹ اوپر جاری ہے اور معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے۔ خواہش ہے کمزور طبقے کو مواقع فراہم کروں۔ معاشی حالات کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ حکومت ملی تو ملک تاریخی خسارے کا شکار تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، ہم نے اب نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا پروگرام ترتیب دیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*