بنیادی صفحہ -> Uncategorized -> رپورٹ -> مصیب الرحمن انٹر نیشنل فروغِ اُردو ایوارڈ ،سپیشل فروغِ اُردو ایوارڈ
عالمی شہرت یافتہ

مصیب الرحمن انٹر نیشنل فروغِ اُردو ایوارڈ ،سپیشل فروغِ اُردو ایوارڈ

ٌٌبسم اللہ الرحمن الر حیم

۲۴واں سالانہ عالمی مشاعرہ بیادِ مشتاق احمد خان یوسفی ۲۰۱۸ء
۲۲واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۲۰۱۸ء
مصیب الرحمن انٹر نیشنل فروغِ اُردو ایوارڈ ،سپیشل فروغِ اُردو ایوارڈ
دوحہ(رپورٹ: سیّد مشفق رضا نقوی )عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیرِاہتمام انعقاد پذیر سالانہ تقریب میں المحترم شبیب بن عرارالنعیمی ، ڈاکٹر حافظ جنید عامر سیال،عزت مآب اشُد احمد،المحترم مقبول حبیب خلفان،جناب محمد عتیق ، جناب محمد صبیح بخاری نے ،ادبأ و شعرأ، عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں’’۲۲واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۲۰۱۸ء‘‘، اُردو زبان وادب کی تاحیات گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف میں مشترکہ طور پر پاکستان سے نامور ادیب و دانشور پروفیسرڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اور ہندوستان سے معروف فکشن نگارجناب سیّد محمد اشرف ؛ قطر میں فروغِ اُردو ادب کے لیے کوشاں جناب حسن عبدالکریم چوگلے اور جناب سیف الرحمان کو مشترکہ طور پر’’ مصیب الرحمن انٹرنیشنل فروغِ اُردو ایوارڈ ‘‘اور’ ’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ‘‘ مشترکہ طور پر جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔
۱۹۹۶ ؁ء سے تاحال تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہر سال ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی ادیب کی خدمت میں پیش کیا جانے والا ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ ایک لاکھ پچاس ہزارروپے کیش اور طلائی تمغے پر مشتمل ہے۔ ۱۹۹۶ ؁ء میں اجرأ پذیر ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘احمد ندیم قاسمی اور پروفیسر آلِ احمد سرور سے لے کر اب تک ۲۲ پاکستانی اور۲۲ہندوستانی نثر نگاروں کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ‘‘دنیائے اُردو میں درجۂ استناد حاصل کیے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ دنیائے اردوکے ہرادبی فورم اور انفرادی سطح پر بھی پاک و ہند کے آزاد و خود مختار پینل آف ججزکے فیصلے کی توثیق کی جاتی ہے۔

مجلس کی سالانہ تقریبات کے سلسلے کی پہلی کڑی ’’تقریبِ پذیرائی برائے ایوارڈیافتگان‘‘ہے،جس کی میزبانی کا شرف گذشتہ بائیس سال سے چیرمین مجلس محمد عتیق اور رکن سرپرست کمیٹی بیگم شمیم عتیق کو حاصل ہے ، تقریبِ پذیرائی بتاریخ ۱۴/ نومبر۲۰۱۸ء بروز بدھ ، انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل دوحہ سٹی میں ایوارڈ یافتگان پروفیسرڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اورجناب سیّد محمد اشرف؛جناب حسن عبدالکریم چوگلے اور جناب سیف الرحمان ؛ جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت کے اعزاز میں ہونے والی تقریب کی صدارت پروفیسر شافع قدوائی نے کی ،مہمانانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم اور پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی تھے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرتاش سیّدنے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔
ڈاکٹر فرتاش سیّد نے مصیب الرحمن انٹر نیشنل فروغِ اُردو ایوارڈ اور سپیشل عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ونرزجناب حسن عبدالکریم چوگلے، جناب سیف الرحمان ، جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت کی فروغِ اُردو ادب کے لیے کاوشوں اور اچیومنٹس پر سیرحاصل گفتگو کی۔ جناب حسن عبدالکریم چوگلے، جناب سیف الرحمان ، جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت نے ایوارڈ کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق اور ان کے رفقائے کار کا شکریہ اداکیا۔

پروفیسرشافع قدوائی نیسیّد محمد اشرف کی فکشن نگاری پرتفصیلی روشنی ڈالی ۔انھوں نیسیّد محمد اشرف کے فنی سفر کا احاطہ بڑے دلکش اور مربوط انداز میں کیا۔اُنھوں نے صاحبِ اعزاز کے افسانوں اور ناول کے موضوعات اور کرداروں کا تجزیہ بھرپور انداز میں کیا۔اُنھوں نے سید محمد اشرف کے اہم اور معروف ناول’’نمبردار کا نیلا ‘‘پرتفصیلی گفتگو کی۔
محترم سید محمد اشرف نے کلماتِ سپا س و قبولیت AcceptanceSpeech)) عطا کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ کا مستحق قراردینے پرمیں ہندوستان جیوری کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور اراکینِ جیوری پروفیسرشافع قدوائی، محترم راشد انور راشد اورنصرت ظہیراحمد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انھوں نے چیرمین مجلس محمد عتیق اور مجلس کے جملہ ذمے داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوارڈ کوقبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔اُنھوں نے اپنے تصورِ ادب پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جب میں نے لکھنا شروع کیا تو میرے ذہن میں چند سوالات پیداہوئے اور کہ میں کیوں لکھتا ہوں۔میرے نزدیک لکھنا بڑی ذمے داری کا کام ہے کیوں کہ لکھنے کا شعور ایک طرح سے لکھنے والے کو ودیعت ہوتا ہے۔دھیرے دھیرے مجھے احساس ہوا کہ فکشن لکھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں کہ لکھنا کوئی وقتی چیز نہیں ۔ زمانہ گزرتا رہتا ہے لیکن زمانے کی روح کبھی نہیں مرتی کیوں کہ فکشن اپنے زمانے کی روح کا محافظ ہوتا ہے۔
معروف ادبی شخصیت پروفیسر ڈاکٹرتحسین فراقی نے پروفیسرڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی کے شخصی و فنی خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروفیسرڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی متوازن،متحمل اور خوشگوار شخصیت کے مالک ہیں۔
اُنھوں نے پروفیسرڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی کے فنی اکتسابات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اُنھیں دورِ حاضر کا اہم ادیب و دانشور قرار دیا۔اُنھوں نے صاحبِ اعزاز کا اپنے داد ا نامورمحقق حافظ محمود شیرانی کے تحقیقی کام کو مربوط انداز میں مدون کرنے پر اُن کے قلم کی روانی پر رشک کا اظہار کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی نے کلماتِ سپا س و قبولیت AcceptanceSpeech)) عطا کرتے ہوئے کہا کہ ایوارڈ کا مستحق قراردینے پرمیں پاکستان جیوری کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اور اراکینِ جیوری پروفیسرڈاکٹر سلیم اختر،پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی اور ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انھوں نے چیرمین مجلس محمد عتیق اور مجلس کے جملہ ذمے داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوارڈ کوقبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔اُنھوں نے اپنے تصورِ ادب پربھی سیرحاصل گفتگو کی۔
میزبانِ تقریب اور چیرمین مجلس محترم محمدعتیق نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے جملہ مہمان شعرأ و ادبا اور حاضرینِ مجلس کو خوش آمدید کہا اُنھوں نے بطورِ خاصپروفیسرڈاکٹر مظہرمحمود شیرانی،سیّد محمد اشرف ،جناب حسن عبدالکریم چوگلے ، جناب سیف الرحمان، جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت کا تقریبِ پذیرائی میں بنفسِ نفیس شرکت کرنے پراُن کا شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے ہند و پاک کے پینل آف ججز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹرگوپی چند نارنگ،پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی اور اراکین جیوریز کا بھی شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے مجلس کی سرپرست کمیٹی کے اراکین اور مجلسِ انتظامیہ کے عہدیداران و اراکین کی پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے کوششوں کوبھی سراہا۔

پروفیسرشافع قدوائی نے صدارتی کلمات عطاکرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فرتاش سید کی کامیاب نظامت کے بارے میں بہت سے ستائشی کلمات بولے جا رہے ہیں لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ اِن کی ستم ظریفی ہے کہ جو شخص آپ کی سمع خراشی کرتا رہا ہے انھوں نے ایک بار پھر آپ کے کانوں کو اس کے سپرد کردیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ یہ ایوارڈ اور اس کا اہتمام واقعی بہت منفرد ہے۔ اُردو کے سلسلے میں اتنی جانفشانی اور اس قدر اہتمام کم از کم میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی ملک میں بھی ایساہورہا ہو۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ملک مصیب الرحمن نام و نمود کو پسند نہیں کرتے تھے اور بالکل پس منظر میں رہ کر کام کرتے تھے اوریہ روح جو وہ چھوڑ گئے ہیں ،عتیق صاحب اور اُن کی پوری ٹیم میں موجود ہے۔اہلِ مجلس نام کو نمایاں کرنے کے بجائے صرف کام کرتے ہیں۔پُر تکلف عشائیہ کے بعد یہ خوب صورت اور مؤقر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
۱۵/نومبر۲۰۱۸ء ؁ بروز جمعرات ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیر انتظام و انصرام بائیسویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کیِ تقسیم اور سالانہ عالمی مشاعرہ کی تقریب سٹی سنٹرروٹانا ہوٹل دوحہ میں منعقد ہوئی۔ جس میں پاکستان ، ہندوستان،برطانیہ ،کویت اور قطر کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کی۔مہمانانِ خصوصی المحترم شبیب عرارالنعیمی( جنرل مینیجر قطر پوئٹری سنٹر، دیوان العرب)،سفارت خانۂ پاکستان کے کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ڈاکٹر جنید عامر سیال،عزت مآب اشُداحمد(سفیر بنگلہ دیش)اورالمحترم مقبول حبیب خلفان (سابق جنرل مینیجر دوحہ بنک)تھے،پاکستان سے معروف شاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی ،ہندوستان سے معروف نقاد و دانشور پروفیسرشافع قدوائی اور نامور شاعر پروفیسر عباس تابش بطور مہمانانِ گرامی تقریب میں شریک تھے، جب کہ نظامت کے فرائض فرقان احمد پراچہ نے سرانجام دیے ۔
تقریبِ کے پہلے حصے میں، مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے نائب صدر جاوید ہمایوں اورجوائنٹ سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے شرکائے تقریب کا پُر تپاک استقبال کیا۔
تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حافظ نعمان نوازنے حاصل کی۔چیرمین محمد عتیق نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان پروفیسرڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اورجناب سیّد محمد اشرف؛جناب حسن عبدالکریم چوگلے اور جناب سیف الرحمان ؛ جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت کو مبار ک بادپیش کی۔انھوں نے بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن(مرحوم) کی ہر دلعزیز شخصیت اور ان کی لازوال ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب میں میں اپنے عزیز دوست اور بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن کی کمی کوشدت سے محسوس کررہا ہوں۔ مزید برآں انھوں نے یہ اعتراف بھی کیاکہ بعض ادب پرور اور ادب نواز اداروں اور شخصیات کی معاونت،ہمارے فروغِ اردو کے سفر کو آسان بنائے رکھتی ہے، ہم ان سب کے سپاس گزار ہیں۔
سیّد محمد صبیح بخاری نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے مجلس کے سپانسرز کے حسنِ تعاون اور شائقینِ شعروادب کی تشریف آوری پر اُ ن کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے مجلس کی تقریبات کے کامیاب انعقادپر مجلسِ انتظامیہ کے عہدیداران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔انھوں نے مزید کہا کہ شاعری لازوال چیز ہوتی ہے،گفتگو اور مکالمے تو ختم ہو جاتے ہیں لیکن شاعر کا کہا ہوا شعر ہمیشہ زندہ رہتا ہے کیونکہ شاعری میں جذبات،احساس اور انقلاب کی بات زیادہ مؤثر انداز میں کی جاتی ہے۔رضا حسین رضا،سانول عباسی اور جاوید بھٹی نے ایوارڈ یافتگان کی Citations (تعارف)پیش کیں۔

المحترم شبیب بن عرارالنعیمی ، ڈاکٹر حافظ جنید عامر سیال،عزت مآب اشُد احمد،المحترم مقبول حبیب خلفان،جناب محمد عتیق ، جناب محمد صبیح بخاری نے ،ادبأ و شعرأ، عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں’’۲۲واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ۲۰۱۸ء‘‘، اُردو زبان وادب کی تاحیات گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف میں مشترکہ طور پر پاکستان سے نامور ادیب و دانشور پروفیسرڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اور ہندوستان سے معروف فکشن نگارجناب سیّد محمد اشرف ؛ قطر میں فروغِ اُردو ادب کے لیے کوشاں جناب حسن عبدالکریم چوگلے اور جناب سیف الرحمان کو مشترکہ طور پر’’ مصیب الرحمن انٹرنیشنل فروغِ اُردو ایوارڈ ‘‘اور’ ’خصوصی عالمی فروغِ اُردو ایوارڈ ‘‘ مشترکہ طور پر جناب عظیم عباس اور جناب کامران رحمت کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔معزز مہمانوں نے مشترکہ طور پرایوارڈ یافتگان کی تخلیقات پر معروف و نامورناقدینِ ادب کے لکھے گئے مضامین اور یادگار تصاویر پر مشتمل مجلس کے سالانہ ضخیم مجلے کی رونمائی بھی کی۔کاروانِ اُردو قطرکے جنرل سیکرٹری ،دوحہ کی اہم ادبی شخصیت اورمترجم شاہد خان کی کتاب’’اسلام اور فنونِ لطیفہ ‘‘کی رسمِ اجرأ بھی عمل میں آئی۔
المحترم شبیب بن عرارالنعیمی نے کہا کہ اِس ادبی محفل میں آکر مجھے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے۔شعروادب کی محفل ایک مثبت سرگرمی ہے اور دنیا کے ہر تہذیبی ورثے میں ادب کو خاص مقام حاصل ہے۔اُنھوں نے مزید کہا کہ قطر میں بھی ’’مرکزِ اشعار‘‘ ایسی ہی سرگرمیوں کا مرکز ہے جہاں شعرأ اکٹھے ہو کر اپنی قوم کو پیغام دیتے ہیں جو شعر اور تہذیب کی تاریخ ہے۔اُنھوں نے اعزاز یافتگان اور چیئرمین مجلس اور اُن کی پوری ٹیم کو بھی غیرمعمولی تقریب کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
کمیونٹی ویلفیئر اتاشی ڈاکٹر جنید عامر سیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج مجھے اِس تقریب میںآ کر بہت خوشی ہوئی ہے،وہ اِس لیے کہ یہاں موجود تمام شرکأ اُردو زبان و ادب کی محبت میں آئے ہیں۔ اِس سے یہ بات بھی پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ اِس مادیت پرست دور میں جب کہ سیکڑوں زبانوں کو اپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہے اور آئے روز بیسیوں زبانیں ختم ہو رہی ہیں ،ایسے میں اُردوکا ہمارے ریجن کی اہم اور بڑی زبان کے طور پر سامنے آنا،اپنے وجودکا احساس دلانا اورفروغ پذیر ہونا،خوش آئند بات ہے۔اُنھوں نے اعزاز یافتگان کو مبارک باد پیش کی۔ مزید برآں اُنھوں نے چیئرمین مجلس جناب محمدعتیق، مجلسِ انتظامیہ کے صدر فرتاش سید اور اُن کے جملہ رفقائے کار کو بھی کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
فرقان احمد پراچہ نے پہلے دورکے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے زمامِ نظامت، تالیوں کی گونج میں معروف شاعرو ادیب ،ناظمِ مشاعرہ اور مجلسِ انتظامیہ کے صدر ڈاکٹر فرتاش سیّد کے حوالے کر دی۔
نامور مزاح نگارحضرت مشتاق احمد خان یوسفی کے نام سے معنون و منسوب اس عظیم الشّان اور یادگار عالمی مشاعرے میں پاکستان سے میرِ مشاعرہ پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم ،پروفیسرڈاکٹرتحسین فراقی ؔ ، جناب عباس تابش ،ڈاکٹر فرتاش،جناب سیّد سلمان گیلانی،جناب شکیل جاذب ،ہندوستان سے جناب طاہر فرازؔ ،جناب منظر بھوپالی،جناب ابرار کاشف ،لندن سے جناب احسان شاہد،کویت سے جناب خالد سجاد احمد تشریف لائے ؛ جناب عتیق انظر،جناب روئیس ممتاز اور محترمہ فرزانہ صفدر نے قطر کی نمائندگی کی۔
اِس شاندار مشاعرے کا آغاز میرِ مشاعرے نے صدارتی کلمات اورصدارتی کلام سے کیا۔حضرت پیرزادہ قاسم نے تقریب کو غیرمعمولی قرار دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح روح نظر نہیں آسکتی جب تک اُسے کوئی جسم نہ ملے،اِسی طرح تہذیبیں دکھائی نہیں دیتیں جب تک وہ کچھ روایتوں کے ذریعے اپنا اظہار نہ کریں۔برِصغیر کی عظیم الشان مسلم تہذیب نے اپنے اظہار کے لیے جو راوایات پیداکیں اُن میں سے ’’مشاعرہ‘‘ایک اہم تہذیب ہے۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مجلس کے چیئرمین جناب محمد عتیق اور اُن کے جملہ رفقائے کار کا سپاس گزار ہونا چاہیے جنھوں نے ہم سب کو اِس عظیم عمل میں شریک کیا۔

اِس یادگار اور ناقابلِ فراموش مشاعرے میں شعراے کرام نے اپنی خوبصورت شاعری اور ناظمِ مشاعرہ نے اپنی علمیت و ادبیت ، برجستگی و بے ساختگی اور جوش و ولولے سے سامعین کو مشاعرے کے آخر ی مرحلے تک ہم آہنگ اور مربو ط رکھا ۔اِس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ کوئی ایک بھی ایسا شاعر نہیں تھا جس نے اپنے خوب صورت اشعار پر داد نہ سمیٹی ہواور یوں دلوں کو چھُو جانے والے اشعار پیش کر کے شعرائے کرام نے مشاعرے کو یادگار بنا دیا۔۔صبح دوبجے تک جاری رہنے والے اِس عظیم الشان،تاریخی اور یادگار سالانہ عالمی مشاعرے میں سیکڑوں شائقینِ ادب نے شروع سے آخر تک تالیوں اور واہ وا ، داد و تحسین ،آفریں آفریں ،بہت خوب ،بہت خو ب اورسبحان اللہ، سبحان اللہ جیسے دلپذیراوربے ساختہ حروفِ تحسین اورتبصروں سے مشاعرے کو بیدار سماعتوں اور پورے وجود کے ساتھ سماعت کیا۔ شائقین و سامعین نے مذکورہ عالمی مشاعرہ۲۰۱۸ء پر تبصرہ کرتے ہوئے،اسے دوحہ قطر کی تاریخ کا کامیاب ترین مشاعرہ قرار دیا۔شعرائے کرام کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:
پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم( میرِ مشاعرہ):
یاد کیا دستِ ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں
اُس کو سوچا تو اُسے یاد ہی کرتا گیا میں
اِس کو تہذیبِ جنوں کہیے کہ مجھ سے پہلے
جیسے بکھرے ہیں سبھی لوگ بکھرتا گیا میں
پروفیسرڈاکٹرتحسین فراقی:
مجھ سا انجان کسی موڑ پہ کھو سکتا ہے
حادثہ کوئی بھی اِس شہر میں ہو سکتا ہے
سطحِ دریا کا یہ سفاک سکوں ہے دھوکا
یہ تری ناؤ کسی وقت ڈبو سکتا ہے
جناب عباس تابش :
؂غیر مانوس سی خوشبو سے لگا ہے مجھ کو
تونے یہ ہاتھ کہیں اور ملایا ہوا ہے
؂ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
جناب طاہر فرازؔ :
کبھی میں جو کہ دوں محبت ہے تم سے
تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا
کہ میری ضرورت ہو تم
بہت خوب صورت ہو تم
جناب منظر بھوپالی:
خوب صورت یہ محبت میں سزا دی اُس نے
پھر گلے مل کے مری عمر بڑھا دی اُس نے
بے وفا کون ہے میں پوچھ رہا تھا اُس سے
وہ ہنسا پھر مری تصویر دکھادی اُس نے
ڈاکٹر فرتاش سیّد(ناظمِ مشاعرہ):
جو آ گئی لب پہ وہ کتھا ہے، جو اَن کہی ہے وہ شاعری ہے
کہ بس میں ہوتے ہوئے بھی یارو! و بے بسی ہے وہ شاعری ہے
فراق اور وصل کے مضامیں تو نقش ہیں پتھروں کے رُخ پر
پھسل کے مٹھی سے یادِ یاراں جو گر گئی ہے وہ شاعری ہے
جناب سیّد سلمان گیلانی:
دیکھ کر ڈاڑھی مری تو مجھے ملّا نہ سمجھ
میرے سر پرمری ٹوپی کے اضافے کو نہ دیکھ
ظاہری حلیہ مرا تک کے پریشان نہ ہو
میرے مضمون کو پڑھ، میرے لفافے کو نہ دیکھ
جناب شکیل جاذب:
؂تُو ایک حرفِ ملامت کو عمر بھر ترسے
میں کم سخن ہوں یہی انتقام ہے میرا
؂ہم آپ کے ہیں ، آپ کے قدموں میں پڑے ہیں
اِک شخص ہمارا ہے مگر اور کہیں ہے
جناب ابرار کاشف:
پھینکا ہوا کسی کا نہ چھینا ہوا ملے
مجھ کو مرے نصیب کا لکھا ہوا ملے
رونے کا بھی ثبوت عدالت کو چاہیے
آنسو ہمارے گال پہ ٹھہرا ہوا ملے
جناب خالد سجاد احمد:
پرائے دیس میں جب گھر کی یاد آتی ہے
شجر لگا کے پرندے بلایا کرتا ہوں
بچھڑنے والا اگر یاد آئے تو خالدؔ
کسی درخت پہ دو دل بنایا کرتا ہوں
جناب احسان شاہد:
پھر سے درپیش یہ صورت نہیں ہونے والی
اب مجھے کوئی محبت نہیں ہونے والی
اب اگر لوٹ کے آ بھی تو میں جانتا ہوں
پہلے جیسی مری حالت نہیں ہونے والی
جناب عتیق انظر:
بڑا نقصان کیا دونوں نے نفرت کر کے
آؤ اب دیکھ لیں تھوڑی سی محبت کر کے
ہجر کے زہر سے دونوں کے بدن ہیں نیلے
آ چمک جائیں کوئی وصل کی صورت کر کے
جناب روئیس ممتاز:
میں کہ میرا حال کیا ہے اُن سے ہی پوچھوں گا میں
وہ کہ حالِ دہر بھی ہو خود سے ہی پوچھیں گے وہ
میں کہ میں ہوں زخم خوردہ کیوں نہیں تڑپوں گا میں
وہ کہ وجہِ زخمِ دل ہیں کس لیے تڑپیں گے وہ
محترمہ فرزانہ صفدر:
تم چھوڑ کے رخصت ہو جاؤ، اور ختم کہانی ہو جائے
ہم نے کب ایسا چاہا تھا برباد جوانی ہو جائے
بے نام اُداسی چھائی ہے اور رات بھی گہری کالی ہے
تم ہم سے ملنے آ جاؤ یہ رات سہانی ہو جائے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*