بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> عورت، آزادی، کام اور مارچ
ویلنٹائن ڈے

عورت، آزادی، کام اور مارچ

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
مرد ہو یا عورت ،آزاد کوئی نہیں ہوتا۔جہاں انسان ہے وہاں قید ہو گی۔۔کوئی نظریات کا قیدی، کوئی روایات کا قیدی، کوئی رشتوں کا قیدی، کوئی سماج کا قیدی، کوئی سوچ کا قیدی اور کوئی قانون کا قیدی۔ہاں آزاد ہوتا ہے مگر حیوان، جس کے لئے نہ تو کوئی حد مقرر ہے اور نہ ہی قانون۔
سوشل اینیمل یا معاشرتی جانور بولتے ہیں انسان کو۔ یعنی انسان کو ممتاز کیا جانور سے لفظ سوشل نے۔ یہ لفظ سوشل محض چند رشتوں کا نام نہیں بلکہ ایک سسٹم کا نام ہے۔ یہی وہ لفظ ہے جب کسی صاحبِ تنفس کے ساتھ لگتا ہے تو اسے قید کر دیتا ہے ؛ کسی نہ کسی کا، کسی نہ کسی انداز میں اور کسی نہ کسی حد تک ۔
جہاں انسان ہو گا، وہاں رشتے ہوں گے، جہاں رشتے ہوں گے وہاں واسطے ہوں گے، جہاں واسطے ہوں گے باہمی انحصار ہو گا ۔۔ اسی سے بنتا ہے یہ معاشرہ۔ آپ کہاں رہتے ہیں، کن میں رہتے ہیں اور کن کے ساتھ رہتے ہیں۔۔ جتنے بھی آزاد ہوں مگر ہیں آخر قید ہی۔ ان Norms کے قید جو آپ کوسکھاتے ہیں کہ رہنا کیسے ہے۔ بس انہی اقدار کی قید ہی انسان اور حیوان میں فرق کرتی ہے۔
بغیر اس بحث کے کہ مرد یا عورت، انسان جب ماں کے پیٹ سے نکلتا ہے تو قید ہو جاتا ہے ان Norms کا۔ وہی بولتا ہے جو سماج چاہتا ہے، وہی کھاتا ہے جو سماج اسے کھلاتا ہے، وہی سیکھتا ہے جو معاشرہ اسے سکھاتا ہے۔ اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ اپنے جسم کی حفاظت کر سکے۔ معاشرہ ہی اس گوشت کے ٹکڑے کو جسم میں ڈھالتا ہے اور پھر یہ جسم اس معاشرے اور اس کی Norms کا مرنے تک قید رہتا ہے۔ صرف مرنے تک ہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی اس جسم کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو سماج اور اس کے اقدار چاہتے ہیں۔
بغیر اس بحث کے کہ مرد یا عورت، انسان قید ہے اور تاریخ گواہ ہے جب بھی انسان نے اس قید سے آزاد ہونے کی کوشش کی،تو ایسی کیفیت سے دوچار ہوا جسے حیوانیت کا نام دیا گیا۔
یہ کھانا، یہ کمانا، بحث یہ نہیں کہ کام کس کا بلکہ بحث یہ کہ کام اہم ہے اور ذمہ داری کا ہے۔ یہ ہرگز بحث نہیں کہ کون اولیٰ ہے اور کون غیر اولیٰ اور نہ ہی یہ بحث کہ کیا ابتر ہے اور کیا برتر۔ ہر ایک کی اپنی اپنی اہمیت ہے، اپنی اپنی ذمہ داری ہے اور اپنا اپنا کردار ہے۔ ہاں مگر کام کی ایک نیچرل تقسیم ہے ۔
جسم کی مثال لے لیں؛دل ، معدہ، گردے، پھیپھڑے ؛ سب کا اپنا اپنا کام ہے۔ مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پھیپھڑوں کی اہمیت زیادہ ہے اور گردوں کی وقعت کم۔ ہر عضو کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے اور سسٹم کو چلانے میں اس کا کردار ہے۔ اسے کہتے ہیں Natural Division of Labour یعنی ہرOrgan اپنا اپنا کام کر رہا ہے قدرتی طور پر۔ اگر ان میں سے کوئی عضو کام کرنا چھوڑ دے تو مجموعی طور پر سسٹم متاثر ہو گا ۔ اسی طرح اگر پھیپھڑے کا کام دل سے لینا چاہیں یا گردے کو نظام انہضام کے افعال پر لگا دیں تو بھی تباہی ہو گی۔
یہاںبھی ہر کسی کا کام اہم ہے ۔ اس سسٹم میں بھی ہر ایک اہم ہے اورہر ایک بنیادی بھی ۔لیکن یہاں بھی Natural Division of Labour ہے۔ اس Division میں کچھ کام مرد کے لئے فطری طور پر مناسب ہیں اور کچھ خواتین کے لئے۔ نہ تو کمانا غیر اہم ہے اور نہ ہی گھر چلانا۔ جتنا بچو ں کے لئے کھانے کو لانا اہم ہے اتنا ہی اہم انہیں کھلانا ہے۔ جتنا کمانا اہم ہے اور اس سے زیادہ اہم بچوں کی تربیت اور انہیں پالنا ہے۔ بات برابری کی نہیں بلکہ اہمیت کی ہے، ذمہ داری کی ہے ، باہمی تعاون اور اتفاق کی ہے۔ کسی بھی جگہ ایک پہلو کو غیر اہم تصور کریں، تو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
عورت سب کچھ کر سکتی ہے مگر غیر معمولی حالات میں اور اسی طرح مرد بھی ۔ ہاں معمول کے حالات میں ہر انسان اپنی نیچرل کیمسٹری اور فزکس کے مطابق ہی کام کرے گا۔ وہ کرے گا جونیچر نے اس کے لئے مناسب سمجھا ہے اور جس کے لئے نیچر نے اسے بنایا ہے۔ہاںکائنات کا ایک اصول ہے، جب بھی نیچر کے خلاف جائیں گے، نتیجہ تباہی ہو گا۔
بظاہر ٹانگیں بھی دو ہیں اور بازو بھی، دونوں کا کام الگ ہے مگر مجموعی طور پر جسم کے لئے دونوں کی اپنی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ مناسب کیسے ہو گا کہ ٹانگوں کو بازﺅں کے کام پر لگادیں اور بازﺅوں کو ٹانگو ں کے کام پر۔
یہ عورت مارچ اور اس کی عورتیں، درحقیقت حقوقِ نسواں کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ اس معاشرے کے خلاف سازش ہے جہاں عورت کی بنیادی اہمیت اور اس کا اہم مقام ہے۔ غلط ہے یہ جہیز، جبری شادی، تقسیمِ جائیداد میں ناانصافی، گھریلو تشدد، تعلیم سے محرومی، غیرت کے نام پر قتل؛ لیکن ان زیادتیوں کے خلاف آوازوں میں جب غیر فطری خواہشات ،سماج مخالف مطالبات اور بغاوت زدہ خیالات ملتے ہیں تو انہیں متنازع کر دیتے ہیں اور حقوق نسواں کے حامی محرکات کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ یہ عورت مارچ اور اس کی عورتیں ، ان کے بینرز اور ان کے نعرے، ان عورتوں کی وجہ سے آج شاید عورت بھی شرمندہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*