بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> دشمن کو ہر محاذ پرشکست دینے کیلئے عساکرِ پاکستان پُرعزم
دشمن

دشمن کو ہر محاذ پرشکست دینے کیلئے عساکرِ پاکستان پُرعزم

نظریہ پاکستان کی بنیاد پر حاصل کیا گیا وطن عزیزشروع دن سے ہی دشمن کا اولین ہدف رہا ہے۔دشمن نے ہر محاذ پر پاکستان کو شکست دینے کی کوشش کی ہے، وہ چاہے ملک کے اندر دہشت گردی ہو یا لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے اعلانیہ جنگ ، پاک فوج نے ان سب مشکل حالات کے باوجود ملک دشمن عناصر کا بھرپور صفایا کیا۔جب بھارت نے یہ دیکھا کہ پاکستان سے کھلم کھلا جنگ نہیں کرسکتے تو اس نے اپنی ناپاک ’’را‘‘ کے ذریعہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو پروان چڑھاناشروع کردیا جس کا واضح ثبوت بلوچستان سے پکڑا جانے والا حاضر سروس ایجنٹ کلبھوشن یادو ہے۔لیکن پاک فوج نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کا فیصلہ کررکھا تھا۔
گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفورنے راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے اور وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے، افواج پاکستان کی زیادہ تر توجہ بلوچستان کی جانب ہے، تاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو۔ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے اور یہاں دہشت گردی میں 99 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے دوران کی گئی کارروائیوں کے اعدادشمار بتاتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت 44 بڑے آپریشن کیے گئے جس کے دوران ملک سے 32 ہزار سے زائد ہتھیار ریکور کیے گئے۔
اس حوالے سے ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا آپریشن سوات میں 2007 میں شروع کیا تھا جس کا نام آپریشن ’’راہِ حق‘‘ رکھا گیا۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں بڑی کامیابیاں حاصل کر کے سوات میں امن بحال کیا لیکن بیرونی قوّتوں کی مدد سے دہشت گردوں نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا تو مئی 2009 میں پاک فوج نے ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ’’راہِ راست‘‘شروع کیا اور امن کو بحال کرنے کے لیے کئی قربانیاں پیش کیں۔جون 2009 میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف ایک اور منظم آپریشن شروع کیا جس کا نام آپریشن ’’راہِ نجات‘‘رکھا گیا۔ پاک فوج نے اس آپریشن میں بھی بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانے اور مراکز تباہ کئے اور قبائلی علاقوں میں امن قائم کیا۔ چند سال ملک میں امن و امان کی صورتحال قائم رہی لیکن پھر اس کے بعد دہشت گردوں نے ملک کے اند ر اچانک سے دوبارہ سر اٹھا لیا اور کئی محب وطن افراد، لیڈرز کا قتل عام کیا اور پھر سب سے بڑا حملہ آرمی پبلک اسکول کے معصوم طلباء پر کیا جو کہ پاکستان کے لیے ایک بہت ہی بڑا دھچکا تھا۔ اس حملے کے بعدافواجِ پاکستان نے بھی دہشت گردی کے خلاف ملک بھرمیں سب سے بڑا آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کیا۔اس آپریشن کے نتیجے میں پاک فوج نے دہشتگردوں کے 185 اہم کمانڈرز اور 3500 امن دشمنوں کو جہنم واصل کیا۔ملک میں امن و امان کی ایک فضاء قائم ہوگئی اور دوسا مکمل امن و سکون کے گزرے۔ آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی کامیابیوں کو دنیا نے سراہا، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بھی لکھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جیت رہا ہے۔اس کے چند سال بعد ایک بار پھر دہشتگردی نے سر اٹھانا شروع کیا توپاک فوج نے باضابطہ طور پر 22 فروری 2017 ء کو ملک بھر میں آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کا آغاز کیا۔آپریشن رد الفساد ان ملک دشمن عناصر کے خلاف شروع کیا گیا جنہوں نے ملک کا امن خراب کیا یا پھر دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینے والوں کے خلاف ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*